muslims leadership mlc elections

Muslim leadership and MLC elections in Telangana: An overview

تلنگانہ

Muslim leadership and MLC elections in Telangana: An overview

تلنگانہ میں مسلم قیادت اور ایم ایل سی انتخابات: ایک جائزہ
خواجہ نعیم الدین، ورنگل مغربی اسمبلی حلقہ، کانگریس پارٹی کارکن

 

حیدرآباد/ہنمکنڈہ:-9/مارچ
(دستورنیوز ڈاٹ کام)

 

حیدرآباد ہی نہیں، بلکہ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں کئی ایسے اسمبلی حلقے ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد بستی ہے۔ ان حلقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں، بشمول بی آر ایس، کانگریس اور دیگر جماعتوں کے مقامی سطح پر نمائندے موجود ہیں، جو وارڈ ممبر، سرپنچ، ایم پی ٹی سی، زیڈ پی ٹی سی، کوآپشن ممبر، میونسپل کونسلر، چیئرمین، وائس چیئرمین، کارپوریٹر، ڈپٹی میئر، میئر اور ایم ایل اے کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

یہ کہنا کہ مسلمان صرف حیدرآباد میں ہی سیاسی طور پر سرگرم ہیں، حقیقت سے بعید ہوگا۔ تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں بھی مسلم قیادت عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کے حل کے لیے کام کر رہی ہے۔ خاص طور پر، ریاست تلنگانہ کے قیام کے لیے ہونے والی جدوجہد میں مسلمانوں نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے، اور اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تلنگانہ میں عوام نے تبدیلی کی خواہش کے تحت بی آر ایس کو اپوزیشن میں بٹھایا اور کانگریس کو اقتدار سونپا۔ اب جب کہ ایم ایل سیز کے انتخابات قریب آ رہے ہیں، خاص طور پر کانگریس پارٹی کے پی سی سی صدر ریونت ریڈی اور نئی ریاستی انچارج میناکشی نٹراجن پارٹی کے اندر نئی حکمت عملی اپنا رہے ہیں تاکہ سیاسی عہدے اہل امیدواروں کو دیے جائیں۔یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ بی جے پی تلنگانہ میں مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی نمائندگی دینے کے حق میں نہیں، اور بی آر ایس بھی محض نمائشی سیاست پر زور دے رہی ہے۔ ماضی میں بھی بی آر ایس نے مسلم قیادت کے حوالے سے محض رسمی اقدامات کیے اور حقیقی مسلم قیادت کو نظرانداز کیا۔

اگر اس بار بھی کانگریس پارٹی حیدرآباد کے مخصوص افراد کو ہی ایم ایل سی کے لیے ٹکٹ دے گی، اور عوام کے درمیان مقبول، مسائل کے حل کے لیے کام کرنے والے، اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے مسلمانوں کو نظرانداز کرے گی، تو یہ ایک بڑی ناانصافی ہوگی۔

اس لیے میری درخواست یہ ہے کہ صرف حیدرآباد کے مخصوص حلقوں تک محدود رہنے کے بجائے تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں موجود باصلاحیت مسلم قیادت کو بھی ایم ایل سی کے لیے ٹکٹ دیا جائے۔ پارٹی کو چاہیے کہ وہ مالی اثرو رسوخ یا سیاسی دباؤ کے بجائے، حقیقی قیادت کو آگے لانے کی پالیسی اپنائے تاکہ ریاست کے مسلمانوں کے ساتھ مکمل انصاف ہو سکے۔-

خواجہ نعیم الدین، ورنگل مغربی اسمبلی حلقہ، کانگریس پارٹی کارکن