minority civic bodies muslim government

Minority Representation in Civic Bodies: Muslim Leaders Urged to Ask Government

اضلاع کی خبریں تلنگانہ
Minority Representation in Civic Bodies: Muslim Leaders Urged to Ask Government
نامینیشن، بلدیاتی میئر، ڈپٹی میئر، چیئرپرسن اور کارپوریشنوں، بورڈز و کارپوریشنز عہدوں میں اقلیتوں کا حصہ
مسلم قائدین، سماجی کارکنوں اور دانشور احباب کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت سے دو ٹوک مطالبہ کریں۔
تلنگانہ کانگریس حکومت سے ایک جائز سوال

محمد اکبر ضیاء
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے قیام کو ممکن بنانے میں جن طبقات نے فیصلہ کن کردار ادا کیا، ان میں مسلم ووٹرس کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ ریاست کے کئی حلقوں میں اقلیتی ووٹوں نے کانگریس امیدواروں کی جیت کو یقینی بنایا۔ اب جب کہ کانگریس اقتدار میں ہے، تو یہ ایک فطری اور جمہوری سوال بنتا ہے کہ حکومت اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کو نامینیشن پوسٹوں میں کتنا اور کیا حصہ دینے جا رہی ہے؟

نامینیشن پوسٹیں محض علامتی عہدے نہیں ہوتیں۔ بلدیاتی میئر، ڈپٹی میئر، چیئرپرسن اور کارپوریشنوں، بورڈز و کارپوریشنز کی نامزدگیاں حکومت کی نیت، ترجیحات اور سماجی انصاف کے دعووں کا عملی پیمانہ ہوتی ہیں۔ اگر واقعی کانگریس حکومت خود کو سیکولر، جامع اور اقلیت دوست کہلوانا چاہتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی اپنے وعدوں کو فراموش نہیں کرتی۔

یہ حقیقت ریکارڈ پر ہے کہ ماضی میں مسلم طبقہ اکثر انتخابی مرحلے میں تو اہمیت حاصل کرتا رہا، مگر اقتدار کی تقسیم کے وقت اسے نظرانداز کیا جاتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ کانگریس حکومت بھی اسی روایت کو دہرائے گی، یا واقعی ایک نئی مثال قائم کرے گی؟

تلنگانہ کی شہری بلدیاتی اداروں میں مسلمانوں کی آبادی ایک قابلِ لحاظ تناسب رکھتی ہے۔ کئی میونسپل کارپوریشنز اور میونسپلٹی حدود میں مسلمان نہ صرف بڑی تعداد میں رہتے ہیں بلکہ مقامی سیاست، تجارت اور سماجی خدمات میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر میئر یا چیئرپرسن جیسے عہدوں پر مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہو تو یہ جمہوری روح کے منافی ہوگا۔

کانگریس قیادت اکثر یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ اقلیتوں کو حصہ دار بنانا چاہتی ہے، محض ووٹ بینک نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس دعوے کو عملی شکل دی جائے۔ سوال صرف ایک یا دو عہدوں کا نہیں، بلکہ متناسب نمائندگی کا ہے۔ کیا حکومت مسلم آبادی کے تناسب کے مطابق نامینیشن پوسٹیں دینے کے لیے سنجیدہ ہے؟ کیا باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور عوامی خدمت کا تجربہ رکھنے والے مسلم رہنماؤں کو آگے لایا جائے گا؟

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ نامینیشن پوسٹوں کے ذریعے حکومت سماج کے پسماندہ اور محروم طبقات کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کر سکتی ہے۔ اگر مسلمان، دلت، آدیواسی اور دیگر کمزور طبقات کو نظرانداز کیا گیا تو کانگریس کا سماجی انصاف کا نعرہ محض ایک سیاسی جملہ بن کر رہ جائے گا۔

مسلم ووٹرس نے کانگریس پر اعتماد کیا، اور سیکولر اقدار کے حق میں فیصلہ دیا۔ اب یہ حکومت کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اعتماد کا احترام کرے۔ اگر نامینیشن پوسٹوں میں مسلمانوں کو مناسب نمائندگی نہ ملی تو یہ احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرے گا، جس کے اثرات مستقبل کی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آخر میں ہم تیلنگانہ کانگریس حکومت سے صاف اور دو ٹوک سوال کرتے ہیں:
کیا آپ مسلمانوں کو بلدیاتی میئر، چیئرپرسن اور دیگر نامینیشن عہدوں میں ان کا جائز حق دینے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں؟ یا پھر یہ طبقہ ایک بار پھر وعدوں اور یقین دہانیوں کے سہارے ہی مطمئن رہ جائے گا؟

یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابات سے قبل کئی مسلم قائدین، سماجی کارکنوں اور دانشور احباب نے کھل کر عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے ووٹ کو ترجیحی بنیادوں پر کانگریس کے حق میں استعمال کریں اور ایک سیکولر حکومت قائم ہو۔ ان اپیلوں کا اثر بھی ہوا اور مسلم ووٹ بڑی حد تک کانگریس کے حق میں متحد نظر آیا۔
اب یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ان قائدین اور دانشوروں کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ صرف انتخابات کے وقت رہنمائی کرنا کافی نہیں، بلکہ اقتدار کے بعد بھی حکومت سے جواب طلبی ضروری ہے۔ جن لوگوں نے اپنی ساکھ، اثر و رسوخ اور فکری وزن استعمال کرتے ہوئے عوام کو کسی سیاسی جماعت کے حق میں آمادہ کیا، ان پر لازم ہے کہ وہ آج کانگریس حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ نامینیشن پوسٹوں، بلدیاتی میئرشپس اور چیئرپرسن کے عہدوں میں مسلمانوں کو ترجیح دی جائے۔
اگر یہ قائدین اور دانشور اب خاموش رہے تو عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ اقلیتوں کو صرف ووٹ کے وقت یاد کیا جاتا ہے، بعد میں نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلم قیادت صرف تماشائی نہ بنے، بلکہ منظم، مہذب اور جمہوری انداز میں حکومت سے اپنے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کرے۔ یہی طرزِ عمل نہ صرف مسلم سماج کے اعتماد کو بحال کرے گا بلکہ مستقبل میں ایک باوقار اور باخبر سیاسی کردار کی بنیاد بھی رکھے گا۔