“Unity of Dogs, Defeat of Humanity”

Unity of Dogs, Defeat of Humanity

سخن سرائے
کتوں میں اتحاد، انسانیت کی شکست
“Unity of Dogs, Defeat of Humanity”

golden guest house

 

از قلم: نعیمہ گوہر

رات کے پچھلے پہر ایک کتے نے کسی آہٹ کو محسوس کیا تو نہایت چستی اور تندہی کے ساتھ بھونکنا شروع کر دیا۔ اس کی آواز کے جواب میں دوسری سمت سے ایک اور آواز ابھری، پھر تیسری آواز بھی شامل ہوگئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہو، گویا کتوں کے درمیان کوئی بیت بازی چل رہی ہو۔ کچھ دیر تک یہ شور اسی طرح گونجتا رہا، پھر آہستہ آہستہ یہ مقابلہ تھم سا گیا۔

اس شور و غوغا کے باعث محوِ خواب شہر کے لوگ جاگ اٹھے۔ غیر متوقع بیداری پر گھڑی دیکھی تو فجر کا وقت ہو چکا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ مسجد جانا تھا، مگر ڈر تھا کہ کہیں راستے میں کتوں سے سامنا نہ ہو جائے۔ خوف کے عالم میں ایک دوسرے کو فون کیے گئے، دو تین افراد نے حامی بھری کہ وہ بھی ساتھ چلیں گے۔

سب اپنے اپنے گھروں کے دروازوں تک آئے، آہستگی سے دروازہ کھولا اور جھانک کر دیکھا تو حیرت انگیز منظر سامنے تھا۔ کتوں کی پوری جماعت گلی کے کنارے نہایت ترتیب اور سکون کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی، جیسے کسی اشارے کی منتظر ہو۔

“اللہ کی پناہ!” کہتے ہوئے اشفاق صاحب نے ہمت کی اور گھر سے باہر قدم رکھا۔ ابھی دو تین قدم ہی آگے بڑھے تھے کہ ایک کتے نے بھونک کر جیسے حملہ کرنے کا اشارہ دیا۔ خوف کے مارے انہوں نے قدم تیز کیے، مگر جلدی میں راستے کے ایک پتھر سے ٹھوکر کھا کر گر پڑے۔ پیشانی پر گہری چوٹ آئی، خون بہنے لگا اور وہ وہیں بے ہوش ہوگئے۔

صبح کی اولین ساعتوں میں یہ سانحہ پیش آیا، مگر افسوس کہ کوئی انسان ان کی مدد کے لیے نہ آیا۔

انسان، جو تمام مخلوقات میں اشرف کہلاتا ہے…
آج ان کتوں سے بھی پیچھے رہ گیا۔

از قلم: نعیمہ گوہر
بھارت – تلنگانہ – ورنگل
حال مقیم کینیڈا