Minorities Stage Protest in Hanumakonda Demanding Restoration of Land Allotted for Shadi Khana
شاد ی خانہ کے لیے مختص زمین واپس دینے کے مطالبے پر اقلیتی برادری کا احتجاج، متعدد افراد گرفتار، بعد ازاں رہا
ہنمکنڈہ:17/جولائی
(دستور نیوز)
شادی خانہ کے لیے اقلیتی برادری کو مختص کی گئی زمین واپس دینے کے مطالبے پر پیر کے روزہنمکنڈہ میں اقلیتی رہنماؤں اور عوام نے زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ہنمکنڈہ کے نعمانیہ مسجد کے سامنے مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے کر ریاستی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
احتجاجیوں کا الزام تھا کہ اقلیتوں کے لیے باقاعدہ طور پر مختص کی گئی زمین کو کانگریس حکومت نے واپس لے لیا ہے، جس کے خلاف وہ اپنا جمہوری احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ زمین فوری طور پر دوبارہ اقلیتی برادری کے حوالے کی جائے۔
احتجاج کے دوران پولیس نے دھرنے میں شریک متعدد اقلیتی رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں لے کر ہنمکنڈہ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔ پولیس اسٹیشن میں بھی اقلیتی رہنماؤں نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور گرفتاریوں کی مذمت کی۔
بعد ازاں حکومت اور پولیس حکام کی مداخلت کے بعد زیرِ حراست افراد کو رہا کر دیا گیا۔

دریں اثنا، سابق چیف وہپ اور سابق رکن اسمبلی داسیم وِنئے بھاسکر نے اقلیتی رہنماؤں کی گرفتاری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جائز حق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو گرفتار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے ہنمکنڈہ اے سی پی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر بی آر ایس پارٹی کے لیگل سیل سے وابستہ وکلاء بھی پولیس اسٹیشن پہنچے اور قانونی معاونت فراہم کی۔ رہائی کے بعد اقلیتی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ جب تک شادی خانہ کے لیے قانونی طور پر مختص زمین دوبارہ اقلیتی برادری کو نہیں دی جاتی، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
احتجاجی پروگرام میں اقلیتی رہنما نعیم الدین، سید مسعود، زبیر، محمود، فیروز، خلیل، ابو، توسيف، معین، اسماعیل، اشرف کے علاوہ بی آر ایس لیگل سیل کے ذمہ داران ونود کمار، کرن اور دیگر افراد نے شرکت کی۔
دستور نیوز/اکبر ضیاء