Honoring Literary Figures in Their Lifetime — Grand Felicitation Ceremony Held in Secunderabad
اہلِ علم و فن کی حینِ حیات قدر افزائی قابلِ تقلید — سکندرآباد میں ایوارڈ یافتگان کے اعزاز میں شاندار تقریب

سکندرآباد، بیگم پیٹ:
دستور نیوز ڈاٹ کام
تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے شہر کے تین ممتاز شعراء کو باوقار اعزازات سے نوازنے کے موقع پر گزشتہ شب ایوانِ بقا، بیگم پیٹ میں ایک پروقار تہنیتی تقریب منعقد کی گئی۔ اس تقریب کا اہتمام معروف شاعر و منتظم سیف نظامی نے کیا، جنہوں نے ڈاکٹر محسن جلگانوی کو مولانا آزاد قومی ایوارڈ، مصحف اقبال توصیفی کو مخدوم ایوارڈ اور ظفر فاروقی کو کارنامۂ حیات ایوارڈ ملنے پر تہنیت پیش کی۔
تقریب میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے بنگلور سے نامور ادیب و نقاد ڈاکٹر راہی فدائی اور مہاراشٹر کے سابق سیشن جج و شاعر منظور ندیم شریک ہوئے۔
اہلِ قلم کی حینِ حیات تکریم ضروری — ڈاکٹر راہی فدائی
اپنے خطاب میں ڈاکٹر راہی فدائی نے کہا کہ اہلِ علم و فن کی قدر دانی ان کی زندگی میں کی جانی چاہیے، اس سے نہ صرف ان کا حوصلہ بڑھتا ہے بلکہ معاشرے میں علم و ادب کی توقیر بھی قائم رہتی ہے۔ انہوں نے اس محفل کو "یادگار نشست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں معیاری شاعر اور سنجیدہ سامعین دونوں موجود تھے۔
انہوں نے موجودہ مشاعروں کے معیار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"آج کل مشاعروں میں شاعری کم اور ڈرامہ بازی زیادہ ہوتی ہے۔ نہ کلام میں گہرائی ہے نہ زبان میں جدت۔ ایسی سطحی شاعری کی حوصلہ افزائی ادب کے لیے نقصان دہ ہے۔ شاعر کا کام سامع کو اپنی سطح تک لانا ہوتا ہے، نہ کہ خود سامع کے معیار تک اتر جانا۔”
انہوں نے ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
"یہ اعزازات حاصل کرنا صرف ان شعراء کا افتخار نہیں بلکہ ایوارڈ دینے والوں کی عزت میں بھی اضافہ ہے۔”
ساتھ ہی انہوں نے تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی غیر جانب داری اور درست معیار کے انتخاب کی ستائش کی۔
سیف نظامی کی خدمات لائقِ تحسین — منظور ندیم
مہمانِ خصوصی منظور ندیم نے کہا کہ معیاری ادبی محافل کا انعقاد اب کم ہو گیا ہے، ایسے میں سیف نظامی کا یہ اقدام قابلِ تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ:
"جہاں اعلیٰ درجے کے شاعر ہوتے ہیں وہاں اکثر معیاری سامعین نہیں ہوتے، مگر ایوانِ بقا میں شاعر اور سامع دونوں ہی اعلیٰ ادبی ذوق رکھتے ہیں۔”
ایوارڈ یافتگان کا اظہارِ تشکر
ایوارڈ سے نوازے گئے ڈاکٹر محسن جلگانوی نے داعیِ محفل اور حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کے یادگار لمحات میں سے ایک قرار دیا۔
معیاری مشاعرہ — پروفیسر رحمت یوسف زئی کی صدارت
تقریب کے بعد پروفیسر رحمت یوسف زئی کی صدارت میں ایک شان دار مشاعرہ منعقد ہوا جس کی نظامت ممتاز شاعر ارشد شرفی نے انجام دی۔
مشاعرے میں مصحف اقبال توصیفی، ڈاکٹر محسن جلگانوی، ڈاکٹر راہی فدائی، ڈاکٹر فاروق شکیل، سیف نظامی، ارشد شرفی، قاضی اسد ثنائی، ظفر فاروقی، نوید جعفری، ڈاکٹر علیم خان فلکی، شکیل حیدر، سعد اللہ خان سبیل اور دیگر شعراء نے اپنا معیاری کلام پیش کرکے داد و تحسین حاصل کی۔
تقریب میں انجینئر نعیم بشیر، محمد ہاشم (صدر بزمِ محبانِ تلنگانہ)، این آر آئی صلاح الدین، معروف غزل گلوکار عدنان سالم، شیخ نعیم اور دیگر معززین نے شرکت کی۔ تمام شرکاء کے لیے پرتکلف عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا۔
داعی محفل سیف نظامی کے شکریہ کے ساتھ یہ روح پرور ادبی محفل رات دیر گئے اختتام پذیر ہوئی۔
دستور نیوز ڈاٹ کام