Be aware of the misleading guidance of temporary and self-styled political and religious leaders
Avoid the rumors of self-styled political and religious leaders that have emerged before the elections and decide your vote based on facts.
Muhammad Abdul Quddus
وقتیہ و خود ساختہ سیاسی، مذہبی و ملی رہنمائوں کی گمراہ کن رہبری سے محطاط رہیں
عین انتخابات سے پہلے ظہور ہونے والے خود ساختہ سیاسی قائدین اور مذہبی رہنماؤں کےافواہوں سے گریز کرتے ہوئے حقائق کی بنیاد پر اپنے ووٹ کا فیصلہ کریں۔
محمد عبدالقدوس
حیدرآباد:-3/نومبر
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
— گزشتہ دنوں سے چند سیاسی نما مذہبی و دینی رہنما کی جانب سے ویڈیو میں بی آر ایس حکومت پر عائد کئے گئے الزامات کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے محمد عبد القدّوس نے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر انتخابات سے عین قبل چند موسمی سیاسی مذہبی پیشواؤں کا نمودار ہونا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ جز وقتی محرک لوگ اپنے نا تجربہ کاری اور کم سیاسی بصیرت کی وجہ سے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے انتخابات سے عین پہلے صف اول میں ٹھہر جاتے ہیں۔اس طرح کے لوگوں سے بیانات کی صفائی اور صحیح جانکاری دینے کیلئے
محمد عبدالقدوس نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں کے سی آر کی قیادت میں بی آر ایس حکومت نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے وہ تاریخی اقدامات کئے جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ کسی ویڈیو میں یہ کہنا کہ ’’بی آر ایس کے دورِ حکومت میں انجینئرنگ کالج بند ہوگئے اور تعلیم تباہ ہوگئی‘‘، سراسر غلط اور حقائق کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انجینئرنگ کالجوں کی بندش ایک قومی رجحان تھا، جو پورے ملک میں داخلوں کی کمی، اے آئی سی ٹی ای کے نئے معیارات اور غیر معیاری پرائیویٹ اداروں کے بند ہونے کی وجہ سے پیش آیا — اس کا بی آر ایس حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔
بی آر ایس حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں 204 مسلم ریزیڈینشل اسکول اور کالجز قائم کئے گئے جہاں تعلیم، رہائش، کھانا، یونیفارم، کتابیں اور تربیت مکمل طور پر مفت فراہم کی گئی۔ یہ اقدام مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کا سنگِ میل ثابت ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ بی آر ایس دورِ حکومت میں فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم مسلسل جاری رہی اور لاکھوں طلباء نے اس سے استفادہ کیا۔ فنڈز کی ریلیز باقاعدگی سے ہوتی رہی، جب کہ موجودہ کانگریس حکومت کے دور میں اس اسکیم سے متعلق تاخیر اور شکایات بڑھ گئی ہیں۔
اولڈ ایج پنشن اسکیم کے تعلق سے انہوں نے بتایا کہ بی آر ایس نے ہر مستحق بزرگ کو 2000 روپے ماہانہ پنشن فراہم کی، جبکہ کانگریس حکومت 4000 روپے دینے کے وعدے پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کویتا کے حالیہ خط پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے اختلاف نہیں بلکہ پارٹی کے اندرونی جمہوری عمل کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ ’’اختلاف کو انتشار قرار دینا محض سیاسی ڈرامہ ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
ریونت ریڈی کے پس منظر پر بات کرتے ہوئے محمد عبد القدّوس نے کہا کہ ’’ریونت ریڈی نے سیاست کا آغاز آر ایس ایس اور اے بی وی پی سے کیا، اور آج بھی بی جے پی سے ان کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تلنگانہ میں بی جے پی کو تقویت پہنچانے میں ان کا کردار واضح ہے، جو مسلم عوام کے لئے تشویشناک ہے۔‘‘اختتام میں انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں عوام کو فرقہ وارانہ جذبات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مگر حق یہ ہے کہ:بی آر ایس نے مسلمانوں کی تعلیم اور فلاح پر تاریخی کام کیا۔کانگریس ان کامیابیوں کو کمزور کر رہی ہے۔اور موجودہ حالات بی جے پی کے فائدے کے لئے ہموار کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں سے گریز کرتے ہوئے حقائق کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کریں۔