کانگریس پارٹی بی سی کے اعلامیہ میں دیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔
بی سی میں ذات پات کا حساب کیا جائے اور 42 فیصد ریزرویشن دینے کے بعد ہی بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی آر

ہنمکنڈہ:-10/نومبر
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
بی سی ڈیکلریشن کے نام پر کانگریس پارٹی نے کمزور طبقوں کو مضبوطی سے پستی میں ڈھکیل دیا۔- بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی آر ہنمکنڈہ ضلع پارٹی دفتر میں منعقدہ ایک میڈیا کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی سی ڈکلریشن کے اعلان کے ایک سال بعد بھی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا گیا۔کانگریس پارٹی بی سی کے اعلامیہ میں دیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وعدے کرکے ووٹ حاصل کرنے کے بعد اقتدار میں آنے کے بعد دھوکہ دینے والے ریونت کو بی سی کے بچوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ بی سی میں ذات پات کا حساب کیا جائے اور 42 فیصد ریزرویشن دینے کے بعد ہی بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ گھر گھر مردم شماری کرنے والے افسران سے لوگ سوال کر رہے ہیںکہ وزیر اعلی ریونت ریڈی دیے گئے وعدوں پر عمل کیوں نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے کا حق ہے اور عوام کو قائل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس وہ پارٹی ہے جس نے 60 سال تک بی سی کے ساتھ ناانصافی کی۔ کانگریس کی تاریخ بہت خراب ہے کہ 60 سالوں میں مرکز میں بی سی کی بہبودگی کی وزارت بھی نہیں بنا پائی۔
اس موقع پر ضلع ہنمکنڈہ کے سابقہ رکن اسمبلی و کورنمنٹ داسیم ونئے بھاسکر، سابقہ رکن اسمبلی پالاکرتی ایرابیلی دیاکر راو ، پیدی سدرشن ریڈی ،این نریندر کے علاوہ دیگر بی آر ایس کے سینیر قائیدین کی کثیر تعداد موجود تھی۔