AIYF Founded in the Spirit of Bhagat Singh: 67th Foundation Day Highlights Youth Struggle and Vision
بھگت سنگھ کے خوابوں کی روشنی میں اے آئی وائی ایف کا قیام، 67واں یومِ تاسیس نوجوان جدوجہد کی علامت
حیدرآباد/ورنگل
(دستور نیوز ڈا ٹ کام)
بھارت کی نوجوان تحریک کی تاریخ میں آل انڈیا یوتھ فیڈریشن (AIYF) کا قیام ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 1959 سے قبل ملک بھر میں نوجوانوں کی تنظیمیں مختلف ریاستی اور علاقائی سطحوں پر سرگرم تھیں، تاہم ایک مضبوط قومی پلیٹ فارم کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے انقلابی کمیونسٹ رہنما گرو رادھا کشن نے اس سمت میں پہلا قدم اٹھایا اور دہلی میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جو بعد ازاں ایک ہمہ گیر قومی تحریک کی بنیاد ثابت ہوا۔
28 اپریل تا 3 مئی 1959 نئی دہلی میں منعقدہ بانی کانفرنس میں 11 ریاستوں سے زائد از 250 مندوبین اور مبصرین نے شرکت کی۔ چھ روزہ اجلاس کے دوران باضابطہ طور پر اے آئی وائی ایف کے قیام کا اعلان کیا گیا اور نوجوانوں کو سوشلسٹ نظریات کے تحت منظم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اس موقع پر عالمی تنظیم ورلڈ فیڈریشن آف ڈیموکریٹک یوتھ (WFDY) سے الحاق کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ عالمی سطح پر نوجوانوں کی جدوجہد میں شمولیت اختیار کی جا سکے۔
کانفرنس میں معروف اداکار بلراج ساہنی کو پہلا صدر منتخب کیا گیا، جبکہ شاردہ مترا جنرل سیکریٹری اور پی کے واسودیون نائر ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین مقرر ہوئے۔ 121 ارکان پر مشتمل کونسل تشکیل دی گئی، جس میں 37 رکنی ایگزیکٹو کمیٹی بھی شامل تھی۔
اے آئی وائی ایف کی بنیاد دراصل عظیم انقلابی بھگت سنگھ کے نظریات کی عکاسی کرتی ہے، جنہوں نے نوجوانوں کو سماجی تبدیلی کے رہنما کے طور پر دیکھا۔ ان کا خواب ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں ناانصافی، استحصال اور عدم مساوات کا خاتمہ ممکن ہو۔
آج جب اے آئی وائی ایف اپنا 67واں یومِ تاسیس منا رہی ہے، یہ موقع نہ صرف ماضی کی جدوجہد کو یاد کرنے کا ہے بلکہ مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کا عہد بھی ہے۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران تنظیم نے نوجوانوں کے حقوق کے لیے مسلسل آواز بلند کی ہے، خصوصاً بے روزگاری، تعلیمی عدم مساوات، صحت کی سہولیات کی کمی اور سماجی ناانصافی جیسے مسائل پر جدوجہد جاری رکھی ہے۔
موجودہ حالات میں ملک کو درپیش معاشی و سماجی چیلنجز، جن میں بے روزگاری میں اضافہ، تعلیم کی نجکاری اور جمہوری اقدار کو لاحق خطرات شامل ہیں، نوجوانوں کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ تلنگانہ میں بھی نوجوان سرکاری بھرتیوں میں تاخیر، تعلیمی اخراجات اور مواقع کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں اے آئی وائی ایف کی ریاستی کمیٹی بیداری پیدا کرنے اور جدوجہد کو تیز کرنے میں مصروف ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی وائی ایف محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک نظریہ اور تحریک ہے، جو نوجوانوں کو متحد کر کے سماجی تبدیلی کی جانب گامزن کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اختتامیہ پیغام:
نوجوانوں کا اتحاد ہی ملک کی اصل طاقت ہے اور مسلسل جدوجہد ہی حقوق کی ضمانت ہے۔
ڈاکٹر سید ولی اللہ قادری ایڈوکیٹ ریاستی صدر، تلنگانہ – قومی سیکریٹریAll India Youth Federation (AIYF)