عازمین حج کی خدمت کرنا اللہ کی رضا اور خوشنودی کا ذریعہ ہے
نظام آباد حج سوسائٹی کے زیر اہتمام حج 2024 کا دوسرا عظیم الشان تربیتی اجتماع ۔
تلنگانہ ریاستی مشیر محمد علی شبیر و ریاستی چئیرمین حج کمیٹی سید شاہ غلام افضل بیابانی المعروف خسرو پاشاہ کا خطاب۔
حیدرآباد/نظام آباد:-27/مارچ
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

ضلع نظام آباد حج سوسائٹی کے زیر اہتمام عازمین حج کیلئے شہر میں واقع کے این این فنگشن ہال میں امیر الحجاج ممتاز عالم دین صدر ضلع حج سوسائٹی علامہ مولانا عابد قاسمی کی صدارت میں دو پہر دن بعد نماز ظہر تا 6 بجے شام عظیم الشان پیمانے پر تربیتی اجتماع منعقد ہوا
اس حج تربیتی اجتماع میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے تلنگانہ ریاستی مشیر خاص محمد علی شبیر ، چیرمن تلنگانہ ریاستی حج سوسائٹی سید شاہ غلام افضل بیابانی المعروف خسرو پاشاہ، صدر نشین تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈمی طاہر بن ہمدان، تلنگانہ میناریٹی کمیشن چیئرمین طارق انصاری کے علاوہ مقامی معزز علمائے کرام مولانا شیخ حیدر قاسمی نائب صدر ضلع حج سوسائٹی نظام آباد، محمد حبیب احمد جنرل سیکرٹری، مولانا احمد عبدالعظیم نائب صدر ضلع حج سوسائٹی نظام آباد، مولانا ارشد عبدالمتین جنرل سیکرٹری تنظیم علماء و حفاظ، مولانا احسان قاسمی صدر سٹی جمعیت علماء. و دیگر علماء و حفاظ اکرم، عازمین و عازمات حج کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ مفتی عبدالرحمن قاسمی نائب ناظم جامعہ ضیاء الاسلام للبنات نے اس تربیتی اجتماع میں نظامت کے فرائض انجام دیئے۔

اس اجتماعی اجلاس سے تلنگانہ ریاستی مشیر محمد علی شبیر نے عازمین و عازمات کو انکے ادا کیے جانے والے سعادت حج پر مبارکباد پیش کی اور تمام شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی بالخصوص تلنگانہ ریاستی حکومت اور چیف منسٹر اے ریونت ریاست کے عازمین حج کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرے گی اور مکہ مکرمہ میں بھی ان کیلئے خصوصی طور پر تمام تر سہولیات کے انتظامات کئے جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ عازمین حج اپنے قیمتی وقت اور لمحات کو ذکر اذکار اور عبادات میں گزارے دیگر مصروفیات و مشغولیات میں وقت ضائع نہ کریں اور مناسک حج کے متعلق انھوں نے تفصیلی طور پر بیان کیا. محمد علی شبیر نے کہا کہ حج جیسے مبارک و متبارک فریضے کی ادائیگی کو جانے والے انتہائی خوش نصیب ہوتے ہیں. جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے انھیں ہی سعادت حج نصیب کرتا ہے. جنھیں اللہ تعالیٰ حج کیلئے بلاتا ہے وہی سعادت حج حاصل کرتے ہیں. انھوں نے کہا کہ نظام سرکار نے مکہ مکرمہ کیلئے پہلا جنریٹر عطیہ کیا تھا. اور مدینہ منورہ میں آج بھی اصحاب صفہ کے اوپر نظام سرکار کا دیا ہوا فانوس موجود ہے. لیکن نظام سرکار کو سعادت حج کا موقع نہ مل سکا. انھوں نے کہا کہ آپ وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنھیں سعادت حج حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے اور سال 2024 میں اللہ تعالیٰ کے مہمان بن کر جارہے ہیں.
انہو ں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو صاحب استطاعت ہے وہی حج کی نیت اور ارادہ کرو. ظلم و زیادتی. قرض کرکے. کسی کے پیسے لیکر حج کی ادائیگی کے خلاف ہوگا. صاحب استطاعت کیلئے لیے ہی حج کی نیت ادائیگی لازم ہے. آپ تمام احباب اعمال صالحہ اور معاملات میں سدھار کے ساتھ حج کی نیت کریں اور سعادت حج حاصل کریں اللہ تعالیٰ ضرور قبول کرے گا. انھوں نے اپنے صفر اور حج کی ادائیگی کے دوران انھیں پیش آنے والی مشکلات و مشقتوں کو اللہ کے سپرد کرنے کا مشورہ دیا۔
انھوں نے حج کی ادائیگی کیلئے جانے والے تمام احباب سے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ خشو و خضوع کے ساتھ بصد احترام فرائض و ارکان حج اور عمرہ کو ادا کریں. انھوں نے کہا کہ جب پہلی نظر آپ کی کعبتہ اللہ پر پڑے گی دنیاں و آخرت میں کامیابی و سرخروئی کیلئے دعائیں مانگیں ضرور قبول ہوگی۔
سید شاہ غلام افضل بیابانی المعروف خسرو پاشاہ تلنگانہ ریاستی)چئیرمین حج کمیٹی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ الحمداللہ، اللہ کے مہمان عازمین حج کی جو خدمت ہے صرف نصیب والوں کو ہی اس کا موقع ملتا ہے. کیوں کہ عازمین حج اللہ کے مہمان ہوتے ہیں. عازمین حج کی خدمت کرنا اللہ کی رضا اور خوشنودی کا ذریعہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بقول آپ کے پردادا جو بنی ہاشم قبیلہ کے سردار تھے آپ حجاج کی ہمیشہ خدمت کیا کرتے تھے. ایک زمانے میں قحط ہوا تو آپ نے اپنا اونٹ ذبح کرکے اسکا شوربہ بناکر روٹیاں چور کر حاجیوں کی خدمت کیا کرتے تھے. تب سے سخاوت والا گھرانہ فتح حاصل کا گھرانہ تب سے شروع ہوا۔

الحمدللہ آج جیسا روزہ دار کو افطار کروانے کا ثواب ہےاسی طریقہ کا ثواب ہے. انھوں نے کہا کہ آپ تمام احباب جب سے مناسک حج پر تفصیلی سماعت کررہے تھے. مناسک حج کیسے ادا کریں. جہاز میں کس طرح بیٹھیں. احرام کیسے باندھے. کنکریاں کیسے ماریں. مدینہ منورہ میں اپنا قدم کیسے رکھیں. خانہ کعبہ کو جب پہلی بار دیکھیں تو اپنی آنکھ کیسے کھولیں. جو تربیت ماہر کی جانب سے آپ لوگوں کو دی جارہی ہیں. اس تربیت پر قائم رہے کر حج کے ارکان ادا کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کے حج کو ضرور قبولیت کا درجہ دے گا. حاجی صاحبان کے صدقے طفیل جو احباب حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی اس کا اجر و ثواب عطاء فرماتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک حدیث کے حوالے سے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک حاجی اپنے تمام حج ارکان کو صدق دل اور نیک نیتی سے مکمل ادا کرتا ہے وہ اس طرح سے پاک ہوجاتا ہے گویا وہ اپنی ماں کے پیٹ سے ابھی پیدا ہوا ہو.
انہوں نے کہا کہ آپ تمام احباب کیلئے یہ دوسری تربیتی نشست ہے. مزید روانگی سے قبل حج ہاوز میں بھی آپ کی تربیت کی جائے گی. اور حج کے گائیڈ بھی ملیں گے. وہاں بھی آپ کو ماہرین کی نگرانی میں سمجھایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ عازمین حج سے جو بھی آج ہندوستان بالخصوص ریاست تلنگانہ کا ماحول ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کی سالمیت اور ریاست کی خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
بعد ازاں تلنگانہ ریاستی چئیرمین اردو اکیڈمی طاہر بن ہمدان نے بھی شرکا و عازمین حج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کی برقراری فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے دعاؤں کی گزارش کی ہے۔ طارق انصاری نے عازمین حج کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی و خوش حالی اور عالم اسلام کی سرخروئی کیلئے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا، اور حضرت غلام افضل بیابانی المعروف خسرو پاشاہ کو ریاستی حج کمیٹی چئیرمین نامزد کیے جانے پر مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر حضرت خسرو پاشاہ کی شہر میں آمد پر انکا والہانہ استقبال کیا گیا، اور انکی بکثرت شال و گلپوشی کے ذریعے تہنیت پیش کی گئی۔
اس تربیتی اجلاس میں مرزا عزیز احمد بیگ صاحب ، سید نجیب علی ایڈووکیٹ سابقہ ڈائریکٹر اردو اکیڈمی، سابقہ ڈپٹی میئر ایم اے فہیم، این رتناکر. صدر سٹی کانگریس کیشو وینو، کارپوریٹر سید ذکی الدین، جنید علی ایڈووکیٹ. قدرت اللہ خان قمر پیراڈائز، سابقہ کارپوریٹر و قائد کانگریس محمد مجاہد خان. مرزا افضل بیگ تیجان. محمد پرویز. فہیم قریشی قائد بی آر یس. ایم اے حلیم. اسد کانگریس. عبید بن ہمدان. عقیل احمد. عبود بن ہمدان. و سعید بن ہمدان موجود تھے. جبکہ محمد راحیل. محمد افروز. شیخ ذاکر. ڈاکٹر عاصم. محمد کاشف. محمد مبشر نے اس اجلاس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے. بعد اجلاس تمام عازمین و عازمات اور شرکا و روزہ داروں کیلئے افطار اور طعام کا نظم رکھا گیا تھا.