offline maa

offline MAA

Uncategorized

Offline MAA

آف لائن ماں

افسانچہ
از قلم: نعیمہ گوہر
ورنگل ۔ تلنگانہ

ایک دن کلاس میں ایک منفرد نوعیت کا ٹیسٹ لیا گیا۔ تمام طلبہ سے کہا گیا کہ وہ “ماں” کے عنوان پر اپنے خیالات تحریر کریں۔

ہر طالب علم نے اپنے اپنے انداز میں ماں کی اہمیت بیان کی۔ کسی نے لکھا:
“ماں میری زندگی ہے۔”
کسی نے کہا:
“ماں گھر کی زینت ہے۔”
ایک طالب علم نے لکھا:
“ماں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔”
تو کسی نے یہ تحریر کیا:
“ماں کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔”

سب نے اپنے جذبات اور سمجھ کے مطابق اظہارِ خیال کیا۔

لیکن انور کی تحریر سب سے مختلف تھی۔

اس نے لکھا:

“مجھے ایسی ماں چاہیے جو صبح سویرے نماز پڑھے، تلاوتِ قرآن کرے اور اپنے بچوں کو بھی دین کی ترغیب دے۔ جو مقررہ وقت پر پیزا اور برگر کا آرڈر نہ کرے بلکہ سادہ مگر گرم گرم کھانا اپنے ہاتھوں سے کھلائے۔ صاف ستھرے کپڑے پہنائے اور دعائیں دیتی ہوئی اسکول روانہ کرے۔

وہ موبائل کی دنیا سے بہت دور ہو۔ جب ہم دوپہر یا شام کو گھر لوٹیں تو دروازے پر مسکراتے ہوئے ہمارا استقبال کرے، اللہ کا شکر ادا کرے اور ہمیں گلے لگا لے۔ ہماری چیزوں کو سنبھال کر رکھے۔ ابو کے گھر آنے پر بھی مسکرا کر استقبال کرے۔

مجھے ویڈیو گیم نہیں چاہیے، بلکہ رات کو اچھی اچھی کہانیاں سناتے ہوئے اپنی آغوش میں سلا لینے والی ماں چاہیے۔ بس مجھے ایسی ہی ‘آف لائن ماں’ چاہیے۔”

جب ٹیچر نے یہ تحریر پڑھی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ پوری کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ہر بچہ یہی کہنے لگا:

“ہمیں بھی ایسی ہی ماں چاہیے… ایسی ماں جو صرف اپنے بچوں کے لیے ہر وقت آن لائن ہو، مگر موبائل کی دنیا سے دور ہو۔”

کلاس کا ماحول غمگین ہوگیا۔ ہر آنکھ نم تھی اور سسکیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

اسی دوران وہاں سے گزرتی ایک اور ٹیچر نے کلاس کا ماحول دیکھا۔ اس نے انور کی تحریر پڑھی تو وہ بھی اپنے آنسو نہ روک سکی۔ اس کے دل میں ایک ہی سوال اٹھ رہا تھا کہ:

“ہم ترقی کے نام پر اپنی نئی نسل کو آخر کیا دے رہے ہیں؟”

آج والدین بچوں کو کبھی ویڈیو گیم دے کر بہلا دیتے ہیں، تو کبھی چاکلیٹ دے کر سلا دیتے ہیں، مگر ان معصوم جذبات اور احساسات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ایسی ترقی کس کام کی جہاں ہر لمحہ اداسی، بے چینی اور تنہائی ہو؟

ٹیچر نے خود کو سنبھالا اور انور سے پوچھا:

“تمہیں آف لائن ماں ہی کیوں چاہیے؟”

انور روتے ہوئے بولا:

“میں نہیں چاہتا کہ میری ماں خوفناک خبریں پڑھے، ظلم و ستم کی داستانیں سنے اور ہر وقت اداس رہے۔ کسی کے بیٹے کو مارا گیا، کسی کو بے رحمی سے پیٹا گیا، کہیں لاش تک نہیں ملی… ایسی خبریں میری ماں نہ پڑھے، نہ سنے۔

میں نہیں چاہتا کہ میری ماں فکر اور پریشانی میں مبتلا رہے۔ مجھے تو بس ایک سادہ سی، سیدھی سادی، ان پڑھ مگر محبت کرنے والی آف لائن ماں چاہیے… جو صرف میری ماں ہو… میری پیاری ماں ہو …اور "آف لائن ماں” ہو۔۔۔

Dastoor news