nomatic muslims census md shabbir

Nomadic Muslim Population Underreported in BC Census, Claims MD Shabbir

حیدرآباد قومی
Nomadic Muslim Population Underreported in BC Census, Claims MD Shabbir
بی سی مردم شماری میں خانہ بدوش مسلم آبادی کم ظاہر کی گئی: ایم ڈی شبیر

 

حیدرآباد، 17 /اپریل
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

تلنگانہ ریاستی خانہ بدوش مسلم قبائل سنگھم (BC-E 1-14) کے بانی و ریاستی ورکنگ صدر ایم ڈی شبیر نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بی سی طبقات کی مردم شماری حقیقت سے دور ہے اور خاص طور پر بی سی-ای زمرہ میں شامل خانہ بدوش مسلم برادریوں کی آبادی کو بہت کم ظاہر کیا گیا ہے۔

ایم ڈی شبیر نے کہا کہ زمینی سطح پر ہزاروں خاندانوں پر مشتمل کئی برادریوں کو سرکاری اعداد و شمار میں صرف سینکڑوں یا چند ہزار تک محدود دکھایا گیا ہے، جو سنگین ناانصافی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ذیلی طبقات کا ذکر ہی نہیں کیا گیا جبکہ کئی برادریوں کی اصل آبادی لاکھوں میں ہونے کے باوجود بہت کم درج کی گئی ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فقیر برادری کی آبادی چار لاکھ سے زائد ہے، مگر سرکاری اعداد میں صرف 46,349 دکھائی گئی۔ اسی طرح گارڈی مسلم برادری کی اصل تعداد 80 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہے، لیکن اسے 14,063 ظاہر کیا گیا۔ ترک کاشی برادری کی آبادی بھی لاکھوں میں ہونے کے باوجود صرف 46,257 درج کی گئی ہے۔

ایم ڈی شبیر نے کہا کہ حکومت کی جاری کردہ اسکور رپورٹ کے مطابق خانہ بدوش مسلم طبقات تعلیمی، معاشی اور سماجی اعتبار سے انتہائی پسماندہ حالت میں ہیں، مگر ان کی آبادی کم ظاہر کیے جانے سے مستقبل میں انہیں ریزرویشن، فلاحی اسکیمات اور دیگر حقوق سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غلط اعداد و شمار فوری درست کیے جائیں، سائنسی انداز میں دوبارہ جائزہ لیا جائے، انتہائی پسماندہ خانہ بدوش مسلم طبقات کے لیے خصوصی پیکیج دیا جائے اور ذاتی سرٹیفکیٹ کے اجراء میں پیش آنے والی مشکلات دور کی جائیں۔

ایم ڈی شبیر نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری انصاف نہ کیا تو ریاست بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

دستور نیوز ڈاٹ کام