BRS Criticising Congress Out of Frustration Over Losing Power: Warangal MP Dr. Kadiyam Kavya

BRS Criticising Congress Out of Frustration Over Losing Power: Warangal MP Dr. Kadiyam Kavya

اضلاع کی خبریں
اقتدار جانے کی خفگی میں بی آر ایس کی تنقیدیں، عوامی فیصلے کا احترام کرے: رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کڈیم کاویہ
BRS Criticising Congress Out of Frustration Over Losing Power: Warangal MP Dr. Kadiyam Kavya

 

ورنگل:2/ستمبر(دستور نیوز)

ورنگل پارلیمانی حلقہ کی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے الزام عائد کیا ہے کہ بی آر ایس قائدین اقتدار سے محرومی کی خفگی میں کانگریس حکومت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اپوزیشن کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے اور اسمبلی سے دور رہ کر وقت ضائع کرنا مناسب سیاسی طرز عمل نہیں ہے۔

ہنمکنڈہ ڈی سی سی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں رکن اسمبلی ریووری پرکاش ریڈی اور ڈی سی سی صدر ایناگالا وینکٹ رام ریڈی کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے کہا کہ بی آر ایس نے دس برس تک اقتدار میں رہنے کے بعد عوامی فیصلے کے نتیجے میں اپوزیشن کا کردار حاصل کیا، مگر اسے دو تین سال بھی صبر کے ساتھ انتظار کرنا گوارا نہیں ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کی ترقیاتی اور فلاحی سرگرمیوں کو برداشت نہ کرتے ہوئے بی آر ایس قائدین روزانہ کسی نہ کسی مسئلے پر سیاسی تنقید کر رہے ہیں، جس سے ان کی اقتدار کی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کاویہ نے کہا کہ کانگریس حکومت نے تقریباً ڈھائی برس کے دوران تلنگانہ میں ترقی اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں لانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ایک طالب علم تعلیمی سال کے بعد اپنی پروگریس رپورٹ دیکھتا ہے، اسی طرح کانگریس حکومت کے 1000 دنوں کی کارکردگی ہی اس کی پروگریس رپورٹ ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم صرف زبانی دعوے نہیں کر رہے بلکہ جو کام کیے گئے ہیں، ان کی تفصیلات اور اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے جا رہے ہیں۔ بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت اور کانگریس کے ڈھائی سالہ دور کے درمیان فرق کو عوام خود محسوس کر رہے ہیں۔‘‘

رکن پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ سابق بی آر ایس حکومت ریاست کو بھاری قرضوں کے بوجھ میں چھوڑ گئی، اس کے باوجود چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود فلاحی اسکیموں کو روکا نہیں گیا اور ترقیاتی کام بھی جاری رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی اور فلاح و بہبود کانگریس حکومت کی ’’دو آنکھوں‘‘ کی مانند ہیں اور حکومت چھ ضمانتوں پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ ریاستی ترقی کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

شعبۂ تعلیم پر بی آر ایس کو تنقید

ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے الزام لگایا کہ بی آر ایس نے اپنے دس سالہ دور حکومت میں شعبۂ تعلیم کو نظر انداز کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران طلبہ کو تحریک میں استعمال کیا گیا اور تلنگانہ کے لیے 1200 سے زائد طلبہ نے قربانیاں دیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد طلبہ کے مستقبل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا یونیورسٹیوں میں بروقت وائس چانسلروں کی تقرری کی گئی اور کیا سابق چیف منسٹر کی سطح پر کبھی محکمہ تعلیم کا جامع جائزہ لیا گیا؟

ڈاکٹر کاویہ نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد یونیورسٹیوں میں وائس چانسلروں کی تقرریوں کے علاوہ تلنگانہ پبلک اسکولوں اور رہائشی اسکولوں کی ترقی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف اسکولوں کی عمارتیں کافی نہیں بلکہ معیاری تعلیم کے لیے مناسب تعداد میں اساتذہ کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق کانگریس حکومت نے اقتدار میں آنے کے مختصر عرصہ بعد ڈی ایس سی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے تقریباً 10 ہزار اساتذہ کی تقرریاں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس حکومت نے اپنے دور میں مختلف محکموں میں تقریباً 70 ہزار ملازمتوں کو پُر کیا اور بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے۔

خواتین کی خودمختاری پر خصوصی توجہ

رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے کہا کہ کانگریس حکومت خواتین کی خودمختاری اور معاشی استحکام کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ انہوں نے مہالکشمی اسکیم کے تحت خواتین کے لیے مفت بس سفر، 500 روپے میں گیس سلنڈر اور 200 یونٹ مفت بجلی جیسی اسکیموں کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف خواتین کو رعایتیں دینا نہیں بلکہ انہیں معاشی طور پر مضبوط اور کاروباری میدان میں کامیاب بنانا ہے۔

ان کے مطابق خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں کو بینک لنکیج کے ذریعے تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے گئے ہیں اور پیٹرول پمپ، سولر پاور پلانٹس اور دیگر شعبوں میں خواتین کے لیے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔

ڈبل بیڈ روم مکانات پر سوالات

ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے بی آر ایس حکومت کو ڈبل بیڈ روم مکانات کے معاملے پر بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دس برس تک غریبوں سے وعدے کیے گئے، تاہم کئی علاقوں میں مکانات نامکمل چھوڑ دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دور میں پہلے مرحلے کے تحت 4.5 لاکھ اندرامّا مکانات منظور کیے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مستحقین کے انتخاب میں سیاسی جانبداری نہیں برتی جا رہی اور ضلع کلکٹروں کی نگرانی میں اہلیت کی بنیاد پر مستحق خاندانوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔

تعمیری تنقید کا خیر مقدم

ڈاکٹر کاویہ نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کو طویل سیاسی تجربہ حاصل ہے اور اگر وہ ریاست کی ترقی کے لیے تعمیری تجاویز پیش کرتے ہیں تو کانگریس حکومت انہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی ترقی کے لیے مفید تجاویز پر مثبت ردعمل دے سکتے ہیں، تاہم روزانہ صرف سیاسی تنقید اور وقت گزاری سے تلنگانہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ عوامی مسائل پر اسمبلی میں بحث کے لیے آگے آئیں اور عوام کی جانب سے دی گئی اپوزیشن کی ذمہ داری کو بھی سنجیدگی سے نبھائیں۔

ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے کہا کہ عوام نے ایک جماعت کو اقتدار اور دوسری جماعت کو اپوزیشن کی ذمہ داری دی ہے، اس لیے دونوں کو عوامی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم جو وعدے کر رہے ہیں انہیں پورا کر رہے ہیں اور عوام کی ضروریات کے مطابق ایسے کام بھی انجام دے رہے ہیں جن کا وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔ کانگریس حکومت کے 1000 دنوں کی یہی ہماری پروگریس رپورٹ ہے اور عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔‘‘

بعد ازاں متحدہ آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر مرحوم ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی 17ویں برسی کے موقع پر ہنمکنڈہ کے ڈی سی سی دفتر میں ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے انہیں خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔

dastoornews.com