NTA Playing With Students’ Futures Through Repeated Failures: Former AISF National President Takkalapalli Srinivasa Rao
این ٹی اے کی مسلسل غلطیوں سے طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ: سابق قومی صدر اے آئی ایس ایف تکّلاپلی سرینواس راؤ

ہنمکنڈہ:19/اگست
(دستور نیوز)
سابق قومی صدر آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (AISF) تکّلاپلی سرینواس راؤ نے الزام عائد کیا ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی مسلسل غلطیوں اور لاپرواہی کی وجہ سے طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ ہو رہا ہے۔ انہوں نے این ٹی اے میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی عدالتی تحقیقات کرانے اور این ٹی اے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روز ہنمکنڈہ کے بالاسمُدّرم میں واقع اے آئی ایس ایف ضلع دفتر میں منعقدہ ضلع کمیٹی کے اہم کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس کی صدارت ضلع سکریٹری باشابوئین سنتوش نے کی۔
تکّلاپلی سرینواس راؤ نے کہا کہ جون میں منعقدہ UGC-NET داخلہ امتحان میں متعدد خامیوں اور غلطیوں کے بعد این ٹی اے کی جانب سے انگلش، سوشیالوجی اور کامرس کے پرچوں کو منسوخ کرنے کا اعلان طلبہ کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ NEET پیپر لیک اور مختلف امتحانات میں بے ضابطگیوں سے لے کر موجودہ UGC-NET سوالیہ پرچوں میں غلطیوں تک، این ٹی اے کے امتحانات کے انعقاد میں مسلسل لاپرواہی سامنے آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ٹی اے کی مسلسل ناکامیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کی عدالتی تحقیقات کرائی جانی چاہیے۔ امتحانات میں بار بار ہونے والی غلطیوں کے باعث طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں اور این ٹی اے حکام کی غلطیوں کا خمیازہ طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ادارہ مسلسل امتحانات کے انعقاد میں غلطیوں اور بے ضابطگیوں کا مرتکب ہو رہا ہے تو حکومت اسے ختم کرنے کے لیے کارروائی کرنے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس کے لیے ایک NTA زیادہ اہم ہے یا ملک کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل۔
سابق قومی صدر اے آئی ایس ایف نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر فوری توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض امتحانات کے انعقاد کی ذمہ داری صرف مرکزی حکومت کے تحت رکھنے کے بجائے ریاستوں کو بھی دی جانی چاہیے اور مرکزی حکومت فوری طور پر NTA کو مکمل طور پر ختم کرنے کے اقدامات کرے۔
تکّلاپلی سرینواس راؤ نے بتایا کہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (AISF) اپنے قیام کے 90 سال مکمل ہونے کے موقع پر 28، 29 اور 30 ستمبر کو ہنمکنڈہ ضلع مرکز میں تین روزہ ریاستی سطح کی سالانہ تقریبات شاندار پیمانے پر منعقد کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ AISF طلبہ کے حقوق، سماجی انصاف، جمہوری اقدار، ملک کی یکجہتی اور امن کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والی تاریخی طلبہ تنظیم ہے۔ 1936 میں قیام کے بعد سے تنظیم نے کئی نسلوں کے طلبہ کو جدوجہد کی راہ پر گامزن کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کو معیاری تعلیم تک رسائی، غریب طلبہ کو مساوی مواقع کی فراہمی اور سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے AISF نے متعدد تحریکیں چلائی ہیں۔ 90 سالہ سفر کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریبات کا مقصد ماضی کی جدوجہد کو یاد کرنا، اس کی روح کو نئی نسل تک پہنچانا اور مستقبل کی طلبہ تحریک کے لیے سمت متعین کرنا ہے۔

اجلاس سے AISF تلنگانہ ریاستی صدر کاسریڈی منی کنٹھ ریڈی اور سابق ریاستی رہنما کرّے بھکشپتی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں شعبۂ تعلیم کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں تعلیم کے بڑھتے اخراجات، زیرِ التوا اسکالرشپس، فیس ری ایمبرسمنٹ، بے روزگاری اور سرکاری تعلیمی اداروں کے مسائل شامل ہیں۔ ان مسائل پر طلبہ کی جانب سے مزید مضبوط تحریکیں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے طلبہ، نوجوانوں، دانشوروں، جمہوریت پسندوں، عوامی تنظیموں، تحریکوں سے وابستہ افراد اور صحافیوں سے اپیل کی کہ 28، 29 اور 30 ستمبر کو ہنمکنڈہ میں منعقد ہونے والی AISF کی 90ویں سالگرہ کی ریاستی سطح کی تقریبات کو کامیاب بنائیں اور ہر طالب علم و نوجوان اس تاریخی پروگرام کا حصہ بنے۔
اس اجلاس میں ہنمکنڈہ ضلع صدر اوٹکوری پرنیت گوڑ، ورنگل ضلع صدر و سکریٹری ددّی پارتھاسارتھی اور یادلّا شرت، ضلع نائب صدور جکّلا بھانو پرساد، سری پتی ونے، ویلپولا چرن، ضلع معاون سکریٹری کونڈا چرن، بنی، چرا سائی، ضلع کمیٹی ارکان کنداگٹلا اجے، ملّابوئین رام چرن، گنڈیلی اویناش، سائی اور دیگر نے شرکت کی۔
dastoornews.com