نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کے فوائد اور اس کا استعمال کرنے کی ترغیب دی
جو”whole barley ـصحت کا خزانہ، جسمانی توانائی کا قدرتی ماخذ۔جو کے اہمیت اور اس کے فوائد

از: نعیمہ گوہر
جو (Whole Barley) – طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کی اہمیت اور فوائدطب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کا اعلیٰ طب ہے، جو بے شمار فوائد کا حامل ہے۔ اس میں ہر چیز کی اہمیت اور افادیت بے شمار ہے، چاہے وہ بظاہر معمولی نظر آئے۔ اس میں شامل ایک بہت اہم غذائی شئے جو آج بھی اپنی افادیت کے لحاظ سے شہرت رکھتی ہے، وہ "جو” (Whole Barley) ہے۔جو ایک ایسا قدرتی غذائی اجزاء ہے جس پر سالوں سے تحقیق جاری ہے اور ہر دن اس کی افادیت کے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔
حالیہ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ جو دو اہم وجوہات کی بناء پر مفید ہے:یہ توانائی حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے کیونکہ یہ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور ہے۔اس میں موجود کیمیائی عناصر کئی بیماریوں کی روک تھام کرتے ہیں اور علاج میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔طب نبوی میں "جو” کا استعمال نہ صرف ایک غذائی شئے کے طور پر کیا گیا ہے بلکہ یہ علاجی (Therapeutic) غذائی شئے بھی ہے۔

اس کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کئی بار مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دی۔جو کا استعمال اور اس کے فوائدحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی حدیث ابن ماجہ کے مطابق، جب کسی شخص کو بخار آتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کا حریرہ استعمال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ حریرہ تیار کر کے مریض کو دیا جاتا، اور فرمایا جاتا کہ یہ رنجیدہ دل کو طاقتور کرتا ہے اور بیمار کے دل کو تازہ کرتا ہے جیسے آپ کا چہرہ پانی سے دھویا جاتا ہے۔جو میں قدرت نے بے شمار تغذیائی اجزاء بھر رکھے ہیں، جس کی وجہ سے یہ مختلف بیماریوں میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ جو کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے:جو کا دلیہ بنا کر۔جو کا آٹا بنا کر اس سے ستو تیار کر کے۔جو کا جوشندہ تیار کر کے۔جو کا جوشندہ خاص طور پر حلق کی خشکی، کھانسی، جسم کے فاسد مادوں کو نکالنے اور معدے کو طاقت دینے میں مددگار ہے۔ اس کا جوشندہ پیشاب آور بھی ہے اور اضافی جسمانی گرمی کو کم کرتا ہے۔جو کا علاجی اثراطباء نے جوشندہ بنانے کا طریقہ یوں بتایا ہے: سو گرام جو کو پانچ گنا پانی میں ڈال کر اُبالا جائے اور اتنا اُبالا جائے کہ سو گرام جو باقی رہے۔ یہ عمل دھیمی آنچ پر کیا جاتا ہے تاکہ تمام اہم اجزاء محفوظ رہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کے فوائد کو اپنی امت تک پہنچایا اور اس کا استعمال کرنے کی ترغیب دی۔ آپ نے جو کی روٹی، دلیہ اور ستو استعمال فرمائے اور صحابہ کرام کو بھی ان کے فوائد سے آگاہ کیا۔جو کی اہمیت جدید سائنس کی نظر میںآج سے چودہ سو سال قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کے فوائد کو اپنی امت تک پہنچایا، اور جدید سائنس بھی اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ جو میں موجود کیمیائی اجزاء بہت سے خطرناک امراض سے انسانوں کو تحفظ دے سکتے ہیں۔

بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درزی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور کدو گوشت کی دعوت دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے محبت کے ساتھ اس سالن کو تناول فرمایا۔جو کا استعمال اور اس کی افادیتجو کی روٹی اور دلیہ آج بھی مختلف ممالک میں بنائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ذائقے میں جو فرق آتا ہے، وہ اس کے فائدے کو کم نہیں کرتا۔ جو کے فوائد گیہوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی غذا میں شامل رکھا۔اگرچہ جو کا استعمال موجودہ دور میں کم ہو چکا ہے، لیکن اس کی افادیت آج بھی مسلمہ ہے۔ جو کی روٹی، دلیہ اور ستو کو اپنی روزمرہ کی غذا میں شامل کرنا، صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔۔
جو میں موجود غذائی اجزاء اور کیمیائی عناصر انسان کو مختلف بیماریوں سے بچاتے ہیں اور اس کے استعمال سے صحت مند رہنا ممکن ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی غذا میں جو کو شامل کریں تاکہ ہم جسمانی و ذہنی طور پر تندرست رہ سکیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہمیشہ ہمارے لیے بہترین صحت کی ضمانت ہے، اور جو کا استعمال اس کی ایک عملی مثال ہے۔خلاصہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں جو کا استعمال نہ صرف ایک غذائی شئے کے طور پر کیا گیا بلکہ اسے علاجی غذائی شئے کے طور پر بھی اہمیت دی گئی۔
ضروری نوٹ:-
جو کے بیج ایک قدرتی عجوبہ ہیں اور ان سے منسوب صحت کے مختلف فوائد ہیں۔ یاد رکھیں کہ جو کے بیج استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں کیونکہ صحت کی بنیادی حالت اور دوسرے صحت کے مسائل کے رد عمل پر ہمیشہ غور کیا جانا چاہیے۔