South Asian Nations Must Unite Beyond Borders to Fight Climate Change: Warangal MP Dr. Kadiyam Kavya

South Asian Nations Must Unite Beyond Borders to Fight Climate Change: Warangal MP Dr. Kadiyam Kavya

عالمی
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف سرحدوں سے بالاتر ہو کر مشترکہ جدوجہد ضروری: رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر کڈیم کاویہ
South Asian Nations Must Unite Beyond Borders to Fight Climate Change: Warangal MP Dr. Kadiyam Kavya

 

تھمپو، بھوٹان، 6 /ستمبر
(دستور نیوز/راست)

ورنگل کی رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی آج پوری دنیا کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے اور اس کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک کو سرحدوں سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمتِ عملی اور اجتماعی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

وہ بھوٹان کے دارالحکومت تھمپو میں منعقدہ ساؤتھ ایشیا پارلیمنٹری ڈائیلاگ آن انوائرمنٹ، کلائمیٹ اینڈ سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ میں شرکت اور خطاب کر رہی تھیں۔ اس کانفرنس میں جنوبی ایشیائی ممالک کے ارکانِ پارلیمنٹ، پالیسی سازوں اور ماہرین نے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی سے متعلق اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب عوام کی روزمرہ زندگی پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت، بے قاعدہ بارشوں، سیلاب، خشک سالی اور پانی کی قلت جیسے مسائل زراعت، روزگار، عوامی صحت اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اس لیے اس کے حل کی بھی کوئی سرحد نہیں ہونی چاہیے۔ جنوبی ایشیائی ممالک باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے ہی موسمیاتی بحران کا مؤثر طور پر مقابلہ کر سکتے ہیں۔

رکنِ پارلیمنٹ نے قابلِ تجدید توانائی، صاف توانائی کے ذرائع، آبی وسائل کے تحفظ، گرین انفراسٹرکچر اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کو ترجیح دینے پر زور

ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کسانوں، خواتین، نوجوانوں، غریبوں اور پسماندہ طبقات کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسیاں تیار کی جانی چاہئیں۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زرعی طریقۂ کار کو فروغ دینے، بہتر آبی انتظام، اور قدرتی آفات کے لیے پیشگی انتباہی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بھارت کے تجربات سے جنوبی ایشیا کو فائدہ پہنچانے کی ضرورت

ورنگل کی رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے قابلِ تجدید توانائی، گرین ڈیولپمنٹ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور تجربات کو دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی شیئر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے جنوبی ایشیائی ممالک کے ارکانِ پارلیمنٹ کے درمیان ایسے مکالموں میں مزید اضافہ کرنے اور مشترکہ مسائل کے لیے مشترکہ پالیسیاں اور اجتماعی لائحۂ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا تحفظ ہر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آج کیے جانے والے فیصلے ہی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ ترقی کا مطلب قدرت کو تباہ کرنا نہیں بلکہ قدرت کا تحفظ کرتے ہوئے ترقی حاصل کرنا ہی حقیقی اور پائیدار ترقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھوٹان میں منعقد ہونے والا یہ پارلیمانی مکالمہ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان ماحولیات اور موسمیاتی پالیسیوں میں باہمی تعاون اور بہتر تال میل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے۔
دستورنیوز