1000 دنوں میں تلنگانہ ترقی کی نئی راہ پر گامزن، عوام کے دلوں میں کانگریس کی جگہ مضبوط ہوئی: رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کڈیم کاویہ
Telangana Charts a New Path of Progress in 1,000 Days, Says Warangal MP Dr. Kadiyam Kavya
ہنمکنڈہ/ یکم ستمبر(دستور نیوز)
و رنگل کی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے کہا ہے کہ کانگریس حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے 1000 دنوں کی عوامی حکمرانی کامیابی کے ساتھ مکمل کرتے ہوئے تلنگانہ کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں، خواتین، غریبوں اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کانگریس حکومت کا بنیادی مقصد ہے۔
ہنمکنڈہ کے ڈی سی سی دفتر میں منعقدہ ایک میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے کہا کہ گزشتہ 1000 دنوں کے دوران حکومت کی جانب سے انجام دیے گئے ترقیاتی اور فلاحی کاموں کو عوام تک وسیع پیمانے پر پہنچانا کانگریس کارکنوں کی اہم ذمہ داری ہے۔
کسانوں کی فلاح حکومت کی اولین ترجیح
ڈاکٹر کاویہ نے کہا کہ کانگریس حکومت نے گزشتہ 32 ماہ کے دوران کسانوں کی فلاح کے لیے 1.68 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ انتخابی وعدے کے مطابق دو لاکھ روپے تک کے زرعی قرض معاف کرتے ہوئے 25 لاکھ کسان خاندانوں کو قرضوں سے راحت فراہم کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ریتھو بھروسہ اسکیم کے تحت 36 ہزار کروڑ روپے جاری کیے گئے، جبکہ صرف 9 دنوں میں 9 ہزار کروڑ روپے کسانوں کے کھاتوں میں جمع کیے گئے۔ باریک چاول کی کاشت کی حوصلہ افزائی کے لیے فی کوئنٹل 500 روپے بونس، مفت بجلی اور کسان بیمہ جیسی اسکیمیں نافذ کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یاسنگی سیزن میں 81 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی خریداری کی گئی اور دھان کی پیداوار میں پنجاب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تلنگانہ ملک میں نمایاں مقام پر پہنچ گیا۔
خواتین کو معاشی استحکام
رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کاویہ نے کہا کہ کانگریس حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ مہالکشمی اسکیم کے تحت خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً 11 ہزار کروڑ روپے کے سفری اخراجات کی بچت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گروہ جیوتی اسکیم کے تحت 53 لاکھ خاندانوں کو 200 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ 500 روپے میں گیس سلنڈر کی اسکیم سے 43 لاکھ خواتین مستفید ہوئی ہیں۔
خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے 4.50 لاکھ گروپس کو بینک لنکیج کے ذریعے 60 ہزار کروڑ روپے کے قرض فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے گروپس کو سولر پاور پلانٹس، پٹرول پمپس اور آر ٹی سی بسوں کے انتظام جیسے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
غریبوں کی فلاح اور سماجی انصاف
ڈاکٹر کاویہ نے بتایا کہ 15 لاکھ سے زائد نئے راشن کارڈ تقسیم کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر 3.38 کروڑ افراد پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے تحت مستفید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 43 لاکھ سے زائد بزرگوں، بیواؤں اور معذور افراد کو پنشن فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ مزید 2.25 لاکھ افراد کو نئی پنشن منظور کی گئی ہے۔
اندیراما ہاؤسنگ اسکیم کے تحت پہلے مرحلے میں 4.50 لاکھ مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں اور ہر خاندان کو 5 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں اندیراما ہاؤسنگ ٹاورس اور وارنگل میں ٹاور فلیٹس کی تعمیر کے لیے بھی حکومت اقدامات کر رہی ہے۔

بی سی ذاتوں کی مردم شماری تاریخی قدم
وارنگل کی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ملک میں پہلی مرتبہ تلنگانہ میں بی سی ذاتوں کی مردم شماری مکمل کی گئی اور مقامی اداروں میں بی سی طبقات کو 42 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے مرکز کو بھیجی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس سی زمرہ بندی کے نفاذ کے لیے بھی اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی۔ گزشتہ 12 برسوں سے زیر التوا کم از کم اجرتوں پر نظرثانی سے 1.11 کروڑ مزدوروں کو فائدہ پہنچا ہے، جبکہ گگ ورکرز کو قانونی شناخت دینے کے لیے خصوصی بورڈ قائم کیا گیا ہے۔
تعلیم، روزگار اور صحت پر خصوصی توجہ
ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے کہا کہ تلنگانہ کے تعلیمی شعبہ کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور پرفارمنس گریڈنگ انڈیکس میں ریاست 28ویں مقام سے 18ویں مقام پر پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہر اسمبلی حلقہ میں ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ اسکول قائم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ میگا ڈی ایس سی کے ذریعے 10 ہزار اساتذہ کی تقرری مکمل کی گئی، جبکہ حکومت کے ابتدائی 1000 دنوں میں 72 ہزار سرکاری ملازمتوں پر تقرری کے عمل کو مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
نوجوانوں کو مہارت پر مبنی تربیت فراہم کرنے کے لیے ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔ راجیو آروگیہ شری کی حد بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ گوشہ محل میں 2,700 کروڑ روپے کی لاگت سے 2 ہزار بستروں پر مشتمل عثمانیہ اسپتال کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نمس میں 2 ہزار کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجریز کامیابی کے ساتھ مکمل کی گئی ہیں۔
ریاستی مفادات کانگریس کی ترجیح
ڈاکٹر کاویہ نے کہا کہ بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت کے بعد تلنگانہ کو شدید مالی چیلنجوں کا سامنا تھا، تاہم وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس حکومت عوامی فلاح اور ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس اور بی جے پی حکومت کے خلاف غلط معلومات اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت تلنگانہ کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کر رہی ہے اور ریاست کو اس کے واجب فنڈس، ترقیاتی پراجکٹس اور تقسیم کے وعدوں پر عمل درآمد کیا جائے تو تلنگانہ کی ترقی مزید تیز ہو سکتی ہے۔
کانگریس کی عوامی مقبولیت میں اضافہ
رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کڈیم کاویہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ اپوزیشن کی جانب سے منفی پروپیگنڈہ کے باوجود کانگریس حکومت پر عوام کا اعتماد روز بروز بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں دوبارہ کانگریس حکومت کا برسر اقتدار آنا یقینی ہے اور ملک میں راہول گاندھی کے وزیر اعظم بننے کے
امکانات پر بھی انہوں نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
دستور نیوز