بی جے پی کو 200 سے زیادہ سیٹیں نہیں ملیں گی۔مرکز میں معلق حکومت ہونے کی صورت میں بی آر ایس کا ہوگا اہم کردار ۔کے سی آر

اضلاع کی خبریں
بی جے پی کو 200 سے زیادہ سیٹیں نہیں ملیں گی۔
مرکز میں معلق حکومت ہونے کی صورت میں بی آر ایس کا اہم کردار ہوگا ۔
ریاستی کانگریس حکومت نے عوام کو ابھی تک کچھ بھی نہیں دیا۔ ہنمکنڈہ روڈ شو میں کے سی آر

حیدرآباد/ہنمکنڈہ:-28/اپریل
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

 

بی آر ایس کے صدر اور سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نےاپنے ورنگل روڈ شو کے دوران ایک پرجوش خطاب میں ریاست میں کانگریس اور مرکز میں بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے ان کی حکمرانی میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور لاپرواہی کا الزام لگایا۔

ٹی آر ایس قائد اور سابق چیف منسٹر کلواکنٹلا چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) نے الزام لگایا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں اقتدار سنبھالنے والی کانگریس حکومت نے گزشتہ چار مہینوں میں عوام تک کچھ نہیں پہنچایا اور عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں بھی ناکام رہی ہے۔ اتوار کی شام 18ویں لوک سبھا انتخابی مہم کے حصہ کے طور پر ہنمکنڈہ عدالت سنٹر سے ہنمکنڈہ چوراستہ تک ایک روڈ شو کا اہتمام کیا گیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے ان دس سالوں میں عوام کو کچھ نہیں دیا، بی جے پی اور کانگریس کو عوام سے ووٹ مانگنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے، کسانوں کو آج بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے، ریتھو بندھو نہیں ملے ۔نئی قائم ہوئی کانگریس حکومت کسانوں سے اناج خریدنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کسان مخالف رویہ رکھتی ہے اور کسانوں کو غریب بنانے کے لئے کالے قوانین لائے ہیں اس اعتبار سے حقیقت میں بی جے پی کو ووٹ مانگنے کا کوئی حق نہیں ہے اور تلنگانہ کے عوام کو ان کے جادوئی  باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ ریاست میں بی آر ایس14 سیٹیں جیتتی ہے تو مرکز میں قائم ہونے والی حکومت کی گردن جھکا کر کام لے گی، ایک ٹی آر ایس پارٹی ہی ہے جو پارلیمنٹ میں موثر انداز میں بات کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ ریاست میں کانگریس حکومت اور مرکز میں بی جے پی حکومت عوام کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ وہ 1969 سے ورنگل ضلع سے وابستہ ہیں، اس علاقے میں کالو جی اور جے شنکر نے تحریک میں جان ڈالی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایک خوفناک پارٹی جو جواں نسل کو بے راہ روی پر ڈال رہی ہے انہون نے نوجوان سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کی طرف متوجہ نہ ہوں۔

اس انتخابات میں ملک بھر میں بی جے پی کو 200 سے زیادہ سیٹیں نہیں آئیں گے، اس لیے اگلے پارلیمانی انتخابات میں معلق حکومت بنے گی، جس میں بھارتیہ راشٹرا سمیتی کے نمائندے ایک فعال کردار ادا کریں گے، لہذا یہاں ٹی آر ایس کے امیدوار کو کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ جب قاضی پیٹ میں کوچ فیکٹری بننے والی تھی، وزیر اعظم گجرات کو لیکر چلے گئے، اور 10 سال سے ہم قبائلی یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیںلیکن کوئی توجہہ نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت آنے پر بے روزگاری بڑھے گی اور یہاں ریاستی حکومت ریتھو بندھو کی اگائی گئی فصلوں اور بجلی خریدنے میں پہلے ہی ناکام ہوچکی ہے۔

انہوں نے بی جے پی کے دریائے گوداوری کے پانی کو تمل ناڈو اور کرناٹک کی طرف موڑنے کے مبینہ منصوبوں کی مذمت کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ وہ تلنگانہ کے وسائل پر اس طرح کے تجاوزات کے خلاف مزاحمت کرے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ریاست کو بچانے کے لیے لڑیں، آپ سب کو ٹی آر ایس کے امیدوار سدھیر کمار کو ووٹ دینا چاہیے- انہوں نے کہ کہ آپ اس شخص کو جانتے ہیں، جس کو ہم نے نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا تھا ان کی اپنی کوئی سیاسی اصول پسندی نہیں ہے وہ سخص کڈیم سری ہری ہیں۔تین ماہ میں عدالت کا فیصلہ آئے گا او ا سٹیشن گھن پور میں ضمنی انتخاب ہوں گے، پھر وہاں سے راجیہ ایم ایل اے ہونگے۔

انہوں نے ریاستی وزیر اعلی ریونت ریڈی کو متوجہہ کرتے ہوئے کہا کہ  کے سی آر کے لیے جیل کوئی نئی بات نہیں ہے، اگر وہ جیل سے ڈرتے تو علحدہ ریاست تلنگانہ نہیں قائم ہوتا تھا ، انہوں نے ریاستی وزیر اعلی کو اپنی زبان پر قابو رکھنے کوکہا میں بھی دس سال وزیر اعلی تھا مگر کسی دن اسمبلی کسی کے لئے کو کوئی غیر معیاری لفظوں کا استعمال نہیں کیا ۔ اپنی انتخابی مہم کے روڈ شو میں کے سی آر نے لوگوں سے 13 مئی کو ہونے والے انتخابات میں ٹی آر ایس امیدوار کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔

اس موقع پر ٹی آر ایس کے لوک سبھا امیدوار ڈاکٹر سدھیر کمار، سابق وزیر ایرابیلی دیاکر راؤ، سابق ایم ایل اے و چیف وہپ ونئے بھاسکر، سابق اسپیکر سری کونڈہ مدھوسودھن چاری،ایم ایل سی بسواراج ساریا، بنڈ ہ پرکاش، جنگاوں ایم ایل اے پلہ راجیشور ریڈی، سابق ایم ایل اے چلہ دھرما ریڈی، کارکنان اور عوام بڑی تعداد میں موجود تھے۔