Aligning Urdu with Modern Technology and Contemporary Needs Is the Responsibility of Urdu Community: Speakers

Aligning Urdu with Modern Technology and Contemporary Needs Is the Responsibility of Urdu Community: Speakers

حیدرآباد
اردو زبان کو عصری تقاضوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اہلِ اردو کی ذمہ داری: مقررین
Aligning Urdu with Modern Technology and Contemporary Needs Is the Responsibility of Urdu Community: Speakers

 

حیدرآباد، 7/ ستمبر
(دستور نیوز/راست)

اردو زبان کے شاندار ماضی اور روشن مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اردو زبان کو عصری تقاضوں اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اہلِ اردو کی اہم ذمہ داری ہے۔ اردو صرف شعر و شاعری، ادب اور صحافت تک محدود نہیں رہی بلکہ اب تیزی سے ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے شعبوں سے بھی جڑ رہی ہے۔

یہ خیالات سینئر صحافی جناب ایم اے ماجد نے بزم گل افشاں کے زیر اہتمام میکش ہال، عیدی بازار، حیدرآباد میں اردو کے نامور ادیب، صحافی، مترجم، ماہرِ تعلیم اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیرآباد پروفیسر محمد اسلم فاروقی کے اعزاز میں منعقدہ تہنیتی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔

ایم اے ماجد نے کہا کہ اردو زبان کا ماضی شاندار رہا ہے اور مستقبل بھی روشن ہے، لہٰذا اہلِ اردو کو زبان کے خلاف ہونے والی سازشوں اور چہ میگوئیوں سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اردو کے روشن مستقبل سے جوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ اردو کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے بھی وابستہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد بین الاقوامی اداروں کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں ترجمہ، زبان، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سے متعلق شعبوں میں ماہر افراد کے لیے روزگار کے بہترین مواقع موجود ہیں اور نوجوانوں کو اردو اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔

تقریب کی صدارت جناب صلاح الدین نیر نے کی جبکہ صاحبزادہ فہیم مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کے آغاز میں صدر بزم گل افشاں تشکیل انور رزاقی نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بزم گل افشاں کے زیر اہتمام ہر ماہ ادبی اجلاس اور مشاعرے منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ اردو زبان اور ادب کی خدمت سے وابستہ اہم شخصیات کو تہنیت پیش کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر محمد اسلم فاروقی ایک نامور محقق، ادیب اور صحافی ہیں اور ان کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات سے اردو کی نئی نسل مسلسل استفادہ کر رہی ہے۔

ڈاکٹر سید آصف علی نے بحیثیت محقق پروفیسر محمد اسلم فاروقی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نگرانی میں نو اسکالرس نے پی ایچ ڈی کی تکمیل کی، جبکہ سینکڑوں طلبہ اور محققین نے ان کی علمی رہنمائی سے استفادہ کیا۔

ڈاکٹر محمد ناظم علی، سابق پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج موڑتاڑ نے کہا کہ پروفیسر محمد اسلم فاروقی کا تعلق نظام آباد سے ہے اور وہ متعدد قومی سیمیناروں کے انعقاد کے علاوہ بارہ سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تصنیف "سائنس نامہ” دھارواڑ یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے اور وہ اردو زبان کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے لیے بھی نمایاں کام کر رہے ہیں۔

صحافی محمد نصر اللہ خان نے پروفیسر محمد اسلم فاروقی کی صحافتی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ روزنامہ سیاست سے وابستگی کے بعد انہوں نے اپنے مضامین اور انشائیوں کے ذریعے اردو صحافت کو نمایاں خدمات انجام دیں اور آج بھی ان کی صحافتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر اسلم فاروقی نے صحافت اور تعلیم کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے ایک پاکیزہ اور بہتر معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر جہانگیر احساس، لیکچرر اردو، فلک نما ڈگری کالج نے پروفیسر محمد اسلم فاروقی کی تدریسی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اردو نصاب کے ماہر ہیں اور طلبہ و اساتذہ کو بروقت تدریسی مواد اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

Aligning Urdu with Modern Technology and Contemporary Needs Is the Responsibility of Urdu Community: Speakers

اپنے تہنیتی خطاب میں پروفیسر محمد اسلم فاروقی نے بزم گل افشاں کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے ادارے اہلِ اردو کی تہنیت اور حوصلہ افزائی کے ذریعے اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے ادبی اجلاسوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں عام کیا جانا چاہیے، اردو پڑھانے کا بہتر ماحول پیدا کیا جائے اور اردو پڑھنے والے طلبہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔

صدر تقریب صلاح الدین نیر نے مشورہ دیا کہ ظہیرآباد کے سابق وزیر اور رکن پارلیمنٹ مسٹر باگا ریڈی کی اردو اور سماجی خدمات پر بھی ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا جائے تاکہ نئی نسل اور عوام ان کی خدمات سے واقف ہو سکیں۔

بزم گل افشاں کی جانب سے پروفیسر محمد اسلم فاروقی کی 25 سالہ تدریسی، علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں صدر بزم تشکیل انور رزاقی، صلاح الدین نیر، ایم اے ماجد، صاحبزادہ فہیم اور ناقد رزاقی کے ہاتھوں انہیں شال اور گل پوشی کے ذریعے تہنیت پیش کی گئی۔

تہنیتی تقریب کے فوری بعد صاحبزادہ فہیم کی صدارت میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں میر مقبول علی مقبول، ثناء اللہ انصاری وصفی، علی جواد شہپر، منظور احمد منظور، شرف الدین ارشد، روشن علی روشن، شکیل عباس، عمران حسین، جدت اسلوبی، جاوید نقشبندی، تشکیل انور رزاقی، ناقد رزاقی، صلاح الدین نیر اور صاحبزادہ مجتبیٰ فہیم نے اپنا کلام پیش کیا۔

تقریب کے اختتام پر تشکیل انور رزاقی نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

دستور نیوز