ڈاکٹر کاویہ کو جیت سے ہمکنار کرانا ورنگل کے عوام کی ذمہ داری ہے ۔ وزیر اعلی ریونت ریڈی

اضلاع کی خبریں تلنگانہ

ورنگل کی عوامی حمایت سے ہی اندراما ریاست کا ماحول بنا ۔ ہماری حکومت تمام نامکمل منصوبوں کو جلد سے جلد مکمل کرنے کی پابند ہے ،

خدا مندر میں ہونا چاہیے عقیدت دل میں ہونی چاہیے۔ ملک کی جمہوریت اور سالمیت کو بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے  ڈاکٹر کاویہ کو جیت سے ہمکنار کرانا ورنگل کےعوام  کی ذمہ داری ، وزیر اعلی ریونت ریڈی، خسرور پاشاہ و دیگر کا خطاب  ۔

 

حیدرآباد/ورنگل :-24/اپریل
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

پارلیمانی حلقہ ورنگل کے مڈی کنڈہ میں آج شام ریاستی ویزر اعلی ریونت ریڈی نے ایک بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کیا ۔ اس مو قع پر ورنگل پارلیمانی حلقہ کے کانگریس امیدوار ڈاکڑ کڈیم کاویہ ، ریاستی حج کمیٹی چیرمین سید غلام افضل بیابانی المعروف خسرو پاشاہ، صدر ریاستی وقف بورڈ سید اعظمت اللہ حسینی ،گھنپور رکن اسمبلی کڈیم سری ہری، ورنگل مشرق رکن اسمبلی و ریاستی وزیر کنڈا سریکھا ، ریاستی وزیر سریدھر بابو، رکن اسمبلی ہنمکنڈہ نائینی راجندر ریڈی، رکن اسمبلی وردھنا پیٹ ناگا راج، رکن اسمبلی ریوری پراکاش ریڈی ، رکن اسمبلی سیتااکا کے علاوہ کئی ایک ریاستی وزرا و ر ارکان اسمبلی نے شرکت و خطاب کیا۔

اس موقع پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر اعلٰی ریونت ریڈی نےکہا کہ گذشتہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں ورنگل کی عوام سے کانگریس پارٹی کو حمایت ملی جس کی وجہہ سے ریاست میں اندراما ریاست کا ماحول بنا۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اب ترقی کی راہ پر دوڑ پڑی ہے ہم ورنگل کے ہر گاؤں کو پانی فراہم کرینگے ، اسی طرح جو ترقیاتی کامیں رکے ہوئی ہیں انہیں جلد سے جلد پائے تکمیل کو پہنچائینگے،انہوں نے کثیر تعدادمیں موجود ورنگل کی عوام سے کہا کہ وہ جلد ہی انڈسٹریل کوریڈور قائم کریں گے اور یہاں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں گے۔اسی کے ساتھ ورنگل میں ٹیکسٹائل پارک بھی تیار کیا جائے گا اور ورنگل میں ہوائی اڈے کو ترقی جلد ہی فراہم کی جائےگی۔اسکے علاوہ انہوںنے کہا کہ پارلیمانی حلقہ میں کئی ایک چھوٹے بڑے قابل حل مسائل ہیں میں خود ورنگل آکر بیٹھوں گا اور شہر کے مسائل حل کرئینگے جس میں کاکتیہ یونیورسٹی کے وائیس جانسلر کا تقرر بھی شامل ہے ۔

اس موقع پر انہوں نے سابقہ حکومت کے سربراہ کے سی آر اور ہریش رائو کا نام لئے بغیر کہا کہ مامو اور بھانجے دم کٹی چھپکلیوں کی طرح ٹرپ رہے ہیں، ا سمبلی میں نہ آنے والے اپوزیشن لیڈر کے سی آر کل چار گھنٹے تک ٹی وی اسٹوڈیو میں بیٹھے رہے۔ اگر آپ میں ہمت ہے تو آؤ کالیشورم پر بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں کے سی آر کو چیلنج دے رہا ہوں… اگر آپ کا بنایا ہوا کالیشورم حیرت انگیز ہے تو بحث میں آئیں۔

 

اس موقع پر انہوں نے مرکزی مودی حکومت پر وار کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے اور خودکشی روکنے کا وعدہ کیاتھا،لیکن کسانوں کی آمدنی میں اضافہ تو نہیں ہوا لیکن خودکشیوں میں اضافہ ضرور کیا۔انہوں نے کہا کہ مودی نے عوام کو دھوکہ دیا کہ وہ جن دھن کھاتوں میں 15 لاکھ روپے جمع کرائیں گے لیکن ہمیشہ کی طرح وہ بھی ایک بڑا جھوٹا وعدہ نکلا۔مودی نے بیارام سٹیل پلانٹ نہ لگا کر اس علاقے کو دھوکہ دیا۔ ریلوے کوچ کا کارخانہ جو قاضی پیٹ میں آنا تھا اسے منتقل کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر مذہبی جنونی ہیں۔ لوگ رام کو دل میں بسا کر عبادت کرتے ہیں یہ بی جے پی رام کے نام پر سیاست کرتے ہیں۔خدا مندر میں ہونا چاہیے عقیدت دل میں ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ ورنگل پرلیمانی حلقہ کے بی جے پی امیدار اروری رمیش کے تعلق سے کہا کہ اب یہ کپڑے اور رنگ بدل کر آ رہے ہیں جنہوں نے بے شمار زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔انہیں یقین ہیکہ یہاں کی عوام اروری رمیش کو کسی بھی صورت میں، کسی بھی روپ میں کسی بھی رنگ میں پہچان کر ہار کی صورت دیکھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس خطے کی ایک ڈاکڑ بچی جس کا نام کاویہ ہے جس کا م غریبوں کا علاج کرنا اور انہیں دوائوں سے صحت دینا ہے ناکہ زمینوں پر قبضہ کرنا ہے انہیں جتا کر پارلیمنٹ میں ورنگل سے نمائندگی کا موقع دیں ، انہوںنے کہا کہ ہم نے کڈیم سری ہری کو انکی کی ایمانداری دیکھ کر پارٹی میں شامل کئے ہیں۔اب فیصلہ کریں کہ کیا آپ اروری رمیش چاہتے ہیں جو زمینوں پر قابض ہےیا ڈاکڑ کڈیم کاویہ جو غریبوں کوصحت اورزندگی دیتی ہے۔
اگر آپ اروری رمیش کو ووٹ دیتے ہیں تو وہ انا کونڈا بن جائے گا اور آپ کی زمینیں نگل جائے گا۔اور جنہیں وراثت میں ایمانداری ملی ہے وہ ڈاکڑ کاویہ ہے جس کو جیت سے ہمکنار کرنا ورنگل کے شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ریاستی وزیر اعلی نے کہ میں ورنگل کی ترقی کا ذمہ دار ہوں۔

اس موقع پر ریاستی حج کمیٹی چیر مین مولانا سید غلام افضل بیابانی المعروف خسرو پاشاہ نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بار کے انتخابات ہندوستان کا کوئی معمولی سیدہ سادہ الیکشن نہیں ہے یہ انتخاب بڑی اہمیت کا حامل ہے تین روز قبل کے مودی کے مسلمانوں کے خلاف نفرت امیز اس بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں اگر اج ہندوستان کو ایک صاف شفاف ایک بہترین حکومت کو ضرورت ہے تو ہمیں کانگرس کا ساتھ دینا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمیں کانگرس کا ساتھ اس لئے دینا ہوگا کہ ہم کسانوں میں خوشحالی دینا چاہتے ہیں ،ہم نوجوانوں کو روزگار دینا چاہتے ہیں تو ہمیں کانگرس کو ووٹ دینا پڑے گا ، خواتین اور بچوں کی حفاظت سے رکھنا ہو تو تو ہمیں کانگرس کا ساتھ دینا پڑے گا اورکانگریس کو ووٹ دینا پڑے گا ، اگر ہندوستان میں ماب لنچنگ کو روکنا ہے تو ہمیں کانگرس کو ووٹ دینا پڑے گا، بلڈوزر کو ہندوستان میں اگر بند کرنا ہے تو ہمیں اج کانگرس کو ووٹ دینا پڑے گا ، یہاں کے نفرت کے ماحول کو اگر ختم کرنا ہے تو ہمیں کانگریس کو ووٹ دینا پڑے گا ۔

ہندوستان بھر میں راہل گاندھی نے جو ایک یاترا نکالی ہے جس کا مقصد نفرت کے بازار کو ختم کر نا اور محبت کی دکان کو کھول کر سارے دیش میں محبت کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ ایسے ماحول کے قیام کے لئے ہمیں کانگرس کو ووٹ دینا پڑے گا ۔

کانگریس پارٹی ہندوستان کی قومی پارٹی ہے جو ہندو مسلم سکھ عیسائی اور دیگر تمام مذاہب کو ساتھ لے کے چلنے والی پارٹی ہے ۔ کانگرس پارٹی نے گذشتہ چالیس پچاس برسوں میں ہندوستان میں بہترین حکومت دی ہے ، ایک بہترین ماحول پیدا کی ہے آئندہ ہمیں جمہوریت کی حفاظت کرنا ہے اور اگر ہندوستان میں سلامتی چاہتے ہیں اور ایس سی او بی سی مائنارٹیز سب کو اگر امن و شانتی چاہتے ہیں تو کانگرس پارٹی کا ہمیں ساتھ دینا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیوں کے وعدے جھوٹے ہو تے ہیں لیکن کانگرس پارٹی ایسی پارٹی ہے کہ کانگرس کے ہاتھ سے نشان کو ووٹ ڈالنے والوں کو کبھی ہاتھ نہیں دے گی ۔انہوں نے تمام لوگوں سے اپیل کی کہ و اپنے ووٹ سے کانگری پارٹی کو مضبوط کرے اور ڈاکٹر کڈیم کاویہ جو ہمارے ورنگل کی بیٹی ہے ان کو جتائیں اور انہوں نے کہا کہ تمام لوگوں سے میں خواہش کروں گا میرا میسج ہماری برادری میں پہنچے او ر جہاں ووٹ پولنگ پرسنٹیج کم ہوتا ہے 100 پرسنٹ بولنگ کر کر اپ ڈاکٹر کاویہ کو جیت سے ہمکنار کرنا ہے ۔