Review meeting chaired by Chief Minister Revanth Reddy at District Collector Office Hanamkonda
وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی زیر صدارت ضلع کلیکٹر آفس ہنمکنڈہ میں اہم جائزہ اجلاس

حیدرآباد/ہنمکنڈہ/ورنگل:-31/اکتوبر
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
ریاست میں حالیہ شدید بارشوں کے نتیجے میں فصلوں، املاک اور انسانی جانوں کے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے جمعہ کے روز ضلع کلکٹریٹ ہنمکنڈہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں وزراء پونگلیٹی سرینواس ریڈی، کونڈا سُریکھا اور پونّم پربھاکر کے علاوہ ریاستی سطح کے عہدیداران، 12 اضلاع کے کلکٹرس اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ اے۔ ریو نت ریڈی نے ہدایت دی کہ افسران میدانِ عمل میں جا کر نقصانات کا تفصیلی تخمینہ لگائیں۔انسانی جانوں، فصلوں، مویشیوں اور سرکاری ڈھانچوں (انفراسٹرکچر) کے نقصانات کی الگ الگ رپورٹس تیار کر کے پیش کریں۔اس عمل میں عوامی نمائندوں سے قریبی تعاون حاصل کریں۔تمام منتخب نمائندے اپنے حلقہ جات سے متعلق رپورٹیں کلکٹرس کو فراہم کریں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حالیہ طوفان سے 12 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں، لہٰذا مرکزی حکومت سے حاصل ہونے والے امدادی فنڈز کی جلد وصولی کے لیے کوئی تاخیر نہ کی جائے۔ ریاستی حکومت اس سلسلے میں مرکز سے مکمل فنڈز حاصل کرنے کے لیے سرگرم رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ وقتی انتظامات نہیں بلکہ پائیدار حل کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔ مختلف محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی نہ ہونے سے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، لہٰذا تمام محکمے مربوط طور پر کام کریں۔

وزیراعلیٰ نے واضح طور پر کہا کہ نالوں پر قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔اگر چند افراد کی وجہ سے ہزاروں کو نقصان ہو رہا ہے تو ایسی صورت میں سخت کارروائی کی جائے۔سیلاب کم ہونے کے بعد صفائی اور سینی ٹیشن کے عمل کو تیز کیا جائے۔جہاں جانی نقصان ہوا ہے، وہاں پانچ لاکھ روپے معاوضہ فوری طور پر فراہم کیا جائے۔فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات پر بھی متاثرہ کسانوں کو امداد دی جائے۔ریت کے تودے جمنے والے کھیتوں کا تخمینہ لگا کر کسانوں کو سہارا دینے کے اقدامات کیے جائیں۔سیلاب میں ڈوبے گھروں کے لیے فی گھر 15 ہزار روپے امداد دینے کی تجویز پر عمل کیا جائے۔بے گھر افراد کو اندرامّا ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مکانات فراہم کرنے پر غور کیا جائے۔

وزیر اعلی ریو نت ریڈی نے ہدایت دی کہ میونسپل اور ایریگیشن عہدیداران مکمل ہم آہنگی سے کام کریں، جبکہ سمارٹ سٹی کے ترقیاتی کاموں پر ایک خصوصی رپورٹ تیار کی جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں، اس لیے مستقل حل کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔وزیراعلیٰ نے تمام افسران پر زور دیا کہ وہ دفاتر تک محدود نہ رہیں بلکہ میدانِ عمل میں اتر کر عوامی مسائل کا براہِ راست جائزہ لیں۔