ورنگل کے بلا سمودرم میں زیر تعمیر کالوجی کلاکشیترا کے نام کی تختی میں اردو نظر انداز کرنا
کالوجی نارائن راو کی تو ہین کے مترادف ہے ۔ نارین راو اردو میں بھی شعر کہتے تھے ان کا تخلص "باغی” تھا
ان کے بڑے بھائی کالوجی رامیشور راو" شاد "اردو کے معرو ف شاعر تھے ۔
اردو تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت رکھنے کے باجود سوتیلا سلوک، مقامی عوام میں مایوسی
اردو تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت رکھنے کے باجود سوتیلا سلوک،مقامی عوام میں مایوسی
The omission of Urdu in the nameplate of the Kaluji Kalakshetra under construction in Warangal’s Balasamudram
is tantamount to insulting Kaluji Narayan Rao. Narayan Rao also used to write poetry in Urdu and his pen name was "Baghi”.
His elder brother Kaluji Rameshwar Rao was a well-known Urdu poet.
Despite Urdu being the second official language of Telangana, local people are disappointed
Despite Urdu being the second official language of Telangana, local people are disappointed
حیدرآباد/ورنگل؛18/ستمبر
(دستو نیوز ڈاٹ کام)
ورنگل کے بالا سمودرم میں زیر تعمیر کالوجی کلاکشیترا (kaloji Kalakshetra) کے نام کی تختیوں میں اردو زبان کو نظر انداز کیے جانے پر عوام اور اردو زبان سے محبت رکھنے والے افراد نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقامی شہریوں اور اردو کے دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ ثقافتی مرکز، جو کہ ریاست تلنگانہ کی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتا ہے ، میں اردو کو وہ مقام نہیں دیا جا رہا ہے اور مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کی یہ مستحق ہے۔
حالانکہ اردو ریاست تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان حیثیت رکھ تی ہے اور دنیا بھر میں ثقافت اور تاریخ میں اردو زبان کا ایک اہم کردار رہا ہے اب اس زبان کو ندارد کرنا ریاست کی شناخت سے انحراف کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
کالوجی کلاکشیترا، جو کہ ورنگل میں ثقافتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز ہے،۔ یہ صورت حال اردو کے فروغ کے لیے کام کرنے والے حلقوں کے لیے انتہائی مایوس کن ہے۔ماضی میں ہنمکنڈہ کلیکٹریٹ عمارت پر اردو زبان کو نظر انداز کیا گیا تھا بعد ازاں عوامی نمائیندی پر حکام نے اردو زبان کے نامی کی تختی کو عمارت پر تحریر کیا۔حکومت تلنگانہ کو متعدد بار اس معاملے پر یاد دہانی کرائی جا چکی ہے کہ اردو زبان کو کلاکشیترا کی عمارت میں ندارد کیا گیا، مگر اب تک کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔
اردو زبان کو نظر انداز کرنا ریاست کے سیکولر اور کثیر لسانی تشخص پر بھی سوالیہ نشان ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے کالوجی کلاکشیترا میں اردو زبان کی ترویج کے لیے ضروری اقدامات کرنا چاہیے۔ اردو زبان کی فروغ کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے ہر شعبے میں برابر کا مقام دیا جائے تاکہ ریاست کی ثقافتی شناخت باقی رہے۔
واضح رہیکہ کالوجی نارین راو اردو میں بھی شعر کہتے تھے ان کا تخلص "باغی” تھا۔ان کی ایک نظم ” غنڈوں کی جے بولو غنڈوں کی جے” اک زمانہ میں کافی مشہور تھی۔یہ نظم اب دستیاب نہیں ہے۔ان کے بڑے بھائی کالوجی رامیشور راو شاد اردو کے معرو ف شاعر تھے جن کے تین مجموعہ شائع ہوے باقی ضائع ہو گیے۔