Hyderabad’s International Footballer Mohammed Akbar: A Journey of Dedication, Hard Work and Global Recognition
حیدرآباد کے عالمی فٹبالر محمد اکبر کی داستانِ عزم، محنت اور شہرت
فٹبال کے میدان سے عالمی شناخت تک؛ محمد اکبر کی خصوصی گفتگو، حیدرآباد کی سنہری فٹبال روایت اور نئی نسل کے لیے اہم پیغام
از: صحافی محمد نصراللہ خان
فٹبال محض ایک کھیل نہیں بلکہ صحت، جسمانی چستی، نظم و ضبط، ٹیم ورک، وقت کی پابندی اور ذمہ داری کا درس دینے والا کھیل ہے۔ یہی کھیل کسی باصلاحیت کھلاڑی کو ملکی سطح سے عالمی میدان تک شناخت دلانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
حیدرآباد میں فٹبال کی ایک طویل اور شاندار روایت رہی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کئی دہائیوں تک فٹبال کے مقابلے منعقد ہوتے رہے اور متعدد باصلاحیت کھلاڑیوں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں نوجوان فٹبال سے وابستہ ہیں اور اس کھیل کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم ہیں۔
اسی سلسلے میں حیدرآباد کے معروف بین الاقوامی فٹبال کھلاڑی محمد اکبر سے خصوصی گفتگو کی گئی، جس میں انہوں نے اپنے فٹبال سفر، خاندانی پس منظر، عالمی سطح پر حاصل ہونے والے تجربات اور نئی نسل کے لیے اپنے پیغام پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
کھیلوں کے ماحول میں پرورش
محمد اکبر کے مطابق ان کی پیدائش 1952 میں منگل ہاٹ، حیدرآباد میں ہوئی۔ انہوں نے نمپلی ملٹی پرپز ہائی اسکول سے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ ان کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جہاں کھیل خصوصاً فٹبال کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔
ان کے خاندان کے متعدد افراد فٹبال کے میدان سے وابستہ رہے اور ان کے بڑے بھائیوں نے بھی شہر، ریاست، قومی اور بین الاقوامی سطح پر فٹبال میں نام پیدا کیا۔
محمد اکبر نے اپنے بھائیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ محمد اعظم فٹبال کے ساتھ ساتھ ریفری کے طور پر بھی نمایاں رہے اور پولیس محکمہ میں خدمات انجام دیتے ہوئے اعلیٰ عہدے تک پہنچے۔ بعد ازاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ریفری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
اسی طرح محمد معین حیدرآباد کے معروف فٹبالر رہے اور طویل عرصے تک محمدن اسپورٹنگ سے وابستہ رہے۔ محمد صدیق نے بھی فٹبال میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور پولیس میں خدمات انجام دینے کے بعد سعودی عرب میں بھی فٹبال کھیلا۔
ان کے بھائی محمد حبیب ہندوستان کے معروف فٹبال کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور انہیں ارجن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ان کی فٹبال خدمات اور کھیل میں نمایاں مقام آج بھی شائقینِ کھیل کے لیے قابلِ ذکر ہے۔
حیدرآباد کی فٹبال روایت
محمد اکبر نے بتایا کہ ایک دور میں حیدرآباد میں فٹبال کا بے حد شاندار ماحول تھا۔ سٹی کالج، گوشہ محل، عنبر پیٹ، وجے نگر کالونی، گولکنڈہ بوائز ہائی اسکول، بارکس اور ریڈ ہلز سمیت شہر کے کئی علاقوں میں فٹبال کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔
ان کے مطابق حیدرآباد نے ایسے کئی کھلاڑی پیدا کیے جنہوں نے نہ صرف ریاست بلکہ ملک کی نمائندگی کی۔ انہوں نے امول راج، محمد فرید، شبیر علی، محمد حمید اللہ صدیقی اور ارشاد احمد فریدی سمیت متعدد کھلاڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے حیدرآباد کی فٹبال روایت کو یاد کیا۔
بین الاقوامی میدانوں میں تجربات
محمد اکبر کے مطابق انہیں مختلف ممالک میں فٹبال کھیلنے اور بین الاقوامی سطح کے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے تھائی لینڈ، جاپان، انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے دوروں اور وہاں فٹبال مقابلوں میں شرکت کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کھیلنے سے انہیں نہ صرف فٹبال کے مختلف انداز سمجھنے کا موقع ملا بلکہ نظم و ضبط، سخت محنت، ٹیم ورک اور کھیل کے اعلیٰ معیار کو بھی قریب سے دیکھنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔
اپنی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے محمد اکبر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل، والدین کی دعائیں، مسلسل محنت، کھیل سے وابستگی اور نظم و ضبط ان کے فٹبال سفر میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مقامی کھلاڑیوں اور میدانوں پر توجہ کی ضرورت
محمد اکبر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حیدرآباد اور تلنگانہ میں فٹبال کو مزید فروغ دینا ہے تو مقامی کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات، معیاری گراؤنڈز، تربیتی مواقع اور باقاعدہ مقابلوں کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق ماضی میں فٹبال کے لیے جو ماحول موجود تھا، اسے دوبارہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع حاصل ہوں۔
انہوں نے فٹبال کی تاریخ کو محفوظ کرنے اور سابق کھلاڑیوں کی خدمات کو نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
نوجوانوں کے لیے خصوصی پیغام
محمد اکبر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو صرف تعلیم تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں کھیلوں میں بھی حصہ لینے کی ترغیب دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فٹبال اور دیگر کھیل نوجوانوں کو صحت مند، چست، بااعتماد اور نظم و ضبط کا پابند بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کھیل کے ذریعے نوجوانوں میں ٹیم ورک، ذمہ داری اور قیادت کی صلاحیتیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر باقاعدہ فٹبال ٹورنامنٹس منعقد کیے جائیں اور سابق عظیم کھلاڑیوں کے نام سے مقابلوں کا انعقاد کرکے نوجوان نسل کو ان کی خدمات اور کامیابیوں سے روشناس کرایا جائے۔
فٹبال کے روشن مستقبل کی امید
محمد اکبر کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں فٹبال کا ٹیلنٹ آج بھی موجود ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو مناسب پلیٹ فارم، تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں۔
ان کے مطابق اگر سرکاری ادارے، کھیلوں کی تنظیمیں، تعلیمی ادارے، والدین اور سماجی تنظیمیں مل کر فٹبال کے فروغ کے لیے کام کریں تو حیدرآباد اور تلنگانہ سے مستقبل میں مزید ایسے کھلاڑی سامنے آسکتے ہیں جو قومی اور عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کریں۔
محمد اکبر کی فٹبال زندگی اس بات کی مثال ہے کہ صلاحیت کے ساتھ محنت، نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور مواقع میسر ہوں تو ایک مقامی کھلاڑی بھی عالمی میدان تک اپنا سفر طے کرسکتا ہے۔
dastoornews