Ghousia Begum Waqar’s "Seemab Koi” book launched in a dignified ceremony
غوثیہ بیگم وقار کی تصنیف "سیماب کوئی” کی باوقار رسمِ اجرا منعقد

حیدرآباد/ورنگل، 21 /نومبر
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
عشق بجلی ہے کہ شعلہ ہے کہ سیماب کوئی
دل ہے میرا کسی ٹوٹے ہوئے درپن کی طرح
ورنگل میں محترمہ غوثیہ بیگم وقار کی تصنیف "سیماب کوئی” کی باوقار رسمِ اجرا نہایت خوشگوار اور علمی فضا میں انجام پائی۔ اس تقریبِ رونمائی کا انعقاد زکریا فنکشن ہال، رائے پورہ، ہنمکنڈہ میں تزکیہ کیمپ ضلعی کیڈر میٹ کے موقع پر کیا گیا۔
محترمہ کی تصنیف کردہ مجموعہ کلام کی رسمِ اجرا امیرِ حلقہ جماعتِ اسلامی ہند، تلنگانہ اسٹیٹ جناب محمد اظہرالدین صاحب کے دستِ مبارک سے عمل میں آئی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’سیماب کوئی‘‘ نہ صرف مصنفہ کی فکری پختگی کا مظہر ہے بلکہ موجودہ دور کی سماجی و اخلاقی ضروریات کی بھی بہترین عکاس ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب قاری کے اندر مثبت تبدیلی اور فکری ارتقا کا ذریعہ بنے گی۔اس موقع پر معاون امیر حلقہ جناب صادق احمد،ڈاکٹر مجاہد عرفان (ناظم ضلع، گریٹر ورنگل)،مولانا رحمت اللہ شریف,جناب عبدالستار (ناظم ضلع محبوب آباد)،محمد مجاہد احسن (ناظم ضلع ملگ)،اور سینئر صحافی ایم اے نعیم بھی موجود تھے۔تقریب میں مقررین نے مصنفہ کی اس ادبی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریروں میں عصری شعور، تہذیبی آہنگ اور اخلاقی پیغام نمایاں ہے۔ کتاب کی تیاری و اشاعت پر محترمہ غوثیہ بیگم وقار کو مبارک باد پیش کی گئی اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ان کی یہ علمی خدمت اردو ادب میں ایک قابلِ ذکر اضافہ ثابت ہوگی۔
عبدالرحمن سیف عثمانی اس مجموعہ کلام کے تعلق سے کہا تھا کہ انسان کے پاس اپنے خیالات ، جذبات، احساسات اور مافی الضمیر کو تحریری شکل میں ظاہر کرنے کی دو ہی صورتیں ہیں ایک نثر اور دوسرے نظم ۔ اور یہ دونوں ہی صورتیں فن کی حیثیت رکھتی ہیں جن کا متحمل دنیا میں ہر شخص نہیں ہوتا۔ اپنی بات کو سلیقے اور اچھے ڈھنگ سے خوبصورت الفاظ کے ساتھ پیش کرنا بہت کم لوگوں کو آتا ہے بیشک یہ اللہ رب العزت کی عطا ہے اور خود انسان کے اپنے ذوق مطالعہ عالمی شعور و فہم کا ثمرہ ۔ غوثیہ وقار صاحبہ کو بھی اللہ نے علمی شعور و فہم اور مطالعہ کا اچھا ذوق بخشا ہے جس کے سبب تعمیری فکر کے اجالے ان کی شاعری میں بھی دمکتے ہیں اور نثری شہ پاروں میں بھی۔ مختصر کتابچہ محترمہ کے وقتا فوقتا کہے گئے اشعار کا وہ مجموعہ ہے جو ان کی میز پر بکھرے ہوئے کاغذ کے چند اوراق میں ضائع ہونے کی کگار پر تھا۔ بہت اچھا ہوا کہ ان کو کتابی شکل دے کر محفوظ کر لیا گیا۔آخر میں شرکائے تقریب نے کتاب کی اہمیت پر گفتگو کی اور اس کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تقریب دعائیہ کلمات پر اختتام پذیر ہوئی۔