abdul quddus

Silence by Whom? Accountability from Whom?

اضلاع کی خبریں تلنگانہ
خاموشی کس کی؟ جواب دہی کس کی؟
تلنگانہ میں مسلم ووٹ، سیاسی وعدے اور قیادت سے چند سنجیدہ سوالات
Silence by Whom? Accountability from Whom?
— Serious Questions on Muslim Votes, Political Promises, and Leadership in Telangana
تحریر: محمد عبد القدوس
سماجی کارکن، ورنگل

تلنگانہ اسمبلی انتخابات 2023 کے دوران متعدد مسلم دینی تنظیموں، سماجی اداروں اور بااثر شخصیات نے کھل کر کانگریس پارٹی کی حمایت کی۔ مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ آئین کے تحفظ، اقلیتوں کے حقوق اور انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار میں لائیں۔

اب جبکہ کانگریس حکومت کے تقریباً دو سال مکمل ہونے کو ہیں، یہ جائزہ لینے کا مناسب وقت ہے کہ انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں پر کس حد تک عمل درآمد ہوا ہے۔

جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ منتخب حکومت سے مسلسل جواب دہی طلب کرنا بھی اس کا بنیادی تقاضا ہے۔

یہ سوال فطری ہے کہ جن مذہبی اور سماجی تنظیموں نے کانگریس کی حمایت کی تھی، کیا آج ان پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ حکومت سے پوچھیں کہ مسلمانوں سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کہاں تک پہنچی؟

ریاست میں بعض حالیہ واقعات نے مسلمانوں کے ایک طبقے میں تشویش پیدا کی ہے۔ گائے کے گوشت کے نام پر پیش آنے والے تنازعات، نفرت انگیز بیانات، اور مذہبی شناخت سے متعلق کشیدگی کے واقعات پر کئی شہری یہ محسوس کرتے ہیں کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح آرمور کے ایک خانگی اسکول میں اردو زبان کی تدریس پر سامنے آنے والے اعتراضات نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا۔ اردو تلنگانہ کی تسلیم شدہ زبان ہے اور ریاست کی مشترکہ تہذیبی و ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ ایسے معاملات میں حکومت، عوامی نمائندوں اور متعلقہ سماجی قیادت کا واضح مؤقف سامنے آنا عوام کے اعتماد کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

حیدرآباد میں بعض انہدامی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد کاروباری افراد اور خاندانوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس کے بعد متاثرین اور شہری حلقوں کی جانب سے انصاف، شفافیت اور مناسب قانونی طریقۂ کار سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔ قانون کی عملداری ہر حال میں ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ انصاف، تناسب اور انسانی ہمدردی بھی ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ان معاملات پر اپوزیشن کا کردار بھی بہت مؤثر دکھائی نہیں دیتا۔ ریاست کی بڑی اپوزیشن جماعت بی آر ایس سے بھی عوام کو توقع تھی کہ وہ حکومت سے زیادہ مضبوط انداز میں جواب دہی کا مطالبہ کرے گی، لیکن بہت سے مبصرین کے مطابق اس کی آواز ان معاملات میں محدود رہی ہے۔

یہ تمام حالات ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں:

کیا مسلمان صرف انتخابات کے دوران ہی سیاسی طور پر اہم سمجھے جاتے ہیں؟ کیا ان کا کردار صرف ووٹ بینک تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟

یہ سوال صرف کانگریس سے نہیں بلکہ ان تمام مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادتوں سے بھی ہے جنہوں نے مسلمانوں سے ایک مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں ووٹ مانگے تھے۔

اگر ماضی کی حکومتوں سے سوال کرنا جمہوری روایت کا حصہ تھا تو موجودہ حکومت سے سوال کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جواب دہی کے معیار حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ یہی مستقل مزاجی عوامی اعتماد کی بنیاد بنتی ہے۔

مسلمان کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ آئین کے مطابق مساوی حقوق، انتخابی وعدوں کی تکمیل، جان و مال کے تحفظ، زبان و ثقافت کے احترام، اور ایسی سیاسی قیادت کے خواہاں ہیں جو ہر دور میں یکساں اصولوں کے ساتھ حکومتوں سے جواب دہی کا مطالبہ کرے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت سے سوال کیوں کیے جائیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ جو لوگ کل تک جواب دہی کی بات کرتے تھے، آج ان کی آواز پہلے جیسی مضبوط کیوں محسوس نہیں ہوتی؟

جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے سے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب حکومت، اپوزیشن، مذہبی تنظیمیں اور سماجی قیادت—سب عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔

جب خاموشی مستقل رویہ بن جائے تو جواب دہی کمزور پڑ جاتی ہے، اور جب جواب دہی کمزور ہو جائے تو جمہوریت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔

**— محمد عبد القدوس**
*سماجی کارکن، ورنگل*