rajita warangal activist, singer, orator

Renowned poet, singer, activist, orator and essayist Anishati Rajitha passed away today in Warangal due to a heart attack.

اضلاع کی خبریں
Renowned poet, singer, activist, orator and essayist Anishati Rajitha passed away today in Warangal due to a heart attack.
مشہور و معروف
شاعرہ، گلوکارہ، کارکن، مقررہ اور مضمون نگار انیشیٹی رَجِتّا آج دل کا دورہ پڑنے سے ورنگل میں انتقال کر گئیں

 

حیدرآباد/ورنگل
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

 

معروف شاعرہ، گلوکارہ، کارکن، مقررہ اور مضمون نگار انیشیٹی رَجِتّا، جو "پرجاسوامِک راچَیترُلا ویدِکا” (جمہوری خواتین مصنفین فورم) کی بانی رکن اور موجودہ قومی صدر تھیں، آج دل کا دورہ پڑنے سے ورنگل میں انتقال کر گئیں۔

rajitha passed away

رَجِتّا نے بطور ہائی اسکول طالبہ 1969 کے خصوصی تلنگانہ تحریک میں حصہ لیا۔ انٹرمیڈیٹ کے زمانے میں انہوں نے "پروگریسو وومنز آرگنائزیشن (POW)” کے دعوتی پروگرام میں شمولیت اختیار کی اور سماجی تحرکات سے متاثر ہو کر شاعری کا آغاز کیا۔ 1982 میں "کاکتیہ لیکچررز فورم” کے تحت قائم "خواتین ترقیاتی مطالعہ ادارہ” میں شامل ہوئیں۔ 1984 میں ان کا پہلا شعری مجموعہ "گلابیلُ جَوالِستُنّائی” شائع ہوا، جس میں زیادہ تر نظمیں خواتین کے مسائل پر مبنی تھیں۔

rajitha passed away

انہوں نے خواتین کے مسائل پر تحقیق اور عملی جدوجہد کے ساتھ ساتھ لوک گائیکی کو بھی اپنایا۔ ان کی آواز میں احتجاج اور مزاحمت کا رنگ نمایاں تھا۔ شراب مخالف تحریک، دوسری مرحلہ تلنگانہ تحریک، پولاورم پروجیکٹ مخالف تحریک، ملّنا ساگر اور مظفر نگر سانحہ کے خلاف جدوجہد سمیت کئی عوامی تحریکات میں وہ ہر دم سرگرم رہیں۔ان کے شعری مجموعوں میں "نَین وکنَلّ مَبّو نَوُتا” (1997)، "چِمٹ چَیٹّو” (1998)، "اُسُرو” (2002)، "انگا انگا کالَم” (2005) شامل ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے ہائیکو، طویل نظمیں اور کئی دیگر ادبی تخلیقات پیش کیں۔ 2016 میں تحریکات سے متاثرہ منتخب کلام کو "نِربھیا آکاشم کنڈ” کے عنوان سے شائع کیا۔تلنگانہ تحریک کے دوران انہوں نے "تلنگانہ رائٹرس فورم” اور بعد ازاں "پرجاسوامِک راچَیترُلا ویدِکا” کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ پچھلے 16 برسوں سے وہ فورم کے مرکزی عہدوں پر فائز رہیں اور آخری وقت تک سرگرم رہیں۔رَجِتّا کی ناگہانی موت ادبی اور سماجی حلقوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دی جا رہی ہے۔

rajitha passed away

جمہوری خواتین مصنفین فورم نے کہا ہے کہ وہ ان کی تحریک اور فکر کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔فورم کے مطابق انیشیٹی رَجِتّا کا جسد خاکی 12 اگست کی صبح 11 بجے تک کاکتیہ یونیورسٹی کے پہلے گیٹ کے سامنے پروفیسر کاتیا یَنی ودماہے کی رہائش گاہ پر رکھا گیا جس کے بعد جسم کو میڈیکل کالج کاکتیہ کے حوالے کیا گیا کیونکہ وہ اپنی وفات کے بعد جسم عطیہ کرنے کی وصیت کر گئی تھیں۔اس موقع پر امباشیّا نوین، بَنّا ایلايّا، وی آر وِدیا رتی ،تایَمّا کر ن، شوبھا رمیش ،گڈڈلا لکشمن ،رما دیوی اور ایلّوری مانسا موجود تھے ۔۔