Discrimination in TGMERS&C admissions and misuse of funds should be stopped immediately. Minority declaration should be implemented immediately. BRS leaders

TGMERS&C داخلوں میں امتیازی سلوک اور فنڈز کا غلط استعمال ۔ مئنارٹی ڈیکلریشن پر فوری عمل آوری کی جائے ۔ بی آر ایس قائیدین کا مطالبہ

اضلاع کی خبریں

پردہ ہمارے نام سے اٹھا  آنکھ لڑائی لوگوں نے

TGMERS&C داخلوں میں امتیازی سلوک اور فنڈز کا غلط استعمال ۔
مئنارٹی ڈیکلریشن پر فوری عمل آوری کی جائے ۔ بی آر ایس قائیدین کا مطالبہ

 

حیدرآباد/ورنگل:-30/اگست
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

ورنگل اور ہنمکنڈہ دونوں ضلعوں کے بی آر ایس پارٹی مینارٹی سیل کے سینر قائیدین جس میں محمد نعیم ، سابق کارپوریٹرسید مسعود ، محمد عبدالقدوس ، شیخ محمود ، ،محمد شفیع، محمد خلیل احمد، محمد محب الدین شاہ نے تلنگانہ مینارٹی ریزیڈنشل اسکول و کالج میں داخلوں میں امتیازی سلوک اور فنڈز کے بیجا استعمال جسے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہنمکندہ پریس کلب میں صحافیوں سے خطاب کیا۔

اس موقع پر بی آر ایس قائیدین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے واضح رہنما خطوط اور قوانین ہونے کے باوجود ، یہ ادارہ غیر منصفانہ طرز عمل اختیار کیا ہوا ہے، جو اقلیتی برادریوں کے مستحق طلباء کو ان کے جائز داخلوں ،مراعات، غذا اور کئی ایک حقوق سے محروم کر رہا ہے۔

تلنگانہ مائنرٹیز ریزیڈنشل اسکول و کالج میں داخلوں کہ اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور بنیادی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر اقلیتی طلباء کو داخلے دیے جا رہے ہیں۔اسی طرح اقلیتی بہبود کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کا بیجا طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے اقلیتی طبقے کے مستفید ہونے والے طلبا ان کے جائز افادیت سے محروم ہو رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اقلیی طلباء کی خوراک کے لیے مختص کئے گئے بجٹ کا بے ضابطگی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔اداروں میں سے مینو بورڈ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ غذا میں انڈے اور گوشت کی فراہمی کا کوئی معین شیڈیول نہیں اور نہ ہی معیاری غذا فراہم کی جا رہی ہے۔اسی طرح ڈائننگ ہالز میں روزانہ فراہم کی جانے والی غذا کا نہ تو کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی کوئی دیکھ بھال ہے۔انہوں نے کہا کہ کھانے کی سپلائی کی پیمائش کے لیے وافر تعداد میں ناپ تول کرنے والی مشینوں کی کمی ہے۔

اس کے علاوہ اس موقع پر ان قائدین نے پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے روزگار کے مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔ لہذا ایسی صورت حال میں اقلیتوں کو روزگار مہیا کرانے کے لیے اؤٹ سورسنگ کے ذریعے ہی صحیح روزگار کے مواقع فراہم کرنے حکومت سے مطالبہ کیا۔

اس موقع پر انہوں نے حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے ائمہ اور موذنوں کی تنخواہ میں اضافے پر فوری طور پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔۔انہوں نے کہا کہ اقلیتی طبقے کے بیٹیوں کی شادی کے لیے ایک لاکھ نقد اور ایک تولہ سونا دینے کی اسکیم کا اعلان ہونے کے باوجود شروع ہونے سے قاصر ہے۔ جس کی وجہہ سےوالدین کو شادیوں کے انعقاد میں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ مقروض ہوتے جا رہے ہیں۔

ان سینئر قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات سے پہلے مائنارٹیز ڈکلریشن کے ذریعے کیے گئے وعدوں بشمول مینارٹی سب پلان پر جلد سے جلد عمل واری شروع کر دیں تاکہ مائنارٹی طبقہ الجھنوں اور پریشانیوں سے پرے ہو کر حکومت کے اسکیموں سے فلاح و بہبود پا سکے۔