Protesting against the anti-farmers policies of the Congress government, Dasyam Vinay Bhaskar presented a memorial at the statue of Dr. BR Ambedkar

کانگریس حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف احتجاج، داسیام وینے بھاسکر نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمے پر یادداشت پیش کی
حیدرآباد/ہنمکنڈہ:-17/دسمبر
(دستور نیوزڈاٹ کام)
بی آر ایس کے ورکنگ صدر سری کالواکنتلا تارک راما راؤ کی ہدایت پر سابق چیف وہپ اور بی آر ایس پارٹی کے صدر داسیم ونئے بھاسکر کی قیادت میں ہنمکنڈہ ضلع میں کانگریس حکومت کی جابرانہ، غیر انسانی اور کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔
اس احتجاج میں کسانوں پر غیر قانونی مقدمات درج کرنے، ان کے ساتھ تھرڈ ڈگری کا استعمال کرنے، انہیں جیلوں میں قید رکھنے اور ہتھکڑیاں لگانے کی سخت مذمت کی گئی۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کسانوں پر درج غیر قانونی مقدمات فوری واپس لے اور انہیں فوراً رہا کرے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمے پر یادداشت بھی پیش کی گئی۔
بعد ازاں خطاب کرتے ہوئے داسیم ونئے بھاسکر نے کہا کہ کسان مخالف کانگریس حکومت کو شرم آنی چاہیے کہ وہ ان کسانوں کو گرفتار کر رہی ہے جو اس ملک کو خوراک فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کسانوں کو مشکلات کے دلدل میں دھکیل رہی ہے۔
رائتو بندھو کو معطل کر دیا گیا، قرض معافی کے وعدے کا نصف بھی پورا نہیں کیا گیا۔دھان کے بونس کو جھوٹا قرار دیا اور کسانوں کی زمینیں چھیننے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو کسان اپنی زمینیں دینے سے انکار کر رہے ہیں انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ کسانوں کو ہتھکڑیاں لگانا غیر انسانی عمل ہے اور انہیں 35 دنوں تک جیل میں رکھنا کانگریس کے ظالمانہ راج کا ثبوت ہے۔

داسیم ونئے بھاسکر نے کہا کہ کانگریس حکومت غریبوں کی زمینیں چھیننے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ کے سی آر کے دور حکومت میں کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ رائتو بندھو کے ذریعے کسانوں کے اکاؤنٹس میں تقریباً 80 ہزار کروڑ روپے براہ راست منتقل کیے گئے،کسانوں کے قرضے معاف کیے گئے، کسانوں کی پیداوار ان کی دہلیز پر خریدی گئی، زراعت کے افسران کی تعیناتی اور کھاد و ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا اور جعلی بیجوں کو روکنے کے اقدامات کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ کالیشورم اور پالامورو جیسے بڑے پروجیکٹس کے ذریعے کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کیا گیا، جس سے دو فصلوں کاشت کی سہولت ملی۔ کسانوں کو 24 گھنٹے مفت بجلی فراہم کی گئی۔
بی آر ایس حکومت کے دوران تلنگانہ میں زرعی پیداوار 60 لاکھ کنٹل سے بڑھا کر 3 کروڑ کنٹل تک پہنچا دی گئی اور ریاست انا پورنا بنایا گیا۔ بی آر ایس کے دور میں زراعت ایک تہوار بن چکی تھی، مگر آج کانگریس حکومت کے زیر سایہ کسانوں کی حالت ابتر ہو رہی ہے۔
داسیم ونئے بھاسکر نے کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اس جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔