Health Awareness Seminar Held at Public Garden in Hanumakonda
ہنمکنڈہ پبلک گارڈن میں صحت سے متعلق بیداری سمینار کا انعقاد
ہنمکنڈہ، 30 مئی:
(دستور نیوز ڈا ٹ کام)
ہنمکنڈہ کے پبلک گارڈن میں واکرز اسوسی ایشن کے صدر راجی ریڈی کی قیادت میں صحت سے متعلق ایک بیداری سمینار کا انعقاد نہایت جوش و خروش کے ساتھ کیا گیا، جس میں صحت بیمہ اور طبی تحفظ کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر شرکاء کو صحت کے تحفظ کے لیے مختلف سہولتوں اور جدید بیمہ پالیسیوں سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔
سمینار میں ہیلتھ انشورنس کمپنی کے اسوسی ایٹ پارٹنر رمیش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی ہیلتھ پالیسیوں میں ایسی متعدد خصوصیات شامل ہیں جو عام بیمہ پالیسیوں سے مختلف اور زیادہ فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض خصوصی پالیسیوں میں صارفین کو اپنی ضرورت کے مطابق لامحدود سہولتوں سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 142 اقسام کی پہلے سے موجود بیماریوں کے لیے پالیسی کے آغاز ہی سے کوریج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان پالیسیوں کے تحت بین الاقوامی سطح پر بھی علاج کی سہولت دستیاب ہے، جس کے ذریعے بیرونِ ملک بھی طبی خدمات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مسلسل پانچ برس تک کسی قسم کا کلیم نہ کرنے والے صارفین کو چھٹے سال پریمیم میں خصوصی رعایت فراہم کی جاتی ہے۔ ادائیگی کے نظام کو آسان بنانے کے لیے قسطوں (EMI) میں ادائیگی کی سہولت بھی رکھی گئی ہے تاکہ صارفین پر مالی بوجھ نہ پڑے۔
اس موقع پر واکرز اسوسی ایشن کے سکریٹری گڈی پلی راجی ریڈی نے کہا کہ جس طرح روزمرہ کی چہل قدمی صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے، اسی طرح اچانک پیش آنے والی طبی مشکلات سے نمٹنے کے لیے ہیلتھ انشورنس بھی بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحت بیمہ پالیسی اختیار کریں تاکہ خاندان کو مالی تحفظ حاصل ہوسکے۔
سمینار میں واکرز اسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداران اور ارکان نے شرکت کی، جن میں صدر گورو راجی ریڈی، نائب صدر آکنی پلی روی گپتا، جنرل سکریٹری عبد الکریم، خازن سنکرا روی، سکریٹری گڈی پلی راجی ریڈی، ای سی ممبران رمنا ریڈی اور ہری کرشنا کے علاوہ ڈاکٹر رمیش، ڈاکٹر بھگیرتھ، وینو، گوپی، سراونتی ریڈی، ستیہ مولک اور دیگر واکرز کی بڑی تعداد شریک رہی۔ شرکاء نے صحت بیمہ سے متعلق اپنے مختلف سوالات بھی پیش کیے جن کے ماہرین نے تسلی بخش جوابات دیے۔
اکبر ضیاء