🌺 حق کی جیت 🌺
(افسانچہ)
از قلم: نعیمہ گوہر
ورنگل، تلنگانہ، بھارت
شام کی دھندلی روشنی آہستہ آہستہ گھر کے صحن میں اتر رہی تھی۔ دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں وقت کے گزرنے کی گواہی دے رہی تھیں، مگر ایک ماں کی نظریں بار بار دروازے کی جانب اٹھ جاتیں۔ ہر دستک، ہر آہٹ اور ہر قدم کی چاپ اس کے دل کی دھڑکن تیز کر دیتی۔
اسی انتظار میں دروازہ کھلا اور انور اندر داخل ہوا۔
ماں بے اختیار بول اٹھی:
"انور! کہاں تھے بیٹا؟ آج کل تمہارا معمول ہماری سمجھ سے باہر ہو گیا ہے۔”
انور نے مسکراتے ہوئے ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور محبت سے کہا:
"امی جان! پریشان نہ ہوا کریں۔ میں اب بچہ نہیں رہا۔ وقت نے مجھے اچھے اور برے کی پہچان سکھا دی ہے۔ آپ دونوں کی دعائیں میرے ساتھ ہیں، پھر مجھے کس بات کا خوف ہو سکتا ہے؟”
باپ کرسی سے اٹھا، بیٹے کے قریب آیا اور گہری سانس لیتے ہوئے بولا:
"بیٹا! اولاد کی فکر والدین کے دل سے کبھی ختم نہیں ہوتی۔ خاص طور پر ایسے دور میں، جہاں ہر نئی صبح ایک نئے اندیشے کو جنم دیتی ہے۔”
انور کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھر آئی۔ اس نے پُرسکون مگر پُرعزم لہجے میں کہا:
"ابو! قومیں صرف اس لیے زندہ نہیں رہتیں کہ وہ سانس لے رہی ہوتی ہیں، بلکہ اس لیے زندہ رہتی ہیں کہ ان کے دلوں میں امید کی شمع روشن ہوتی ہے۔ اگر نااہلی، بے حسی اور ظلم کو تقدیر مان لیا جائے تو آنے والی نسلوں سے جینے کا حق بھی چھن جائے گا۔”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر انور نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور نہایت احترام سے بولا:
"امی! ہمیں آپ کی دعاؤں کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ضمیر زندہ رہے، ہمارا کردار روشن ہو، ہماری نیت پاک ہو اور ہمارا سفر حق و انصاف کی منزل تک پہنچے۔”
وہ چند قدم آگے بڑھا، جیسے اپنے دل کی بات زمانے سے کہنا چاہتا ہو۔
"ایک جاہل کبھی علم کی عظمت نہیں سمجھ سکتا۔
علم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔
تربیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کیسے کرنا ہے۔
حسنِ کردار ہمیں بتاتا ہے کہ کس انداز سے کرنا ہے۔
اور دانش مندی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔
یہی تعلیم ایک قوم کی تہذیب، اس کی شناخت، اس کا وقار اور اس کا مستقبل ہوتی ہے۔ جب علم چھن جائے تو قومیں صرف اپنی ترقی نہیں، اپنی پہچان بھی کھو دیتی ہیں۔”
اس کے لہجے میں اب جوش تھا، مگر اس جوش میں شعور کی پختگی بھی شامل تھی۔
"ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔ اپنے مستقبل کو نااہلی کے حوالے نہیں کریں گے۔ ہم متحد رہیں گے، محنت کریں گے، دلیل سے بات کریں گے اور اپنے جائز حقوق کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے، کیونکہ حق مانگنے سے نہیں، اس کے لیے ثابت قدم رہنے سے ملتا ہے۔”
انور کی آواز پورے گھر میں گونج اٹھی:
ہم علم کے شیدائی ہیں،
ہم بقا کے متلاشی ہیں۔
وہ انا کے پجاری ہیں،
وہ کرسی کے بھکاری ہیں۔
جیت ہمارا مقدر ہے،
جیت ہمارا حق ہے،
جیت ہماری آن، بان اور شان ہے۔
اور حق کی جیت ہو کر رہے گی۔
ماں کی آنکھوں میں اب فکر کے بجائے اطمینان کی نمی تھی۔ باپ کے چہرے پر فخر کی مسکراہٹ پھیل چکی تھی۔ باہر رات گہری ہو رہی تھی، مگر اس گھر کے اندر امید کا چراغ پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہو چکا تھا۔