Millat rabta Committee Warangal has strongly opposed the Waqf Amendment Bill

Millat rabta Committee Warangal has strongly opposed the Waqf Amendment Bill

اضلاع کی خبریں قومی
ملّت رابطہ کمیٹی ورنگل نے وقف ترمیمی بل کی سخت مخالفت کی ہے۔

 

حیدرآباد/ورنگل:12/ستمبر
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

کمیٹی کے صدر سید شاہ غلام افضل بیابانی المعروف خسرو پاشاہ کی صدارت میں گزشتہ رات ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام مسالک کے ذمہ داران نے شرکت کی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وقف ترمیمی بل وقف جائیدادوں کی خود مختاری اور ان کے تحفظ کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خسرو پاشاہ نے کہا کہ وقف جائیدادوں کا تحفظ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ املاک مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور سماجی ترقی کے لئے وقف کی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وقف بورڈ کی خود مختاری ختم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت براہ راست وقف جائیدادوں کے معاملات میں مداخلت کرے گی جس سے بدعنوانیوں اور بدانتظامیوں کا راستہ کھل جائے گا۔ اس بل کے نفاذ سے نہ صرف وقف املاک کا تحفظ متاثر ہوگا بلکہ وقف جائیدادوں کی فروخت اور بے جا استعمال کا بھی خدشہ پیدا ہو جائے گا۔کمیٹی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس بل کو فوری طور پر واپس لے اور وقف املاک کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات کرے تاکہ مسلمانوں کے مفادات کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وقف جائیدادوں کا تحفظ مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس مسئلے پر کسی بھی قسم کی لاپرواہی ناقابل برداشت ہوگی۔ملت رابطہ کمیٹی نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس بل کے خلاف بھرپور احتجاج کریں۔

کمیٹی نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے QR کوڈ اسکین کرکے اپنی حمایت کا اظہار کریں اور اپنے حقوق کے لئے متحد ہو جائیں۔اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا جعفر الابیدین نے تجویز پیش کی کہ جمعہ کی نماز سے قبل تمام مساجد میں مسلمانوں کو QR کوڈ اسکین کرنے کی ترغیب دی جائے تاکہ حکومت کو مسلمانوں کی طاقت اور اتحاد کا واضح پیغام پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک پرامن اور مؤثر طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم وقف ترمیمی بل کے خلاف اپنے احتجاج کو منظم اور مضبوط بنا سکتے ہیں۔

مولانا جعفر الابیدین نے مزید کہا کہ نماز جمعہ کے اجتماعات میں اس مہم کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہو سکیں اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر مقامی کارپوریٹر ایڈوکیٹ ابو بکر اور ورنگل کے تمام مسلک کے ذمےدار جس میں کے خالد سعید، مولانا فصی الدین قاسمی، مولانا ایوب قاسمی، مولانا عظیم الدین قاسمی، مولانا ستتر قاسمی، مولانا عتیق الرحمن، سید شاہ یحیا پاشاہ نبیرہ قادری عرف شعیب بابا، عمر علی شاہ سجادہ نشین عبدل نبی شاہ درگاہ نمکنڈا، سماجی کارکن میں ڈاکٹر انیس احمد صدیقی، ایم اے کے تنویر، ایڈوکیٹ مدثر احمد قیومی کے علاوہ سیاسی قائدین موجود تھے۔