k kavita in warangal

K Kavita demands assistance for flood victims, improvement in the condition of MGM Hospital and polite governance

اضلاع کی خبریں
K Kavita demands assistance for flood victims, improvement in the condition of MGM Hospital and polite governance
کلوکنتلا کویتا کا سیلاب متاثرین کے لیے امداد، ایم جی ایم اسپتال کی حالتِ زار میں بہتری اور شائستہ طرزِ حکمرانی کا مطالبہ

حیدرآباد/ورنگل/ہنمکنڈہ، 8 /نومبر
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

تلنگانہ جاگروتی جنم باٹا پروگرام کے تحت تلنگانہ جاگروتی کی صدر محترمہ کلوکنتلا کویتا نے ورنگل اور ہنمکنڈہ کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے عوامی مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے سیلاب متاثرین کی بحالی، سرکاری اسپتالوں کی خستہ حالت اور حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر سخت تنقید کی۔

k kavita in warangal

وزیر اعلیٰ کے بیانات پر تنقید، طلبہ اور کالجوں کے حق میں آواز

فاطمہ نگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کویتا نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے کالج انتظامیہ کے خلاف دیے گئے بیانات کو "غیر شائستہ اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "کیا یہ کسی وزیر اعلیٰ کے شایانِ شان زبان ہے؟ عام غنڈے بھی ایسی زبان استعمال کرنے سے شرمائیں گے۔”

کویتانے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش کے دور میں قائم کردہ پرائیویٹ کالجوں نے تلنگانہ کے نوجوانوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت کی جانب سے فیس ری ایمبرسمنٹ فنڈز کی عدم اجرائی کی وجہ سے کئی کالج عارضی طور پر بند ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا، "وزیر اعلیٰ نے بقایاجات ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ وعدہ وفا نہیں کیا۔ حکومت دھمکیاں دینے کے بجائے طلبہ اور اداروں کی مدد کرے۔”

k kavita in warangal

سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ، متاثرین کے لیے امداد کا مطالبہ

کویتانے ورنگل کے سمییا نگر اور اطراف کے علاقوں کا دورہ کیا جہاں مکانات پانی میں ڈوب گئے تھے۔ متاثرہ عوام سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا،
"وزیر اعلیٰ پندرہ دن پہلے آئے اور کئی وعدے کیے، مگر ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ اگر ان کا قول واقعی جی او کے برابر ہے تو پھر امداد کہاں ہے؟ لوگ بے گھر ہیں، مگر تاحال کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا — یہ انتہائی شرمناک ہے۔”

انہوں نے اس صورتحال کو "انسانی غلطی سے پیدا ہونے والا سانحہ” قرار دیتے ہوئے فوری ریلیف، مستقل مکانات اور ضلع عہدیداروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
"جاگروتی ہمیشہ عوام کے ساتھ ہے۔ اگر ایک این جی او مدد کرسکتی ہے تو حکومت کیوں نہیں؟”

k kavita in warangal

ایم جی ایم اسپتال کا معائنہ، سہولیات کی ابتر حالت پر اظہارِ تشویش

اپنے دورے کے دوران کویتانے ایم جی ایم اسپتال ورنگل کا بھی دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور سہولیات کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا، "تلنگانہ کے قیام کے بعد فیصلہ ہوا تھا کہ بڑھتی آبادی کے پیشِ نظر ایک نیا 20 منزلہ سپر اسپیشیلٹی اسپتال تعمیر کیا جائے گا مگر اب یہ منصوبہ رُک گیا ہے۔”

انہوں نے کہا، "یہاں حالت یہ ہے کہ اگر سرنج ہے تو کاٹن نہیں، اور اگر کاٹن ہے تو سرنج نہیں۔”
کویتانے بتایا کہ ادویات اور لیب کے بنیادی سامان کی قلت کے باعث مریضوں کو نجی ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
"چاہے بی آر ایس ہو یا کانگریس، اگر عوام پریشان ہیں تو دونوں ذمہ دار ہیں۔ سیاست انتخابات کے وقت کے لیے ہے، ابھی حکومت کو عوامی اسپتالوں پر توجہ دینی چاہیے۔”

خواتین وزراء پر بھی تنقید

کویتانے افسوس کا اظہار کیا کہ ورنگل کی نمائندگی کرنے والی دو خواتین وزراء کے باوجود اسپتالوں میں خواتین مریضوں کی حالت قابلِ رحم ہے۔
انہوں نے کہا، "کئی وارڈز میں دو دو مریض ایک ہی بستر پر لیٹے ہیں۔ اس کے باوجود ڈاکٹرز اور نرسیں اپنی استطاعت کے مطابق بہترین کام کر رہے ہیں، میں انہیں سلام پیش کرتی ہوں۔”
انہوں نے خواتین وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "ستھاکا، سوریہ کا — یہ سیاست کا نہیں انسانیت کا معاملہ ہے، براہ کرم اسپتالوں کا خود دورہ کریں۔”

عوامی خدمت کا عزم

کویتانے کہا، "جب بی آر ایس اقتدار میں تھی تو میں اندرونی طور پر کام کرتی تھی، اب عوام کے درمیان آکر کر رہی ہوں۔ تب بھی میرا مقصد تلنگانہ کی خدمت تھا، آج بھی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، "میں ووٹوں کے لیے نہیں آئی۔ کوئی الیکشن نہیں ہے۔ میں یہاں عوام کے مسائل سمجھنے اور حل کرنے آئی ہوں۔”

کویتانے اعلان کیا کہ تلنگانہ جاگروتی جلد ہی جنم باتا پروگرام کے تحت پانچ اضلاع کے دوروں کی تفصیلی ایکشن ٹیکن رپورٹ جاری کرے گی جس میں عوامی مسائل اور ان کے حل کی پیش رفت درج ہوگی۔

آخر میں انہوں نے کہا،
"میں اپنے بچوں کو آرام کے لیے نہیں چھوڑ کر آئی۔ میں اس لیے نکلی ہوں کہ تلنگانہ بننے کے باوجود عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ اگر میری کوششوں سے عوام کو ایک روپیہ بھی فائدہ پہنچے تو میں اپنی زندگی کو بابرکت سمجھوں گی۔”