Celebration of Syedna Ahmad Kabir Rifai (RA) held at Dargah Qazipet.
Speech by Hazrat Syed Shah Ghulam Afzal Bayabani Rifai-ul-Qadri and others.
درگاہ قاضی پیٹ میں جشن سیدنا احمد کبیر رفاعی ؒ کا انعقاد ۔
حضرت سید شاہ غلام افضل بیابانی رفاعی القادری و دیگر کا خطاب ۔
حیدرآباد/قاضی پیٹ: ۔25/نومبر
( دستورط نیوز ڈاٹ کام)
درگاہ حضرت سیدشاہ افضل بیابانی رفاعی القادری قاضی پیٹ کے احاطہ میں حضرت سید شاہ غلام افضل بیابانی رفاعی القادری المعروف خسرو پاشاہ سجادہ نشین درگاہ قاضی پیٹ و ریاستی حج کمیٹی چیرمین تلنگانہ کی صدارت میں جشن سیدنا احمد کبیر رفاعی ؒ پروگرام کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔

اس پروگرام کو حضرت سید شاہ غلام افضل بیابانی رفاعی القادری،حضرت شیخ سید محمد بختیار بیابانی رفاعی القادری نے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جہان رشد و ہدایت ،ہادی طریقت و معرفت میں جذ امجد حضرت سلطان الائو لیا دارالعارفین سید احمد کبیر رفاعی ؒ کی ذات ستودہ صفات محتاج تعارف نہیں ۔آپ کی ذات والا صفات کو اللہ رب العزت نے وہ مقام رفیع عطا فرمایا تھا جہاں تک ہر کسی کی رسائی نہیں ہوتی ۔
بارگاہ خداوندی سے عظمت ورفعت کی ایسی خلعت عطا ہوئی تھی کہ جن پر ہر صاحب نعمت رشک کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔رشدو کرامات ، اعلی اخلاقی صفات اور ولایت عظمی ٰ کی سر فرازیاں آپ کو اپنے اقران ہی نہیں بلکہ بہت سارے سالکان طریقت میں امتیازی شان عطا کرتی ہے ۔
آپ کی انہیں عظمتوں کا اعتراف بڑے بڑے اصحاب لوح وقلم کاتبن سیرت و تاریخ نے کیا ہے ۔آپ نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ اقطاب اربع میں سے ایک ہیں ۔ یہ وہ عظیم نعمت ہے جس پر سلسلہ رفاعیہ جتنا بھی ناز کرے کم ہے ۔حضرت سید احمد کبیر رفاعی ؒ کی سب سے بڑی کرامت کتاب و سنت کی پیروی ہے ۔
آپ کی پوری زندگی فقرو فقیری ، درویشی ،عجز و انکساری ،رضائے الہی ٰ اور سنت نبوی ﷺ پر عمل پیرا رہی ۔انہوںنے کہاکہ ام عبیدہ کے دور دراز دیہاتوں میں کوئی علیل ہوتا تو اس کی تیمار داری کے لئے ضرورتشریف لے جاتے ۔بوقت ضرورت کچھ دن ان کے پاس قیام کرتے واپسی میں جنگل سے لکڑیاں اٹھا لاتے اور بیوائوں ،یتمیوں ،مسکینوں ،اپاہجوں ،نابنیائوں اور کبھی مشائخ و علماء کے گھروں میں تقسیم کرتے ۔

آپ کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ آپ سڑک پر نابینائوں کا انتظار کرتے تاکہ وہ اپنی منزل تک بخیر و عافیت پہنچ جائیں ۔آپ نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کی تربیت و اصلاح فرمائی ۔ اپنے خطبات و ارشادات اور مواعظ حسنہ کے ذریعہ آپ نے ہر طرح کے لوگوں کی اصلاح کافریضہ انجام دیا ۔
آپ کے حسن اخلاق کا یہ عالم تھا کہ انسان تو انسان جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا کرتے تھے ۔ایک دن ایک بلی آپ کے دامن پر سوگئی اسی درمیان نماز کا وقت ہوگیا آپ رفاعی ؒ نے دامن کا اتنا حصہ چاک کردیا اور اس کو بیدار نہ ہونے دیا کہ اسے تکلیف نہ ہو۔جب آپ نماز سے فارغ ہوکر تشریف لائے تو وہ جاگ چکی تھی آپ نے چاک شدہ کپڑا پھر سے اپنے دامن سے سل لیا ۔ایک دن سردی کے موسم میں آپ نے وضو فرمایا دیر تک ہاتھ پھیلائے کھڑے رہے اتنے میں آپ کے خادم خاص شیخ یعقوب نے آکر آپ کی دست بوسی کی ،آپ نے فرمایا تم نے اس ضعیف کو کیوں پریشان کیا انہوںنے تعجب سے عرض کیا ،حضور کون ضعیف ؟آپ نے ارشا د فرمایا ایک مچھر میرے ہاتھ سے رزق کھا رہا تھا جو تمہاری دست بوسی کی وجہ سے اڑگیا ۔

انہوںنے کہاکہ آپ کے عادات و اخلاق تمام و کمال اخلاق محمد ؐ کا نمونہ تھے ۔عجز و انکسار و تواضع و مسکنت آپ میں حد سے ذیادہ تھی ۔انہوںنے ائولیا اللہ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کی ۔
اس موقع پر مفتی محمد خان بیابانی ،جناب مجاہد خان بیابانی نے بھی مخاطب کیا ۔مولانا امیر اللہ نے نظامت کی ۔فقراء نے ضربات پیش کئے ۔اس موقع پر ایڈوکیٹ محمد ابوبکر سابق کارپوریٹر ، مرزا عزیز احمد بیگ ، سید شجاعت اللہ حسینی اور دیگر کے علاوہ رفاعی ؒ کے مریدین اور معتقدین کی کثیر تعداد موجود تھی
