cm revanth redddy sir 2026 letter to gyanesh kumar

CM Revanth Reddy Writes to CEC Gyanesh Kumar Over Telangana SIR 2026, Demands No Eligible Voter Be Deleted

تلنگانہ
CM Revanth Reddy Writes to CEC Gyanesh Kumar Over Telangana SIR 2026, Demands No Eligible Voter Be Deleted
تلنگانہ میں 2026 ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR) پر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کا چیف الیکشن کمشنر کو مکتوب، کہا – ایک بھی اہل ووٹر کا نام خارج نہ ہو

حیدرآباد، 29 اگست (دستور نیوز)

تلنگانہ میں 2026 کی ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR) کے عمل کے دوران اہل کسی بھی ووٹر کا نام فہرست سے خارج نہ ہو اور کوئی نااہل ووٹر فہرست میں شامل نہ ہو، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے بھارتی الیکشن کمیشن (ECI) کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے مکتوب میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اعتراضات اور شکایات داخل کرنے کی آخری تاریخ میں توسیع کی جائے اور ووٹروں کو مناسب وقت اور ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

*73 لاکھ ووٹروں کی ASDD کے طور پر نشاندہی پر تشویش*

وزیر اعلیٰ نے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 10 جون 2026 تک ریاست میں 3.38 کروڑ ووٹر ہیں، جن میں سے 73.39 لاکھ (21.7 فیصد) کو غیر حاضر، رہائش تبدیل کرنے والے، فوت شدہ اور ایک سے زیادہ جگہوں پر اندراج شدہ (ASDD) کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ اس میں سے تقریباً 62 فیصد یعنی 45.19 لاکھ ووٹروں کو مستقل طور پر رہائش تبدیل کرنے والا بتایا جانا تشویشناک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹلائز کیے گئے 2.65 کروڑ گنتی فارموں میں سے 60.50 لاکھ میں خامیاں پائی گئیں جبکہ 32.36 لاکھ فارموں کو پرانی ووٹر لسٹ سے جوڑا ہی نہیں گیا۔ اس صورتحال کی وجہ سے تقریباً 92.86 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کرنا پڑے گا جو ریاست کے تقریباً ایک تہائی ووٹروں کو متاثر کرے گا۔

*موجودہ طریقہ کار میں خامیاں*

وزیر اعلیٰ نے مکتوب میں کہا کہ موجودہ نظر ثانی کے طریقہ کار میں کئی اہم خامیاں ہیں۔ گنتی عملہ کے معائنے کے وقت عارضی طور پر گھر پر نہ ملنے والے اور مستقل طور پر رہائش تبدیل کرنے والے ووٹروں کو ایک ہی زمرے میں رکھا جا رہا ہے۔

حقیقی طور پر رہائش تبدیل کرنے والوں کو نئی جگہ پر فارم-6 کے ذریعے ووٹر کے طور پر اندراج میں مدد کیے بغیر ہی پرانی جگہ سے ان کا نام خارج کیا جا رہا ہے۔ نیز نام خارج کرنے سے قبل سرکاری نوٹس کا قانونی طریقہ کار بھی نہیں اپنایا جا رہا، جس کی وجہ سے ووٹر کو پولنگ کے دن تک اپنے ووٹ کے اخراج کا علم ہی نہیں ہو پاتا جو قدرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

*حیدرآباد، میڈچل اور رنگاریڈی میں سب سے زیادہ کیسز*

وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ ریاست کے کل ASDD ووٹروں میں سے 58.6 فیصد اور جانچ نوٹسوں میں سے 41.9 فیصد صرف حیدرآباد، میڈچل-ملکاج گری اور رنگاریڈی اضلاع میں مرکوز ہیں۔ ملازمت، شادی اور عارضی رہائش کی تبدیلی کی وجہ سے شہری علاقوں کے ووٹرز کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے نظر ثانی کے عمل کو مزید آسان بنایا جائے۔

*مدت میں توسیع اور گرام سبھاؤں کا مطالبہ*

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چونکہ مستقبل قریب میں تلنگانہ میں کوئی انتخاب نہیں ہے اس لیے ووٹر لسٹ کی نظر ثانی کے لیے کافی وقت ہے۔ انہوں نے 17 اگست سے 16 ستمبر تک کی اعتراضات کی مدت میں مزید 4 ہفتوں کی توسیع اور 19 اکتوبر کو شائع ہونے والی حتمی فہرست کی تاریخ میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے تجویز دی کہ دیہاتوں اور میونسپل وارڈوں میں وسیع تشہیر کی جائے، کم از کم دو بار گرام سبھا اور وارڈ کمیٹی اجلاس منعقد کر کے مسودہ ووٹر لسٹ کو کھلے عام پڑھ کر سنایا جائے۔

روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، مہاجر مزدوروں اور بزرگوں کے لیے دستاویزات جمع کرنے کے لیے ایک ہفتہ کا وقت ناکافی ہے، اس کے لیے کم از کم 3 سے 4 ہفتوں کا وقت دیا جائے۔ شہری علاقوں میں اسمبلی حلقہ اور پولنگ مرکز کی سطح پر امدادی مراکز قائم کیے جائیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومتی حکم نامہ (جی او نمبر 172) کے تحت جاری کردہ فیملی اندراج سرٹیفکیٹ کو قبول نہ کرنے سے شہری عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے منڈل سطح پر آسانی سے دستیاب دیگر دستاویزات کو بھی قبول کیا جائے۔

حیدرآباد کے ہر حلقے میں اوسطاً 78 ہزار سے زیادہ کیسز ہونے کی وجہ سے صرف چند افسران کی تقرری کافی نہیں، اس لیے ووٹر رجسٹریشن آفیسر سے نچلی سطح پر اضافی افسران تعینات کر کے طبع شدہ نوٹس میں ہی مخصوص تاریخ اور وقت کے ساتھ غیر مرکزی جانچ مراکز قائم کیے جائیں۔

آخر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت SIR کے عمل کو ہموار اور شفاف طریقے سے مکمل کرنے کے لیے امدادی مراکز کے قیام، گرام سبھاؤں کے انعقاد سمیت ہر طرح کا انتظامی تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
دستور نیوز