مرکزی بجٹ 2024-25 اقلیتوں کو نظر انداز کرنے پر شبیر علی کی شدید تنقید, کیا یہی ہے سب کا ساتھ، سب کا وکاس ؟
حیدرآباد:-یکم /فروری
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
مرکزی بجٹ 2024-25 پر سخت تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور تلنگانہ حکومت کے مشیر (ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اور اقلیت)، محمد علی شبیر نے خاص طور پر اقلیتوں کے لیے مختص رقم کے متعلق گہری مایوسی کا اظہار کیا۔
شبیر علی نے مرکزی بجٹ پر روشنی ڈالتے ہوئی کہا کہ اقلیتی بہبود کے لیے بی جے پی حکومت کی مختص رقم محض 3,183.24 کروڑ روپے ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 86 کروڑ روپے کا معمولی اضافہ ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کے لیے مختص کل بجٹ کے 0.000668% کی معمولی فیصد پر زور دیا، جو کہ ملک کی 15% سے زیادہ آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے ناکافی فراہمی پر زور دیا۔
شبیر علی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بجٹ میں کٹوتیوں کی مذمت کی، خاص طور پر اقلیتی تعلیم سے متعلق اسکیموں جس میں 1,689 کروڑ روپے سے 1,575.72 کروڑ روپے تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے مختلف اسکیموں میں مخصوص کٹوتیوں کی طرف توجہ دلائی، جیسے میرٹ-کم-مینز اسکالرشپ، مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ، اقلیتوں کے لیے مفت کوچنگ اور دیگر۔
کانگریس لیڈر شبیر علی نے 2022-23 میں 1.66 کروڑ روپے کے معمولی اخراجات کے بعد، یو پی ایس سی، ایس ایس سی، اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن، اور دیگر کے لیے ابتدائی امتحان پاس کرنے والے اقلیتی طلباء کی حمایت کرنے والی اسکیم کو ختم کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ لائیولی ہوڈز کے تحت اسکیموں میں خاطر خواہ کمی پر بھی افسوس کا اظہار کیا، بشمول نئی منزل، یو ایس ٹی ٹی اے ڈی، اور دیگر کو ہٹانابھی شامل ہے۔
اسکے علاوہ شبیر علی نے مرکزی سیکٹر اسکیموں/ پروجیکٹوں کے لیے مختص میں کمی اور اقلیتوں کے خصوصی پروگراموں میں مجموعی طور پر 26.10 کروڑ روپے سے 26 کروڑ روپے تک کمی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2024-25 میں اقلیتوں کی بہبود کے لیے مختص رقم کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے ذریعہ 2013-14 میں مختص کی گئی رقم سے کم ہے۔
خاص کر نشاندہی کرتے ہوئے شبیر علی نے UPA کی قیادت والی کانگریس حکومت کے دوران کی گئی اہم پیش رفتوں کو نوٹ کیا، بشمول 2006 میں اقلیتی امور کے لیے ایک علیحدہ وزارت کا قیام اور بجٹ میں مسلسل اضافہ کے زکر کیا ۔ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ وزیر اعظم مودی کے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے دعووں کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتا ہے۔