Attacks on Religious Freedom Unacceptable; Need to Review Supreme Court Verdict: Kadiyam Srihari
مذہبی آزادی پر حملے ناقابلِ قبول، سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی ضرورت: کڈیم سری ہری
حیدرآباد/اسٹیشن گھن پور:10/اپریل
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
سابق نائب وزیر اعلیٰ و رکنِ اسمبلی اسٹیشن گھن پور کڈیم سری ہری نے کہا ہے کہ ملک میں مذہبی عقائد پر حملے ہو رہے ہیں اور بعض عناصر مذہبی آزادی سلب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کا منظم ہو کر مقابلہ کرنا ضروری ہے۔
وہ 10 اپریل کو رگھوناتھ پلی منڈل کے کنچن پلی گاؤں میں واقع سینٹینری بپٹسٹ چرچ کی سالانہ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر چرچ کے پادریوں نے خصوصی دعائیں بھی کیں۔
اپنے خطاب میں کڈیم سری ہری نے کہا کہ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا فیصلہ، جس میں کہا گیا ہے کہ شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والے افراد اگر عیسائی مذہب اختیار کریں تو انہیں ریزرویشن کا فائدہ حاصل نہیں ہوگا، ایک غلط فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینِ ہند کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے مذہبی آزادی اور ذات پر مبنی ریزرویشن دونوں کو بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ذات (کاسٹ) انسان کی پیدائش سے وابستہ ہوتی ہے جبکہ مذہب انسان کے عقیدے اور ایمان پر مبنی ہوتا ہے، اور ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ کو اپنے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی عقائد کا تحفظ آئین کی دی ہوئی ضمانت ہے اور کسی کو بھی اپنے عقیدے سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کڈیم سری ہری نے ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کنچن پلی گاؤں میں ایس سی قبرستان کے لیے 50 لاکھ روپے کی لاگت سے سی سی روڈ تعمیر کیا گیا ہے، جبکہ ایس سی کالونی میں 20 لاکھ روپے کی لاگت سے سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے چرچ کے لیے باؤنڈری وال اور بیت الخلاء کی تعمیر کا مطالبہ بھی جلد پورا کرنے کا یقین دلایا۔
انہوں نے تقریب کے اختتام پر دعا کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سب کے لیے نجات دہندہ ثابت ہوں۔
اس پروگرام میں ضلع لائبریری ادارہ کے چیئرمین ماروجوڈو رام بابو، مقامی سرپنچ ابراہام، ضلع کانگریس پارٹی کے نائب صدر لنگال جگدیش چندر ریڈی، عیسائی برادری کے معززین، عوامی نمائندے، قائدین، کارکنان اور بڑی تعداد میں دیہاتی شریک تھے۔
دستور نیوز ڈاٹ کام