حیدرآباد میں جماعت اسلامی ہند کی تین روزہ ’بیونڈ دی ڈیوائیڈ‘ ایکسپو کا کامیاب اختتام،
عوام کی غیر معمولی دلچسپی
نفرتوں کے خاتمے، غلط فہمیوں کے ازالے اور سماجی ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت: مقررین
Beyond the Divide Expo Concludes Successfully in Hyderabad, Promoting Peace and Communal Harmony
حیدرآباد،یکم نومبر
(دستور نیوز)
نفرتوں کے خاتمے، مذہبی غلط فہمیوں کے ازالے اور سماج میں امن و ہم آہنگی کے فروغ کے لیے باہمی روابط اور مثبت مکالمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی ہند، عظیم تر حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ تین روزہ خصوصی ایکسپو ’بیونڈ دی ڈیوائیڈ – کاؤنٹرنگ ہیٹ، بلڈنگ ہارمنی‘ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ اتوار کو نمائش میدان، نامپلی میں اس ایکسپو کا کامیاب اختتام عمل میں آیا، جس میں مختلف مذاہب، طبقات اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس تین روزہ ایکسپو کا بنیادی مقصد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے گراں قدر کردار کو تاریخی شواہد کے ساتھ اجاگر کرنے، اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے اور مختلف مذاہب کے درمیان باہمی احترام، بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔
نمائش میں ہندوستان کی تہذیبی، علمی، فکری، ادبی اور تعمیراتی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات کو مختلف تاریخی دستاویزات، معلوماتی پینلز، انٹرایکٹو ماڈلز اور جدید تھری ڈی ہولوگرام ٹیکنالوجی کے ذریعے پیش کیا گیا۔ خواتین، طلبہ اور نوجوانوں سمیت مختلف عمر کے افراد نے نمائش میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور مختلف موضوعات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے ساتھ اپنے سوالات بھی پیش کیے۔
ایکسپو کے مختلف حصوں میں مسلم حکمرانوں، علماء، دانشوروں اور فنکاروں کی خدمات کے علاوہ انتظامی نظام، فن تعمیر، تعلیم، ادب، سائنس اور فنون لطیفہ میں ان کے کردار کو تاریخی تناظر میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب مختلف مذاہب اور طبقات کی صدیوں پر محیط مشترکہ جدوجہد اور باہمی تعاون کا نتیجہ ہے۔
نمائش میں اسلام، جہاد، دہشت گردی، خواتین کے حقوق اور مذہبی رواداری جیسے موضوعات پر بھی خصوصی معلوماتی پیشکشیں رکھی گئیں۔ اسی طرح ’لو جہاد‘ اور ’پاپولیشن جہاد‘ جیسی اصطلاحات سے متعلق پھیلائے جانے والے تصورات کا جائزہ لینے کے لیے انٹرایکٹو سیشنز پیش کیے گئے، تاکہ زائرین سوالات اور معلومات کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرسکیں۔
تھری ڈی ہولوگرام ٹیکنالوجی کے ذریعے پیش کی گئی تین کہانیوں نے بھی زائرین کی توجہ حاصل کی، جن کے ذریعے انسانیت، بھائی چارے، باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے احترام کا پیغام دیا گیا۔

اختتامی اجلاس سے اہم شخصیات کا خطاب
ایکسپو کے اختتام پر اتوار کی شام منعقدہ اجلاس میں نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر محمد سلیم انجینئر، امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ محمد اظہرالدین، معاون امیر حلقہ صادق احمد، ریٹائرڈ آئی اے ایس اکونوری مرلی اور ناظم شہر جماعت اسلامی ہند حیدرآباد ڈاکٹر محمد مبشر احمد سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی اور خطاب کیا۔
پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب سماج میں تقسیم اور مختلف طبقات کے درمیان بداعتمادی کے مسائل بڑھ رہے ہیں، ایسے ماحول میں پرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور اتحاد کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
محمد اظہرالدین نے کہا کہ ذات پات، مذہب اور ثقافتی تنوع کو سماجی تعلقات میں رکاوٹ بننے کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے اور معاشرے کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔
صادق احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام انسانوں کو جوڑنے اور باہمی محبت و احترام کا درس دیتا ہے، جبکہ تنازعات کی بنیادی وجہ مذہب کو صحیح طور پر نہ سمجھنا یا اس کا غلط استعمال ہے۔ انہوں نے نفرت پھیلانے کے بجائے سماج میں بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ریٹائرڈ آئی اے ایس اکونوری مرلی نے مذہبی ہم آہنگی، باہمی افہام و تفہیم اور آئینی اقدار کے فروغ کے لیے اس نوعیت کے پروگراموں کو اہم قرار دیا اور منتظمین کی کوششوں کو سراہا۔

نفرت کے بجائے امید اور تعمیری جدوجہد کا پیغام
ناظم شہر جماعت اسلامی ہند حیدرآباد ڈاکٹر محمد مبشر احمد نے اپنے خطاب میں موجودہ حالات میں امت مسلمہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے چار اہم اصول پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ مایوسی کے بجائے امید، اشتعال کے بجائے حکمت، خاموش تماشائی بننے کے بجائے ذمہ دار شہری کا کردار اور ردعمل کی سیاست کے بجائے تعمیری جدوجہد کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے دیگر طبقات سے روابط بڑھانے، اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے، نوجوانوں کو اس مشن سے جوڑنے اور نفرت کے مقابلے میں مثبت بیانیہ تشکیل دینے پر زور دیا۔
ڈاکٹر مبشر احمد نے مزید کہا کہ ہندوستان ہماری جنم بھومی اور کرم بھومی ہے، اس لیے ملک میں نفرت کے خاتمے، امن و اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے دیگر طبقات کے تعاون سے مسلسل کوششیں جاری رکھنی ہوں گی۔

ایکسپو کا پیغام مستقبل کے لیے بھی اہم: طارق منیر
ایکسپو کے کنوینر طارق منیر نے کہا کہ اگرچہ تین روزہ نمائش اتوار کو اختتام پذیر ہوگئی، تاہم اس کے ذریعے دیا گیا پیغام موجودہ سماجی حالات میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کثیر مذہبی اور تہذیبی شناخت مختلف طبقات کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس مشترکہ تاریخ کو سمجھنا ماضی کی غلط فہمیوں کے ازالے کے ساتھ ایک مساوات پر مبنی، پُرامن اور ہم آہنگ مستقبل کی تعمیر کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ اس ایکسپو کے دوران بین المذاہب سیمینار اور تاریخی نشستوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اختتامی اجلاس میں سابق امیر حلقہ تلنگانہ مولانا حامد محمد خان، سٹی سکریٹریز مرزا اعظم علی بیگ، سلطان محی الدین، سید محمد عبدالقادر ناصر، عبدالمجید ذاکر، جماعت اسلامی حیدرآباد کے اراکین شوریٰ، امرائے مقامی اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔
dastoornews.com