Demand Raised to Curb Loot by Private Hospitals. CPI and People’s Organisations Launch Movement Against Private Hospital Exploitation
پرائیویٹ اسپتالوں کی لوٹ مار پر لگام لگانے کا مطالبہ۔آروگیہ شری مریضوں سے اضافی وصولیاں بند کی جائیں
اسپتال فیس میں معقولیت ناگزیر۔پرائیویٹ لوٹ مار کے خلاف سی پی آئی اور عوامی تنظیموں کی تحریک
حیدرآباد/ہنمکنڈہ:
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

سی پی آئی قائدین نے الزام عائد کیا ہے کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں طبی اخراجات پر کوئی مؤثر کنٹرول نہیں رہا اور علاج کے نام پر بے دریغ لوٹ مار جاری ہے۔ پیر کے روز ہنمکنڈہ بالاسمُدرم میں واقع سی پی آئی ضلعی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی پی آئی ضلعی ایگزیکٹو رکن ایدونوری وینکٹ راجم، بی کے ایم یو ضلعی سکریٹری کرّے لکشمن، اے آئی ٹی یو سی ضلعی صدر ویلپُلا سارنگ پانی، ضلعی ایگزیکٹو اراکین کوٹّے پاک روی، قائدین الُوالا راجو، دُمّٹی پروین کمار و دیگر نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ شمالی تلنگانہ میں ہنمکنڈہ طبی خدمات کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں ہر سال عوام ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم علاج پر خرچ کر رہے ہیں۔ سرکاری طبی سہولتیں ناکافی ہونے کے سبب غریب عوام کو پرائیویٹ اسپتالوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں لاکھوں روپے خرچ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ آروگیہ شری کے تحت علاج کے باوجود مریضوں سے اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ہی بیماری کے لیے مختلف اسپتالوں میں الگ الگ فیس وصول کی جا رہی ہے، حتیٰ کہ آئی سی یو بیڈ کے چارجز میں بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ قائدین نے الزام لگایا کہ پرائیویٹ اسپتالوں کی لوٹ مار روکنے والی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نظام اسپتال انتظامیہ کے اثر میں آ چکا ہے۔
سی پی آئی قائدین نے مزید کہا کہ پرائیویٹ لیاباریٹریز اور ڈائگناسٹک مراکز بھی من مانی وصولیاں کر رہے ہیں۔ بغیر اجازت چلنے والے مراکز کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ کئی اسپتالوں میں پارکنگ سہولت اور دیگر ضروری اجازت نامے موجود نہیں ہیں، اس کے باوجود نہ تو جانچ پڑتال ہوتی ہے اور نہ ہی کارروائی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اکثر اسپتالوں میں لکھی گئی دوائیں باہر دستیاب نہیں ہوتیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں فلم ’’ٹاگور‘‘ کی طرز پر ایک فوت شدہ شخص کے نام پر علاج دکھا کر لاکھوں روپے وصول کیے گئے، اور اس پر سوال اٹھانے والوں کو دھمکایا گیا۔ ایسے واقعات ضلع میں بار بار پیش آ رہے ہیں، مگر حکومتی مشینری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
سی پی آئی قائدین نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں پارٹی کی جانب سے پرائیویٹ اسپتالوں پر ایک سروے کیا گیا، جس میں چونکا دینے والی حقیقتیں سامنے آئیں۔ ان امور کو ضلع کلکٹر اور دیگر اعلیٰ حکام کی توجہ میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آنے والے دنوں میں تمام سیاسی جماعتوں، عوامی اور سماجی تنظیموں کو ساتھ لے کر اس مسئلہ پر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور جب تک پرائیویٹ اسپتالوں کی فیس لوٹ مار پر لگام نہیں لگتی، جدوجہد جاری رہے گی۔
دستور نیوز ڈاٹ کام