AIYF announces support for BCJAC’s “Band for Justice”
BJP is against BC reservations, must be ousted from power – Dr. Syed Waliullah Qadri, Kalluru Dharmendra
اے آئی وائی ایف کا بی سی جے اے سی کے “بند فار جسٹس” کی تائید کا اعلان
بی جے پی بی سی ریزرویشنز کے خلاف ہے، اقتدار سے بے دخل کرنا ضروری – ڈاکٹر سید ولی اللہ قادری، کلّورو دھرمیندر

حیدرآباد:-14/اکتوبر
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
آل انڈیا یوتھ فیڈریشن (اے آئی وائی ایف) تلنگانہ ریاستی کمیٹی نے بی سی جے اے سی (بی سی ایکیا کاریاچرن کمیٹی) کی جانب سے “بند فار جسٹس” کے عنوان سے 18 اکتوبر کو دیے گئے ریاست گیر بند کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔اے آئی وائی ایف ریاستی صدر ڈاکٹر سید ولی اللہ قادری اور ریاستی سکریٹری کلّورو دھرمیندر نے واضح کیا کہ ان کی تنظیم نہ صرف اس بند کی تائید کرے گی بلکہ ریاست بھر میں سرگرم حصہ لے گی۔ یہ اعلان اے آئی وائی ایف کی ریاستی مجلسِ عاملہ کے اجلاس کے بعد کیا گیا، جو ہیما یت نگر میں واقع ریاستی دفتر میں منعقد ہوا۔
قائدین نے کہا کہ بی سی ریزرویشنز کے حصول کے لیے جدوجہد کو تلنگانہ تحریک کی طرز پر ایک سماجی تحریک کی شکل دینی ہوگی۔ اُنہوں نے کہا کہ بی سی بلز کی منظوری اور 42 فیصد ریزرویشن کے نفاذ کی ذمہ داری مرکز پر عائد ہوتی ہے۔ حال ہی میں ہائی کورٹ کی جانب سے ریزرویشن سے متعلق جی او اور مقامی اداروں کے انتخابات پر اسٹے لگنے کی وجہ سے تمام عمل رک گیا ہے، اور اس کا اصل سبب مرکزی بی جے پی حکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کے پاس واقعی پسماندہ طبقات کے لیے خلوص نیت ہوتی تو وہ ان بلز کو نویں شیڈول میں شامل کرنے کے لیے آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ کا اجلاس فوری طور پر بلاتی۔ لیکن بی جے پی منوواد اور ذات پات پر مبنی سیاست پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کو دبایا جا رہا ہے۔اے آئی وائی ایف قائدین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے اراکینِ پارلیمنٹ اور مرکزی وزراء اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بی سی کاسٹ سروے کر کے 42 فیصد ریزرویشن کا بل مرکز کو بھیجا تھا، لیکن مرکزی حکومت نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر گورنر کے پاس زیرِ التوا بلز مقررہ مدت میں منظور نہیں ہوتے، تو ریاستی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے (تمل ناڈو کیس) کی روشنی میں ان بلز کو خود نوٹیفائی کر سکتی ہے۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ سی پی آئی پارٹی کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر دسمبر میں حیدرآباد میں تین روزہ ریاستی سطح کا ورکشاپ منعقد کیا جائے گا، اور تمام اضلاع میں اے آئی وائی ایف کی تنظیم کو مضبوط بنایا جائے گا۔اجلاس میں اے آئی وائی ایف ریاستی ورکنگ صدر نیرلکنتی سری کانتھ، ریاستی عہدیداران بِجّی سرینواسلو، ٹی ستیہ پرساد، سریمان، یوگندھر، چپورّی کونڈل سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔