دھرنی اراضی معاملات کی SET سے تحقیقات کا اعلان

Telangana CM Revanth Reddy Announces SET Probe into Alleged Dharani Land Irregularities

تلنگانہ
Telangana CM Revanth Reddy Announces SET Probe into Alleged Dharani Land Irregularities
دھَرَنی کے نام پر مبینہ اراضی بے ضابطگیوں کی SET سے تحقیقات کا اعلان: ریونت ریڈی

حیدرآباد، 17 ستمبر:
(دستور نیوز)

تلنگانہ کے چیف منسٹر اے. ریونت ریڈی نے اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ دھَرَنی پورٹل کو بنیاد بنا کر اراضی میں مبینہ بے قاعدگیوں اور غیر قانونی قبضوں سے متعلق تمام معاملات کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SET) کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں گی۔

چیف منسٹر نے اسمبلی میں ممنوعہ اراضی کی فہرست 22-A پر مختصر مدتی بحث کے دوران تفصیلی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اراضی سے متعلق پیدا ہونے والے مسائل اور مبینہ بے ضابطگیوں کو خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد حقیقی اراضی مالکان کے حقوق کا تحفظ اور اراضی تنازعات کا حل تلاش کرنا ہے۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست میں اراضی سے متعلق مسائل کی جڑیں نظامِ حیدرآباد کے دور سے لے کر متحدہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد کے ادوار تک پھیلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے 1908 سے شروع ہونے والے اراضی ریکارڈ، 1954-55 کی کاسرا پہانی، 1955 میں انعام اراضی سے متعلق قانون، بھودان تحریک، 1965 کے قانون، قبائلی اراضی کے تحفظ سے متعلق 1/70 ایکٹ، 1989 کے نئے ROR قانون اور پٹہ دار پاس بکس کے اجرا سمیت مختلف اقدامات کا حوالہ دیا۔

چیف منسٹر کے مطابق، اراضی چند افراد کے ہاتھوں میں مرکوز ہونے کے پس منظر میں 1973 میں لینڈ سیلنگ ایکٹ نافذ کیا گیا، جبکہ 1977 میں اسائنڈ اراضی کی منتقلی پر پابندی سے متعلق قانون لایا گیا۔ انہوں نے 2006 کے فاریسٹ رائٹس ایکٹ کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد قبائلی اور آدیواسی برادریوں کے حقوق کا تحفظ تھا۔

دھَرَنی پورٹل اور اراضی ریکارڈ

ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد 2018 میں دھَرَنی پورٹل کے عمل کا آغاز ہوا۔ ان کے مطابق اس عمل کے لیے ابتدا میں IL&FS کو ذمہ داری دی گئی، جس کے بعد یہ ذمہ داری مختلف کمپنیوں، بشمول Terracis اور Falcon، تک پہنچی۔

چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ ریاست کے کسانوں سے متعلق تقریباً 2.50 کروڑ ایکڑ اراضی کے ریکارڈ، آدھار نمبرز، بینک اکاؤنٹ نمبرز اور فون نمبرز سمیت دیگر معلومات بیرونِ ملک منتقل کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اراضی ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کے بجائے انہیں غیر ملکی اداروں کے ہاتھوں میں پہنچانے کی صورتحال پیدا ہوئی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں اراضی قبضوں کی روک تھام کے لیے جون 1982 میں لینڈ گرابنگ ایکٹ لایا گیا تھا، لیکن تلنگانہ کے قیام کے بعد اسے ختم کردیا گیا۔

3,73,930 ایکڑ اراضی کے تنازعات کا حوالہ

چیف منسٹر نے اسمبلی کو بتایا کہ نجی اراضی سے متعلق تقریباً 3,73,930 ایکڑ اراضی پر تنازعات موجود ہیں۔ ان کے مطابق عوام کی اراضی کے تحفظ اور اراضی تنازعات کے حل کے لیے 2025 میں بھوبھارتی ایکٹ لایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دھَرَنی کے نام پر مبینہ بے ضابطگیوں کو روکنے اور عوام کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے مختلف طبقات اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد اصلاحات کی سمت میں اقدامات کیے گئے۔

22-A کے تعلق سے کیا کہا؟

ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ ممنوعہ اراضی سے متعلق سیکشن 22-A موجودہ حکومت نے متعارف نہیں کیا۔ ان کے مطابق متحدہ آندھرا پردیش کے دور میں 1999 میں پہلی مرتبہ سیکشن 22-A نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد بھودان، وقف، دیوادایا اور سرکاری اراضی سمیت مخصوص زمروں کی زمینوں کا تحفظ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2015 میں فل بینچ کے فیصلے کے بعد ممنوعہ اراضی کو مختلف کلازز کے تحت درجہ بندی کرنے کی ضرورت سامنے آئی۔ ان کے مطابق ایک سروے نمبر کے کسی ایک حصے میں تنازع ہونے کی صورت میں پورے سروے نمبر کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے سے مسائل میں اضافہ ہوا۔

چیف منسٹر کے مطابق اکتوبر 2020 میں ممنوعہ فہرست میں 7,91,542 ایکڑ اراضی شامل تھی، جسے موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد 3,73,930 ایکڑ تک کم کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹ-B میں شامل متنازع اراضی کو تقریباً 17 لاکھ ایکڑ تک کم کیا گیا ہے۔

ممنوعہ فہرست میں زمین شامل کرنے کا نیا طریقہ

چیف منسٹر نے کہا کہ آئندہ کسی اراضی کو سیکشن 22-A کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ متعلقہ کلکٹر کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ شخص کے اعتراضات، دستیاب ریکارڈ اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ فیصلے سے متاثرہ شخص کو 60 دن کے اندر اپیل کا حق حاصل ہوگا، جبکہ اس کے بعد 90 دن کے اندر ریویژن پٹیشن دائر کرنے کی گنجائش ہوگی۔

وقف اور دیوادایا اراضی کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ چیف منسٹر کے مطابق اگر کسی بڑے سروے نمبر کا صرف ایک حصہ متنازع ہو تو صرف اسی حصے کو ممنوعہ فہرست میں برقرار رکھتے ہوئے باقی اراضی کو فہرست سے نکالنے پر غور کیا جائے گا۔

مبینہ ایک لاکھ کروڑ روپے کی اراضی کا معاملہ

ریونت ریڈی نے اسمبلی میں الزام عائد کیا کہ ریاست میں غریبوں سے متعلق تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے مالیت کی اراضی مبینہ طور پر لوٹی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات کی حقیقت سامنے لانا ضروری ہے اور دھَرَنی کے ذریعے مبینہ اراضی بے ضابطگیوں کو حکومت نظرانداز نہیں کرے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اراضی سے متعلق مختلف شکایات اور مبینہ بے ضابطگیوں کو Special Enquiry Team (SET) کے حوالے کیا جائے گا تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور ذمہ داری کا تعین کیا جاسکے۔ اس اعلان کی خبر PTI اور UNI سمیت متعدد ذرائع نے بھی رپورٹ کی ہے۔

چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت اراضی کے معاملات میں غلطیوں کی گنجائش کم کرنے اور حقیقی مالکان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے اپوزیشن

سے بھی اراضی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تجاویز دینے کی اپیل کی اور کہا کہ مناسب تجاویز پر حکومت غور کرے گی۔

دستور نیوز