The Bone of Greed
🌺 حرص کی ہڈی 🌺
(افسانچہ)
از قلم: نعیمہ گوہر
ورنگل، تلنگانہ، بھارت
کسی بادشاہ کا ذکر ہے جو نہایت ایمان دار، دیانت دار، ہمدرد اور مخلص تھا۔ وہ اپنی رعایا سے بے حد محبت کرتا اور ہمیشہ اس بات کی کوشش میں رہتا کہ اس کی سلطنت میں کسی کو کسی چیز کی کمی نہ رہے۔
اسی مقصد کے تحت اس نے اعلان کروایا کہ ہر پیر کے دن جو شخص بھی ضرورت مند ہو، دربار میں حاضر ہو کر اپنی روداد بیان کرے اور اپنی ضرورت کے مطابق امداد حاصل کرے۔
چنانچہ لوگ آتے رہے، اپنی مشکلات بیان کرتے رہے اور بادشاہ کی سخاوت سے فیض یاب ہوتے رہے۔ رفتہ رفتہ بادشاہ کی فیاضی اور رحم دلی کا چرچا دور دور تک پھیل گیا۔
ایک دن ایک مفلس شخص اپنی باری پر دربار میں حاضر ہوا۔ اس نے ادب سے عرض کیا:
"بادشاہ سلامت! اللہ تعالیٰ آپ کا اقبال بلند کرے، آپ کو عمرِ دراز عطا فرمائے۔ آپ ہم غریبوں کے سہارے ہیں۔ مجھے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی میلی کچیلی تھیلی میں ہاتھ ڈالا اور ایک ہڈی نما ٹکڑا نکال کر بادشاہ کے سامنے رکھ دیا۔
پھر بولا:
"حضور! بس اتنی عنایت فرما دیجیے کہ اس ٹکڑے کے وزن کے برابر کچھ عطا کر دیں، میری دنیا سنور جائے گی۔”
بادشاہ نے حیرت سے اس ٹکڑے کو دیکھا اور اسے ترازو میں رکھنے کا حکم دیا۔
جیسے ہی وہ ٹکڑا ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا گیا، وہ پلڑا فوراً نیچے جھک گیا۔ دوسرے پلڑے میں پہلے ہلکی چیزیں رکھی گئیں، پھر سکے ڈالے گئے، اس کے بعد قیمتی اشیاء اور مزید وزنی سامان بھی رکھا گیا، مگر حیرت انگیز طور پر ترازو کا پلڑا اپنی جگہ سے نہ ہلا۔
بادشاہ حیران رہ گیا۔ اسے سمجھ نہ آئی کہ آخر اس معمولی سے ٹکڑے میں ایسی کیا خاص بات ہے۔
اس نے اس شخص سے کہا:
"تم دو دن بعد آنا، تمہارا مطالبہ ضرور پورا کیا جائے گا۔”
مفلس شخص چلا گیا تو بادشاہ نے وزیر کو حکم دیا کہ اس ہڈی نما ٹکڑے کی حقیقت معلوم کی جائے۔
وزیر نے ماہرین، دانشوروں اور اہلِ علم سے رابطہ کیا۔ کئی دن کی تحقیق اور غور و فکر کے بعد ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی۔
ماہرین نے بتایا:
"یہ کوئی عام ہڈی نہیں بلکہ انسانی کھوپڑی کے اس حصے کا ٹکڑا ہے جو اپنی زندگی میں حد درجہ حریص انسان کا تھا۔ اگرچہ اس انسان کی زندگی ختم ہو گئی، لیکن اس کی حرص کی علامت آج بھی باقی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"انسان کی فطرت بھی عجیب ہے۔ بعض صفات ایسی ہوتی ہیں جو زندگی بھر اس کے ساتھ رہتی ہیں۔ حرص ایسی ہی ایک صفت ہے۔ جو شخص حرص کا شکار ہو جائے، اسے دنیا کی کوئی دولت مطمئن نہیں کر سکتی۔”
اسی لیے اس ہڈی کے وزن کے برابر ایک خزانہ کیا، کئی سلطنتوں کے خزانے بھی ناکافی ثابت ہوں گے۔
سبق:
حرص و لالچ کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ انسان کو جتنا بھی مل جائے، اگر اس کے دل میں قناعت نہ ہو تو وہ ہمیشہ مزید کا طلب گار رہتا ہے۔ اس کے برعکس قناعت ہی وہ دولت ہے جو انسان کو حقیقی سکون اور خوشی عطا کرتی ہے۔
بس یہی اس افسانچے کا پیغام اور یہی ابدی حقیقت ہے۔
دستور نیوز ڈاٹ کام