masood carporater

BRS Strengthens Organizational Structure, Syed Masood Appointed In-Charge of Wardhannapet Assembly Constituency

اضلاع کی خبریں
BRS Strengthens Organizational Structure, Syed Masood Appointed In-Charge of Wardhannapet Assembly Constituency
بی آر ایس پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں میں تیزی، سید مسعود وردھنا پیٹ اسمبلی حلقہ کے انچارج مقرر

ورنگل21/مئی
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

تلنگانہ میں اپنی تنظیمی بنیادوں کو مزید مستحکم کرنے اور عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے مقصد سے بی آر ایس پارٹی نے مختلف اسمبلی حلقوں کے لیے پارٹی کے سینئر قائدین اور سرگرم رہنماؤں کو انچارج کی ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ حلقہ سطح پر مضبوط قیادت کی موجودگی نہ صرف کارکنان میں نیا جوش پیدا کرے گی بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی مؤثر آواز ثابت ہوگی۔

اسی سلسلہ میں ورنگل مشرقی (ایسٹ) حلقہ کے تحت آنے والے وردھنا پیٹ اسمبلی حلقہ کے لیے سابق کارپوریٹر و ڈپٹی میئر محترمہ رضوانہ شمیم کے شوہر اور ورنگل عظیم بلدیہ کے سینئر رہنما سید مسعود کو بی آر ایس پارٹی کا انچارج نامزد کیا گیا ہے۔ سید مسعود کو یہ ذمہ داری سونپے جانے پر پارٹی کارکنان، ہمدردوں اور مقامی عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

syed masood brs incharge wardahnnapet

پارٹی ذرائع کے مطابق سید مسعود کو طویل سیاسی و سماجی تجربہ حاصل ہے اور وہ ماضی میں عوامی مسائل کی یکسوئی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور عوامی نمائندگی میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی نامزدگی کو پارٹی کی تنظیمی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت مقامی سطح پر عوام کے ساتھ براہِ راست رابطہ مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

خصوصی طور پر اقلیتی طبقات میں سید مسعود کی نامزدگی کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ بی آر ایس پارٹی کے کارکنان اور اقلیتی حلقوں کے افراد نے اس فیصلے کو پارٹی کی جانب سے اقلیتوں کو مناسب نمائندگی اور سیاسی اہمیت دینے کی علامت قرار دیا۔ متعدد کارکنان نے امید ظاہر کی کہ سید مسعود اپنی ذمہ داری مؤثر انداز میں نبھاتے ہوئے حلقہ کے عوامی مسائل کو پارٹی قیادت تک پہنچانے اور ان کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کریں گے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اسمبلی حلقوں میں تجربہ کار قائدین کی تقرری سے پارٹی تنظیمی اعتبار سے مزید مضبوط ہوگی اور زمینی سطح پر عوام کے ساتھ روابط میں اضافہ ہوگا، جس کا فائدہ مستقبل میں پارٹی کو سیاسی طور پر حاصل ہوسکتا ہے۔