Big warning for those who give motor vehicles to minors – Warangal Police takes strict action
نابالغوں کو گاڑی دینے والوں کے لیے بڑی وارننگ – ورنگل پولیس کا سخت اقدام

حیدرآباد/ورنگل:-18/اپریل
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
ورنگل پولیس کمشنر سنپریت سنگھ نے خبردار کیا ہے کہ نابالغ بچوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا یا بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی دینا قانونی جرم ہے، اور ایسے افراد کو سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پولیس کے مطابق ورنگل کمشنریٹ کے تحت سڑک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر خاص مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت نابالغ ڈرائیورز اور بغیر لائسنس گاڑی چلانے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد کے گاڑی چلانے سے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے روکنے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔کمشنر نے بتایا کہ اگر کوئی نابالغ بچہ گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا جائے تو اس کے خلاف کیس درج کیا جائے گا، گاڑی ضبط کر لی جائے گی، اور نابالغ کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد عدالتی حکم پر "آبزرویشن ہوم” بھیجا جائے گا۔ ساتھ ہی نابالغ کے والدین یا گاڑی کے مالک کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، انہیں مشورہ دیا جائے گا اور کیس بھی درج کیا جا سکتا ہے۔
پولیس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بغیر لائسنس کسی کو گاڑی دینا بھی جرم ہے۔ اگر ایسا شخص گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا جائے تو نہ صرف اس پر بلکہ گاڑی کے مالک پر بھی جرمانہ ہوگا اور گاڑی ضبط کر لی جائے گی۔
پولیس کمشنر نے خاص طور پر خبردار کیا کہ اگر نابالغ کی ڈرائیونگ سے کوئی جان لیوا حادثہ پیش آ جائے تو گاڑی کے مالک کو تین سال تک کی قید یا 25 ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ایسے نابالغ بچوں کو 25 سال کی عمر تک ڈرائیونگ لائسنس نہیں دیا جائے گا، اور جس گاڑی سے وہ پکڑے جائیں، اس کی رجسٹریشن ایک سال کے لیے منسوخ کر دی جائے گی۔اعداد و شمار کے مطابق، جنوری سے اب تک ورنگل کمشنریٹ میں 35278 کیس درج کیے جا چکے ہیں، جن میں 63 نابالغ ڈرائیورز بھی شامل ہیں۔ اس دوران 12552 گاڑیاں ضبط کی گئیں اور گاڑیاں دینے والے مالکان پر مجموعی طور پر 16 لاکھ 47 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
آخر میں پولیس کمشنر نے والدین اور گاڑی مالکان سے اپیل کی کہ وہ نابالغ بچوں اور بغیر لائسنس افراد کو گاڑی نہ دیں، ورنہ ان کے لیے قانونی مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔