ورنگل میں جشنِ شیدائی و کامیاب مشاعرہ
اقبال شیدائی ایک سچے محب اردو اور عظیم شاعر ہے انہوں نے اپنی زندگی کا نصف حصہ مشاعروں کے حوالے اور اردو کی فروغ کے لئے مختص کیا۔ پروفیسر احمد حسین خیال اور توفیق الرحمن کا اظہار خیال
حیدرآباد/ورنگل:-10/اگست
(دستور نیوز ڈاٹ کام)


اردو زبان ہماری تہذیب ہے اس نسبت سےاس زبان کی حفا ظت ہم سب کی ذمہ داری ہے فی زمانہ معاشرے میں اقبال شیدائی جیسا سچا محب اردو، عظیم شاعر کا ملنا بہت مشکل ہے ، اقبال شیدائی نے اپنی زندگی کا نصف حصہ مشاعروں کے حوالے سے اردو کی فروغ کے لئے لگایا زیر اہتمام ابنائے ادب اجمالی (ہند) ورنگل انعقاد جشن اقبال شیدائی و مشاعرہ میں شرکت فرما مہمانِ خصوصی جناب توفیق الرحمٰن اسٹیٹ جنرل سیکرٹری مینارٹی امپلائز اسوسیشن تلنگانہ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔


مشاعرہ کا آغاز جناب محمد معشوق صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، کنوینر مشاعرہ جناب سید عبدالحفیظ نے استقبالیہ کلمات ادا کیا حمدِباری تعالیٰ جناب محمد حفیظ خان اور نعت شریف کا نذرانہ ڈاکٹر شجیع اکبر ، جناب محمد غوث الدین اور محمد معشوق نے پیش کیا۔


زیر صدارت ماہر معاشیات پروفیسر احمد حسین خیال ہونے والے اس پروگرام کے میں احمد حسین خیال نے کہا کہ اقبال شیدائی کی شخصیت پر کچھ کہناسورج کے سامنے چراغ جلانے کے برابر ہے۔دوسرے مہمانانِ خصوصی جناب حبیب الدین موظف لیبر آفیسر نے اقبال شیدائی کی اردو شاعری اور زبان کی ان کی جانب سے کئے جانے والے خدمات کی سراہانہ کی۔اس موقع پر شاعر ادراک اقبال درد نے بھی اقبال شیدائی کی اردو زبان سے محبت اور لگائو پر مختصر بیان کیا ۔اس موقع پر مشہور مترنم شاعر ڈاکٹر نعیم سلیم نے اقبال شیدائی پر اپنا کلام سنا کر سامعین نے زبردست داد حاصل کی ۔


اس موقع پر لکچرر و شاعر جناب مجاہد حسین جوہر نے اردو تنظیموں کے درمیان عدم تال میل اور بڑھتی ہوئی رنجشوں پر اظہار افسوس کیا ، اس موقع پر انہوں نے سخنوروں، شاعروں اور ادیبوں سے آپس میں مل کر اردو کی ترقی و ترویج پر کام کرنے کی اپیل کی۔


بعد ازاں باقاعدہ مشاعرہ کا تسلسل جاری رہا اور درمیان مشاعرہ ابنائے ادبِ اجمالی(ہند) ورنگل کی جانب سے آفتاب شعر وسخن حضرت اقبال شیدؔائی کی کثرت سے گل و شال پوشی تہنیت ہوتی رہی۔


اس مشاعرہ میں ذی وقار شعراء اکرام حضرت اقبال شدائی، جناب اقبال درؔد، ڈاکٹر نعیم سلیم، جناب حمید عکسی، جناب حامد حسین حامد، جناب مجاہدحسین جوہر، جناب داؤد اسلوبی، جناب خواجہ کیفی، جناب امیر الدین امیر، ڈاکٹر شجیع اکبر، اور جناب نذیر پرواز نے مرصع کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ اس پروگرام کی نظامت جناب محمد حفیظ خان نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا ، اس پروگرام میں اہل ذوق حضرات کی خاصی تعداد دنے شرکت کی اور مشاعرہ کے اختتام تک اپنی حاضری برقرار رکھی۔ کنوینر عبدالحفیظ کے ہدیہ تشکر کے ساتھ ہی مشاعرہ کا اختتام عمل آیا۔
