My fight is for the establishment of a social Telangana. Telangana Jagruti has taken up the cause of resolving public issues. K. Kavitha’s address to the media at the Press Club, Warangal
*میری لڑائی سماجی تلنگانہ کے قیام کے لئے ہے۔ تلنگانہ جاگروتی نے عوامی مسائل کی ی.کسوئی کا بیڑہ اٹھایا ہے
*پانچ اضلاع پر مشتمل ایکشن ٹیکن رپورٹ کی عنقریب پیشکشی ۔پریس کلب ورنگل میں کے کویتا کا میڈیا سے خطاب

حیدرآباد/ہنمکنڈہ:-9/نومبر
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ وہ سیاست میں ضرور حصہ لیں گی اور یہ ثابت کر کے دکھائیں گی کہ اگر خواتین سیاست میں قدم رکھیں تو وہ کیسی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ مگر اس وقت ان کی جدوجہد عوامی مسائل کے حل کے لئے ہے۔ وہ ورنگل پریس کلب میں میڈیا سے خطاب کررہی تھیں۔ کویتا نے کہا کہ سیاست صرف انتخابی سال میں ہونی چاہئے باقی چار سال عوام کی ترقی اور بہبود کے لئے وقف ہونے چاہئیں۔کویتا نے کہا کہ آج ریاست میں حکومت عوام کے مسائل نہیں سن رہی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ تلنگانہ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ سب کا تلنگانہ ہونا چاہئے، ایک ایسا تلنگانہ جہاں کوئی عدم مساوات نہ ہو، جہاں تعلیم اور علاج کے معاملے میں ہر شخص اطمینان سے جی سکے۔

کویتا نے کہا کہ طلبہ یونین کے انتخابات دوبارہ شروع کئے جائیں تاکہ نئی قیادت ابھر سکے۔انہوں نے کہا کہ وہ اب سیاست کے لئے نہیں بلکہ عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوامی حقوق کے لئے سوال اٹھاتی رہیں گی۔کویتا نے کہا کہ بی آر ایس نے دس سال کی حکمرانی میں اچھے کام ضرور کئے مگر بہت سے وعدے ادھورے رہے۔ اب کانگریس حکومت کو دو سال ہو گئے ہیں، مگر حالات جوں کے توں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل ضلع ہمیشہ تلنگانہ تحریک کا مرکز رہا ہے، یہ وہ سرزمین ہے جس نے پروفیسر جیہ شنکر، بی پوتنا اور رانی ردرما دیوی جیسی عظیم شخصیات کو جنم دیا۔ یہ ضلع مجھے تحریک کی روح یاد دلاتا ہے۔
کویتا نے اپنے حالیہ دورہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ وہ مدنا پیٹ، کاکتیہ یونیورسٹی، لائبریری، ایم جی ایم اسپتال اور دیگر مقامات کا جائزہ لے چکی ہیں۔ ایم جی ایم اسپتال میں صورتحال اس قدر ابتر ہے کہ دو مریضوں کا ایک ہی بیڈ پر علاج کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کو میں سلام پیش کرتی ہوں جو محدود وسائل میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں، مگر حکومت کی لاپرواہی شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاکتیہ یونیورسٹی میں لڑکیوں کے لئے ہاسٹل نہ ہونا حکومت کے لئے باعث شرم ہے۔ 1100 طالبات باہر رہ کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جبکہ ریاست میں دو خواتین وزراء ہونے کے باوجود خواتین کے مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔کویتا نے زرعی مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 10 لاکھ میٹرک ٹن دھان خریدنے کا ہدف رکھا، مگر اب تک صرف 17 ہزار میٹرک ٹن خریدا گیا ہے۔ یہ کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ ان کے اناج کو مراکز میں سڑنے کے لئے چھوڑ دیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کسی کا مستقل نہیں ہوتا۔ کویتا نے کہا کہ ورنگل کو اسمارٹ سٹی بنانے کے نام پر 900 کروڑ روپئے آئے، مگر ان میں سے 200 کروڑ بھدراکالی چیرو کی مرمت کے نام پر خرچ کر دیئے گئے۔ اب کانگریس حکومت اسی تالاب پر مزید 300 کروڑ خرچ کرنے جا رہی ہے، جبکہ عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ورنگل میں سیوریج سسٹم، ڈرینج اور ڈمپنگ یارڈ کے کام ترجیحی بنیاد پر مکمل ہونے چاہئیں۔ نظام آباد میں ہم نے تین سال میں انڈر گراؤنڈ ڈرینج مکمل کیا مگر افسوس کہ ورنگل آج بھی اس سہولت سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری وابستگی تلنگانہ سے ہے، کسی عہدے سے نہیں۔ اب میرا مقصد ایک سماجی تلنگانہ کی تشکیل ہے، جہاں ہر طبقے کو موقع، اختیار اور عزت ملے۔کویتا نے کہا کہ جاگروتی تنظیم کو دوبارہ مضبوط کیا جا رہا ہے، اور جلد ہی پانچ اضلاع کے مسائل پر مبنی ایک جامع "ایکشن ٹیکن رپورٹ” جاری کی جائے گی، جس میں بتایا جائے گا کہ کن مسائل پر کارروائی ہوئی ہے اور کن پر باقی ہے۔