BRS Leaders Accuse Congress Government of Failing to Fulfil Poll Promises, Announce Statewide Protests

BRS Leaders Accuse Congress Government of Failing to Fulfil Poll Promises, Announce Statewide Protests

اضلاع کی خبریں
BRS Leaders Accuse Congress Government of Failing to Fulfil Poll Promises, Announce Statewide Protests
بی آر ایس رہنماؤں کا کانگریس حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام، 2 تا 9 ستمبر احتجاج کا اعلان

 

ہنمکنڈہ/ یکم ستمبر (دستور نیوز)

ہنمکنڈہ ضلع کے بالاسمدرم میں واقع بی آر ایس پارٹی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سابق چیف وہپ ونئے بھاسکر، سابق رکن اسمبلی چلا دھرماریڈی، سابق رکن اسمبلی ننپنے نریندر اور سابق کڈا چیئرمین مری یادو ریڈی نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی۔

سابق چیف وہپ ونئے بھاسکر نے الزام عائد کیا کہ کانگریس نے انتخابی مہم کے دوران 420 وعدے اور 6 گارنٹیاں دیتے ہوئے اقتدار میں آنے کے 100 دن کے اندر انہیں مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن تقریباً 1000 دن گزرنے کے باوجود ایک بھی وعدہ مکمل طور پر پورا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے عوامی مسائل کے حق میں پُرامن احتجاج اور دھرنے منعقد کیے ہیں۔ پارٹی کی ہدایت پر 2 ستمبر سے 9 ستمبر تک 420 انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کے مطالبے کو لے کر احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

ونئے بھاسکر نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں شامل وعدوں کے علاوہ بھی کئی فلاحی اسکیمیں نافذ کی تھیں۔ انہوں نے مقامی کانگریس رکن اسمبلی پر الزام عائد کیا کہ ان کے پیچھے رہ کر متعدد اراضی پر قبضوں کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’مجھے تہذیب اور شائستگی کا خیال ہے، ورنہ آپ کی طرح بہت سی نازیبا باتیں کہہ سکتے ہیں۔‘‘

ونئے بھاسکر نے قاضی پیٹ کے وائی ایس آر نگر میں جھونپڑیوں کے خاتمے کو ترقی قرار دینے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اقلیتوں کے شادی خانہ کی تعمیر کے لیے مختص زمین بھی حاصل کرلی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حریش راؤ کے ساتھ پولی ٹیکنک کالج کے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جانے کی کوشش کے دوران انہیں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر گرفتار کروایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کانگریس حکومت سے بیزار ہوچکے ہیں اور وعدوں کی تکمیل تک بی آر ایس کی جدوجہد جاری رہے گی۔

ونئے بھاسکر نے مقامی رکن اسمبلی کو چیلنج کیا کہ اگر ان کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے قریبی تعلقات ہیں تو جی او نمبر 97 کو منسوخ کروا کر دکھائیں۔

BRS Leaders Accuse Congress Government of Failing to Fulfil Poll Promises, Announce Statewide Protests

چلا دھرماریڈی کی تنقید

سابق رکن اسمبلی چلا دھرماریڈی نے کہا کہ پَرکال حلقہ میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ ’’باقی کارڈ‘‘ کے معاملے پر احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

انہوں نے کانگریس قائدین سے سوال کیا کہ جب بی آر ایس اپوزیشن میں ہے تو پھر حکومت بی آر ایس قائدین سے اتنا خوفزدہ کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کو اپنے منشور میں کیے گئے وعدوں میں سے بتانا چاہیے کہ اس نے کون سا وعدہ پورا کیا ہے۔

چلا دھرماریڈی نے کہا کہ اپوزیشن کا کام حکومت سے سوال کرنا اور اسے عوامی مسائل پر جوابدہ بنانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کلیان لکشمی اسکیم کو روکنے کی کوشش کرے گی تو بی آر ایس اس کے خلاف بھی جدوجہد کرے گی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت میں کسان مشکلات کا شکار ہیں اور یوریا کے حصول کے لیے انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے پَرکال رکن اسمبلی پر اندرامّا مکانات کے سلسلے میں مبینہ طور پر رقم وصول کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

نَنّپنے نی نریندر کے ریمارکس

سابق رکن اسمبلی نَنّپنے نریندر نے الزام لگایا کہ کانگریس قائدین حکمرانی اور عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے آپسی تنازعات اور سیاسی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن (GWMC) کے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کا بھی حکومت پر الزام عائد کیا۔

نریندر نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی آر ایس قائدین کو اسمبلی تحلیل کرنے کا چیلنج دیا جا رہا ہے تو کانگریس حکومت اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کا سامنا کرے۔

انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعلیٰ اور ریاستی وزراء متعدد مرتبہ دہلی کا دورہ کرچکے ہیں، لیکن تلنگانہ کے لیے ان دوروں سے کیا حاصل ہوا؟

بی آر ایس قائدین نے واضح کیا کہ کانگریس حکومت کی جانب سے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد تک ان کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔

dastoornews.com