muslims vote but dont demand post

The Test of Leadership Begins After Elections: If You Help a Party Win, You Must Also Demand Positions.

قومی
The Test of Leadership Begins After Elections: If You Help a Party Win, You Must Also Demand Positions.
Active Before Elections, Silent After Power—The Real Reason Behind the Decline of Muslim Representation
قیادت کا امتحان الیکشن کے بعد شروع ہوتا ہے۔پارٹی جتوائی ہے تو عہدے بھی مانگنے ہوں گے
انتخابات سے پہلے سرگرمی، بعد میں خاموشی—یہی ہماری سب سے بڑی نادانی۔ مسلم نمائندگی کے زوال کی اصل وجہ

 

اکبر ضیا ورنگل
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

کیا مسلم ذمہ داران کی ذمہ داری صرف ووٹ دلوانے تک ہے؟ ووٹ سے آگے بھی قیادت ہے۔عہدوں کے مطالبہ پر خاموشی کیوں؟
جس آواز سے ووٹ دلوائے گئے، اسی آواز سے عہدے کیوں نہ مانگے گئے؟انتخابات کے بعد مسلم قیادت کہاں غائب ہو جاتی ہے؟
سیاسی تائید کے بعد سیاسی جواب دہی بھی لازم۔ووٹ ڈالنا کافی نہیں، نمائندگی دلانا بھی ذمہ داری ہے ۔قیادت کا امتحان الیکشن کے بعد شروع ہوتا ہے۔ پارٹی جتوائی ہے تو عہدے بھی مانگنے ہوں گے۔ووٹ ہم نے دیا، اب حق بھی ہمیں چاہیے۔خاموش حمایت نہیں، باوقار مطالبہ وقت کی ضرورت۔ مسلمان ووٹ بینک نہیں، فیصلہ ساز قوم ہے۔ووٹ کے بعد آواز بند کرنا قیادت نہیں

ہم مسلمانوں کی یہ اجتماعی نادانی ہے کہ ہم انتخابات سے پہلے ووٹ دلوانے میں تو پیش پیش رہتے ہیں، مگر حکومت بننے کے بعد عہدوں، ٹکٹوں اور نمائندگی کے معاملے میں خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہی خاموشی ہمیں سرپنچ سے لے کر زیڈ پی ٹی سی، ایم پی ٹی سی، میونسپل کونسلر، چیئرپرسن اور میئر ، رکن اسمبلی، ایم ایل سی اور رکن پارلیمنٹ جیسے عہدوں سے دور رکھتی ہے۔

گزشتہ دنوں منعقدہ سرپنچ انتخابات مسلمانوں کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکر ثابت ہوئے ہیں۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ نہ تو کسی سطح پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ مسلمانوں کو کتنی نشستیں درکار ہیں، نہ ہی اس بات کا کوئی واضح ریکارڈ موجود ہے کہ کتنے مسلمان سرپنچ منتخب ہوئے۔ نہ کوئی منظم مطالبہ سامنے آیا، نہ کوئی اجتماعی حکمتِ عملی، اور نہ ہی نتائج کا ٹھوس تجزیہ کیا گیا۔

یہ خاموشی محض وقتی نقصان نہیں بلکہ آئندہ آنے والے زیڈ پی ٹی سی، ایم پی ٹی سی، ضلع پریشد چیئرمین اور بلدیاتی انتخابات پر براہِ راست اثر انداز ہونے والی ہے۔ سیاسی حقیقت یہ ہے کہ ضلعی چیئرمین اور دیگر اعلیٰ عہدوں کا دارومدار نچلی سطح—یعنی سرپنچ اور ایم پی ٹی سی کی تعداد—پر ہوتا ہے۔ اگر نچلی سطح پر ہماری تعداد کمزور رہے گی تو بالائی سطح پر نمائندگی محض خواب ہی رہے گی۔

یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سیاسی جماعتیں خود آگے بڑھ کر یہ نہیں کہیں گی کہ “آئیے، یہ سیٹیں لے لیجیے۔” سیاست میں جو مانگتا ہے، وہی پاتا ہے۔ جب تک ہم مضبوط، متحد اور مسلسل مطالبہ نہیں کریں گے، پارٹیوں کی خاموشی فطری رہے گی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم ذمہ داران، دانشوران، سماجی قائدین اور سیاسی کارکن خوابِ غفلت سے بیدار ہوں۔ چاہے کانگریس ہو، بی آر ایس ہو یا بی جے پی—مطالبہ سب سے ایک ہی ہونا چاہیے، منصفانہ نمائندگی، واضح تعداد اور باوقار حصہ داری۔

اگر آج ہم خاموش رہے تو کل مطالبہ کرنے کا موقف بھی ہاتھ سے نکل جائے گا ۔ لیکن اگر آج اجتماعی آواز بلند کی جائے، تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ سیاست میں خاموشی کبھی حکمت نہیں ہوتی—یہ اکثر پسپائی کی علامت بن جاتی ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہم منہ کھول کر، متحد ہو کر، حکمران جماعتوں سے وقت پر مطالبہ کریں —کیونکہ جو نہیں مانگتا، اسے کچھ نہیں ملتا۔

دستور نیوز ڈاٹ کام