قاضی پیٹ میں کوچ فیکٹری سی پی آئی کی دہائیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ۔مقامی لوگوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔
سی پی آئی ریاستی اسسٹنٹ سکریٹری:تکالہ پلی سرینواس راؤ
The coach factory in khazipet is the result of decades of struggle of CPI
Job opportunities should be provided to the local people.
CPI State Assistant Secretary: Takalapally Srinivas Rao
حیدرآباد/ہنمکنڈہ:-2/ڈسمبر
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
قاضی پیٹ میں کوچ فیکٹری کا قیام کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی دہائیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ یہ بات سی پی آئی کے ریاستی اسسٹنٹ سکریٹری تکالہ پلی سرینواس راؤ نے کہی۔بروز پیر ہنمکنڈہ کے بلاسمودرَم میں سی پی آئی ضلعی دفتر میں ضلعی پارٹی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ضلعی سکریٹری کررے بکشاپتی نے کی۔
اس موقع پر تکالہ پلی سرینواس راؤ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چالیس سالوں سے سی پی آئی نے قاضی پیٹ میں کوچ فیکٹری کے قیام کے لیے بھوک ہڑتالوں، ستیہ گرہ اور ہمہ جماعتی جدوجہد سمیت مختلف طریقوں سے بے شمار جدوجہد کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوچ فیکٹری کے قیام کا نعرہ سب سے پہلے سی پی آئی نے بلند کیا تھا اور پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں مادتا کلی داس اور بی آر بھگوان داس کی قیادت میں سی پی آئی نے بھرپور جدوجہد کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی توجہ اس مسئلے کی طرف دلانے کے لیے پوری پارٹی کو دہلی لے جایا گیا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاضی پیٹ میں مکمل پیمانے پر کوچ فیکٹری قائم کی جائے اور مقامی افراد کو ملازمت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
اس اجلاس میں سی پی آئی ریاستی ایگزیکٹو رکن نیڈنورِی جیوتی، ضلعی اسسٹنٹ سکریٹریز تو ٹا بکشاپتی، مڈڈلا ایلیش، ضلعی رہنما وِلپولا سارنگاپانی، کوٹےپکا روی، بٹ ھنی سدانند، مالوتھو شنکر نائک اور دیگر نے شرکت کی۔