کونڈا سریکھا کی کابینہ سے برطرفی کے بعد ورنگل مشرق میں سیاسی بے یقینی اور اضطراب
Political Uncertainty Deepens in Warangal East After Konda Surekha’s Exit from Telangana Cabinet
اداریہ | دستور نیوز
تلنگانہ کی سیاست میں کونڈا سریکھا کو ریاستی کابینہ سے ہٹائے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے خاص طور پر ورنگل مشرق کی سیاسی فضا کو غیر یقینی اور اضطراب سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک طرف کونڈا سریکھا اور ان کے خاندان کی جانب سے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور بعض دیگر سیاسی شخصیات پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف کانگریس کے مقامی کارکنوں، کارپوریٹروں اور مختلف سطح کے قائدین کے درمیان یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں کونڈا خاندان کا سیاسی رخ کیا ہوگا؟
کابینہ سے برطرفی اور سریکھا کے سنگین الزامات
کونڈا سریکھا نے اپنی کابینہ سے برطرفی کے پس منظر میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر مبینہ طور پر ’’بلیک میل سیاست‘‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اعلیٰ قیادت پر دباؤ ڈالا کہ اگر انہیں کابینہ سے نہیں ہٹایا گیا تو وہ خود عہدہ چھوڑ دیں گے۔ سریکھا نے بعض دیگر سیاسی رہنماؤں کے نام لیتے ہوئے بھی اپنے خلاف سازش کا الزام عائد کیا ہے۔
تاہم یہ تمام الزامات کونڈا سریکھا کے دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ ایسے معاملات میں سیاسی الزام اور ثابت شدہ حقیقت کے درمیان فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
بیٹی سوسمیتا کا بھی سخت ردعمل
کونڈا سریکھا کی بیٹی سوسمیتا نے بھی وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر ان کے خاندان کو سیاسی طور پر نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے بعض سیاسی شخصیات کے خلاف مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق معلومات ای ڈی اور سی بی آئی کو فراہم کرنے کی بات کہی اور وزیر اعلیٰ کو چیلنج بھی کیا۔
یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاملہ محض ایک وزارتی عہدے سے محرومی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے تلنگانہ، خصوصاً ورنگل کی سیاست میں ایک نئی سیاسی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔
ورنگل مشرق میں کانگریس کارکنوں کے سامنے بڑا سوال
کونڈا سریکھا کی کابینہ سے علیحدگی کا سب سے فوری اثر ورنگل مشرق کے سیاسی ماحول پر دکھائی دے رہا ہے۔ حلقے میں کانگریس کے کارکنوں اور مقامی سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کونڈا سریکھا آئندہ کانگریس پارٹی کے ساتھ کس حد تک سرگرم رہیں گی۔
خصوصاً وہ کارپوریٹر، مقامی قائدین اور پارٹی کارکن جو آنے والے گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن (GWMC) انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں، ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار نظر آتے ہیں۔ کس گروپ کے ساتھ کھڑا ہونا مستقبل میں سیاسی طور پر فائدہ مند ہوگا؟ ٹکٹ کے لیے کس قائد سے رابطہ کیا جائے؟ اگر کونڈا خاندان کانگریس میں برقرار رہتا ہے تو مقامی سیاسی توازن کیا ہوگا، اور اگر راستہ تبدیل کیا جاتا ہے تو موجودہ کارکنوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ سوالات فی الحال جواب طلب ہیں۔
کونڈا خاندان کا پرانا سیاسی کیڈر بھی اہم
ورنگل مشرق کی سیاست کو سمجھنے کے لیے کونڈا خاندان کے سیاسی سفر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کونڈا سریکھا ماضی میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی، جو بعد میں بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) کہلائی، سے وابستہ رہی ہیں اور بعد میں کانگریس میں شامل ہوئی تھیں۔
اس سیاسی سفر کے دوران ان کے ساتھ وابستہ کارکنوں اور حامیوں کا ایک الگ سیاسی نیٹ ورک بھی تشکیل پایا۔ کانگریس میں شمولیت کے بعد جب یہ کیڈر کانگریس کے موجودہ مقامی سیاسی ڈھانچے کے ساتھ آیا تو وقت کے ساتھ مختلف گروپوں اور دھڑوں کے درمیان سیاسی اختلافات کی باتیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں یہی پرانے اور نئے سیاسی دھڑے ایک مرتبہ پھر اپنے اپنے مستقبل کا جائزہ لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔
کے سی آر کے بارے میں سریکھا کا مثبت بیان بھی معنی خیز
موجودہ سیاسی تنازع کے درمیان کونڈا سریکھا کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ اور بی آر ایس سربراہ کے سی آر کے بارے میں دیے گئے مثبت بیانات بھی سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔ ایک انٹرویو میں سریکھا نے کے سی آر کو ’’بہت اچھا انسان‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے شائستہ رویے اور عزت دینے کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے شوہر کونڈا مرلی کو ایم ایل سی بنانے میں کے سی آر نے ان کی خواہش کا احترام کیا تھا۔
اگرچہ یہ بیان اپنے آپ میں کسی سیاسی فیصلے کا اعلان نہیں ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس کے سیاسی مضمرات پر بحث ہونا فطری ہے۔
کیا کونڈا خاندان کانگریس میں رہے گا؟
اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کونڈا سریکھا اور کونڈا مرلی آئندہ کانگریس میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے یا کسی دوسرے سیاسی پلیٹ فارم کا انتخاب کریں گے۔
سیاسی حلقوں میں بی جے پی کی جانب ممکنہ رابطوں کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں۔ بعض اطلاعات میں بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے کونڈا خاندان کو دعوت دیے جانے کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ بی آر ایس اور جنا سینا کے امکانات پر بھی سیاسی مباحث جاری ہیں۔
لیکن جب تک کونڈا خاندان کی جانب سے باضابطہ طور پر اپنے آئندہ سیاسی لائحۂ عمل کا اعلان نہیں کیا جاتا، ان قیاس آرائیوں کو محض سیاسی امکانات ہی سمجھا جانا چاہیے۔
GWMC انتخابات سے پہلے سیاسی امتحان
یہ ساری صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کی تیاریوں کا مرحلہ قریب آ رہا ہے۔ ایسے وقت میں مقامی کارپوریٹرز، خواہش مند امیدواروں اور نچلی سطح کے کارکنوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ سیاسی وابستگی اور ٹکٹ کا ہے۔
اگر کونڈا خاندان کانگریس میں برقرار رہتا ہے تو کانگریس کے اندر موجود مختلف گروپوں کے درمیان ٹکٹوں کی تقسیم اور سیاسی اثر و رسوخ کا سوال اہم ہوگا۔ اگر وہ کسی دوسری جماعت کا رخ کرتے ہیں تو ان کے موجودہ کیڈر کے سامنے نئی سیاسی صف بندی کا چیلنج ہوگا۔
اسی لیے ورنگل مشرق میں سیاسی کارکن فی الحال کسی حتمی فیصلے کے بجائے صورتحال کا انتظار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ورنگل میں سیاسی بھونچال یا نئی صف بندی؟
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کونڈا سریکھا کی کابینہ سے علیحدگی نے ورنگل مشرق کی سیاست میں ایک ایسا خلا اور سوال پیدا کر دیا ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں ہی ملے گا۔ عوام اور سیاسی کارکنوں میں یہ تذبذب نمایاں ہے کہ کونڈا خاندان کا اگلا قدم کیا ہوگا اور اس قدم کے نتیجے میں مقامی سیاست کا نقشہ کس حد تک تبدیل ہوگا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ تنازع مستقبل میں صرف ایک سیاسی خاندان اور حکمران جماعت کے درمیان اختلاف تک محدود نہ رہے بلکہ ورنگل کی مقامی سیاست میں نئی صف بندیوں کا سبب بنے۔
فی الحال سب کی نظریں کونڈا سریکھا اور ان کے خاندان کے اگلے سیاسی فیصلے پر مرکوز ہیں۔ کیا وہ کانگریس میں رہ کر اپنی سیاسی جنگ جاری رکھیں گے؟ کیا کسی دوسری جماعت کا رخ کریں گے؟ یا پھر موجودہ اختلافات کے باوجود کانگریس کے اندر ہی رہ کر اپنا سیاسی اثر برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے؟
ورنگل مشرق کی سیاست میں فی الحال یہی سب سے بڑا سوال ہے—اور اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں نہ صرف کونڈا خاندان بلکہ GWMC انتخابات کی سیاست کی سمت بھی متعین کرسکتا ہے۔
dastoornews.com