ramadan, fasting eid

​”Farewell Ramadan: The Aching Silence, The Vanished Glow, and The Second Day of Eid”

کالم اور تجزیے
​”Farewell Ramadan: The Aching Silence, The Vanished Glow, and The Second Day of Eid”
رمضان کی رخصت، یادوں کی کسک اور عید کا دوسرا دن

از : اکبر ضیاء

الوداعِ رمضان اور عید کا دوسرا دن: ایک اداس پکار
رمضان المبارک کی وہ پرنور سحریاں، وہ بابرکت افطاریاں، اور مسجدوں سے اٹھتی تلاوتِ قرآن کی وہ گونج… سب کچھ جیسے پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ ہم پیاس کی شدت میں اللہ کی رضا تلاش کر رہے تھے، اور آج عید کا دوسرا دن ہے— وہ دن جب خوشیوں کا ہنگامہ ذرا تھمنے لگتا ہے اور دل ایک عجیب سی خالی جگہ محسوس کرنے لگتا ہے۔

رمضان میں گھروں کی رونق ہی الگ ہوتی تھی۔ وہ سحری کے وقت برتنوں کی کھنک، دسترخوان پر دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہاتھ، اور مغرب کے انتظار میں لبوں پر جاری تسبیحات۔ آج باورچی خانے میں وہ ہلچل نہیں، دسترخوان پر وہ باجماعت انتظار نہیں ہے۔ وہ برکتیں جو فضا میں رچی بسی محسوس ہوتی تھیں، اب جیسے الوداع کہہ کر کسی دور دراز افق میں روپوش ہو گئی ہیں۔

رمضان ہمیں صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں سکھاتا تھا، بلکہ وہ تو ہمارے نفس کی اصلاح کا مہینہ تھا۔ ہم نے اپنے غصے کو لگام دی، اپنی زبان کو ذکر سے تر رکھا، اور ہر لمحہ اپنے خالق کی طرف رجوع کیا۔ لیکن آج عید کے دوسرے دن، جب زندگی اپنی پرانی ڈگر پر واپس آ رہی ہے، دل ڈرتا ہے کہ کہیں وہ روحانیت، وہ عجز اور وہ اللہ سے قربت کا احساس دوبارہ دنیا کی رنگینیوں میں گم نہ ہو جائے۔

ramadan fasting eid

ایک اداس احساسِ ندامت ہوتی ہےجب عید کا دوسرا دن اکثر ایک خاموش کرب ساتھ لاتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں:
کیا ہم نے اس رحمتوں کے مہینے کا حق ادا کیا؟ کیا وہ آنسو جو توبہ کی نیت سے گرے تھے، اللہ نے قبول کر لیے ہوں گے؟
وہ جو سجدوں میں سکون ملتا تھا، کیا ہم اسے باقی رکھ پائیں گے؟

رمضان گزر گیا، مگر رمضان کا رب تو ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔ اگرچہ سحری کی وہ برکتیں اور افطار کی وہ رونقیں رخصت ہو چکی ہیں، لیکن تقویٰ کا جو بیج ہمارے دلوں میں بویا گیا ہے، اسے سوکھنے نہیں دینا۔ عید کا دوسرا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اصل کامیابی رمضان گزار لینا نہیں، بلکہ رمضان کو اپنے اندر بسا لینا ہے۔
خدا کرے کہ ہمارے دلوں کی یہ رونق، اللہ کی طرف یہ رجوع، اور نیکیوں کا یہ سفر سال بھر یونہی جاری رہے۔ ہم مسافر ہیں اور یہ برکتیں اس سفر کا زادِ راہ تھیں۔

اللّٰہُمَّ اے ربِّ کریم!
ہمیں ماہِ رمضان کی برکتوں اور رحمتوں سے بھرپور حصہ عطا فرما۔
اے اللہ! ہم سے اس بابرکت مہینے میں رکھے گئے روزے، کی گئی عبادتیں، پڑھی گئی تراویح، اور دیے گئے افطار کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔

یا اللہ! ہماری کوتاہیوں، خطاؤں اور لغزشوں کو معاف فرما، اور ہماری عبادتوں کو اپنی رضا کا ذریعہ بنا دے۔
اے ربِّ رحیم! ہمیں آئندہ بھی بار بار ماہِ رمضان نصیب فرما، اور ہر بار ہمیں اس کی قدر کرنے، زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے اور تیرے قریب ہونے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! اپنے فضل و کرم اور بے پایاں رحمت کے ذریعے ہمیں نواز، ہماری زندگیوں کو خیر و برکت سے بھر دے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین 🤲

دستور نیوز ڈاٹ کام

Akbar zia