Muslims peacefully protest at Hanamkonda intersection against the Waqf Amendment Bill 2024
وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف ہنمکنڈا چوراہ پر مسلمانوں کا پرامن احتجاج

حیدرآباد/ہنمکنڈہ:-4/اپریل
(دستور نیوزڈاٹ کام)
وقف (ترمیمی) بل 2024 کی پارلیمنٹ میں منظوری کے خلاف ہنمکنڈا چوراہ پر مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پرامن احتجاج کیا۔ مظاہرین نے بل کی تائید کرنے والی جماعتوں خصوصاً چندرا بابو نائڈو کی تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی)، جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو)، راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) اور لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے خلاف برہمی کا اظہار کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد مسلمانوں میں شدید مایوسی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس بل کے تحت وقف بورڈز میں غیر مسلم اراکین کی شمولیت اور حکومت کو متنازعہ وقف جائیدادوں کی ملکیت طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جسے مسلم برادری اپنے آئینی، مذہبی اور معاشی حقوق پر حملہ تصور کر رہی ہے۔اس موقع پر مقررین نے حکومت اور بل کے حامی سیاستدانوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
ڈاکٹر انیس صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے ڈی یو کے نتیش کمار اور ٹی ڈی پی کے چندرا بابو نائڈو نے اپنے دعوے کردہ سیکولر کردار سے انحراف کرتے ہوئے اس "خطرناک” بل کی حمایت کی، جو دراصل مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضے کی ایک کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جماعتیں اب خود کو سیکولر نہیں کہہ سکتیں، کیونکہ انہوں نے فرقہ پرست عناصر کے ساتھ کھڑے ہو کر مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ احتجاج میں سیاسی و سماجی حلقوں کے کئی نمایاں مسلم قائدین بشمول محمد اعجاز اور محمد نعیم الدین شریک تھے، جنہوں نے اس بل کے خلاف ملک گیر سطح پر تحریک چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔واضح رہے کہ وقف ترمیمی بل 2024 کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی اتحادی جماعتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جبکہ مسلم تنظیمیں اس بل کو مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی ورثے کے خلاف سازش قرار دے رہی ہیں۔